Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    جمعرات, اکتوبر 22, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • خیبر پختونخوا میں تعلیم ،صحت، امن سمیت عوامی فلاح کے تمام امور نظر انداز کئےگئے، وزیر اعظم شہبازشریف
    • پاکستان، قطر، ترکیہ اور انڈونیشیا کے درمیان دوحہ میں” بدر” مفاہمتی یادداشت پر دستخط
    • واشنگٹن ڈی سی: پاک-امریکہ ٹیک کنیکٹ 2026 کے تیسرے ایڈیشن کا انعقاد
    • خیبرپختونخوا میں گونر کی جانب سے ڈپٹی کمشنرز کو ایم پی او کے تحت گرفتاری اور نظر بندی کے اختیارات تفویض
    • بلوچستان کی پہلی ڈیجیٹل سٹیل ملز فعال، یومیہ 500 ٹن سریا تیار کرنے کی صلاحیت
    • پاکستان کا پہلا خلاباز چین سے خلائی سفر کے لیے تیار
    • فارما ایشیا 2026ء کراچی: دوسرے روز بھی ملکی و غیر ملکی کمپنیوں کی بھرپور شرکت
    • چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کی جانب سے تمام محکموں کو خریداری کے عمل کا جائزہ لینے اور اصلاحات کی ہدایت
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • خاص خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » آفریدی دور میں خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے 3,767 واقعات، 1,149 افراد جاں بحق ہونے کا انکشاف
    خاص خبریں اکتوبر 16, 2026

    آفریدی دور میں خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے 3,767 واقعات، 1,149 افراد جاں بحق ہونے کا انکشاف

    Facebook Twitter Email
    Share
    Facebook Twitter Email

    اسلام آباد: ایک سرکاری رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ آفریدی دور حکومت میں خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے 3,767 واقعات کے دوران سکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں سمیت 1,149 افراد جاں بحق جبکہ 2,595 زخمی ہوئے۔ رپورٹ میں صوبے کی بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتحال، انسدادِ دہشت گردی کے انتظامات اور صوبائی و وفاقی اداروں کے درمیان رابطہ کاری کا جائزہ لیا گیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق، جاں بحق ہونے والوں میں سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 550 اہلکار اور 599 شہری شامل ہیں۔ زخمیوں میں 1,704 سکیورٹی اہلکار اور 891 شہری شامل بتائے گئے ہیں۔

    یہ رپورٹ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے پس منظر میں تیار کی گئی ہے، جس میں صوبے میں امن و امان کی صورتحال اور انسدادِ دہشت گردی کے اقدامات سے متعلق مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا ہے۔

    صوبائی حکومت کی سکیورٹی پالیسی پر سوالات

    رپورٹ میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات کو جزوی طور پر صوبائی طرزِ حکمرانی کی خامیوں، انسدادِ دہشت گردی کی تیاریوں اور وفاقی سکیورٹی اداروں کے ساتھ رابطہ کاری میں کمزوریوں سے منسوب کیا گیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق، صوبائی حکومت کی انسدادِ دہشت گردی حکمتِ عملی اور وفاقی حکومت کے ساتھ مسلسل سیاسی محاذ آرائی کے دوران سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے اقدامات پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

    اس میں کہا گیا ہے کہ مارچ 2024 میں پی ٹی آئی کی قیادت میں صوبائی حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد چار طویل مارچوں سمیت احتجاجی سرگرمیوں کے 18 بڑے پروگرام منعقد ہوئے، جبکہ اسی عرصے میں صوبے میں عسکریت پسندی میں اضافے کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔

    رپورٹ میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ صوبائی حکومت کو پولیس اور محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کی استعداد بڑھانے، ان کی عملی صلاحیتیں بہتر بنانے اور ریاستی عمل داری برقرار رکھنے پر زیادہ توجہ دینی چاہیے تھی۔

    سکیورٹی اداروں کی صلاحیتوں میں خامیوں کی نشاندہی

    رپورٹ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو درپیش ساز و سامان اور تکنیکی صلاحیتوں کی کمی کو بھی اہم مسئلہ قرار دیا گیا ہے۔ اس کے مطابق، 2010 سے 2026 کے دوران انسدادِ دہشت گردی اور سکیورٹی اداروں کو مضبوط بنانے کے لیے صوبے کو 800 ارب روپے سے زائد فراہم کیے گئے، تاہم مختلف شعبوں میں خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔

    ان خامیوں میں جدید اسلحے، بکتر بند گاڑیوں، نگرانی کے آلات، خصوصی تربیت، تکنیکی عملے، فرانزک سہولیات اور سی ٹی ڈی کے لیے مخصوص بنیادی ڈھانچے کی کمی شامل ہے۔

    رپورٹ کے مطابق، ان شعبوں میں استعداد بڑھانا دہشت گردی کے خطرات سے مؤثر انداز میں نمٹنے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے۔

    عسکریت پسندی میں اضافے کی وجوہات

    رپورٹ میں عسکریت پسندی کی دوبارہ شدت کو جزوی طور پر 2021 میں پی ٹی آئی حکومت کی جانب سے عسکریت پسندوں کے ساتھ مفاہمت کی پالیسی سے بھی جوڑا گیا ہے۔

    اس میں یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ صوبائی حکومت نے انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں کو محدود سیاسی حمایت فراہم کی اور سکیورٹی آپریشنز کی متعدد مواقع پر مخالفت کی۔ یہ نکات رپورٹ کے تجزیے کا حصہ ہیں؛ ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق اور متعلقہ فریقوں کا مؤقف بھی اہم ہوگا۔

    پاکستان کی عالمی سکیورٹی صورتحال

    رپورٹ میں پاکستان کی مجموعی سکیورٹی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے انسٹی ٹیوٹ فار اکنامکس اینڈ پیس کے جاری کردہ گلوبل ٹیررازم انڈیکس 2026 کا ذکر کیا گیا ہے، جس کے مطابق پاکستان دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک قرار پایا۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں بڑھتے ہوئے سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے صوبائی قیادت کو زیادہ مؤثر کردار ادا کرنے، انسدادِ دہشت گردی کے اداروں کی صلاحیت بہتر بنانے اور صوبائی و وفاقی سکیورٹی اداروں کے درمیان قریبی رابطہ کاری یقینی بنانے کی ضرورت تھی۔

    رپورٹ کے مطابق، صوبے میں سکیورٹی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کیے گئے اقدامات اور انتظامی کارکردگی ان عوامل میں شامل ہیں جنہیں وفاقی حکومت کی مداخلت اور ایمرجنسی اقدامات کے فیصلے کے تناظر میں زیرِ بحث لایا جا رہا ہے۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleخیبر پختونخوا میں نجی اسکولوں کے قانون میں ترمیم پر سوالات، پی ٹی آئی رہنماؤں کو فائدہ پہنچانے کا الزام
    Next Article صوبے کے عوام خستہ حال سکولوں کی نشاندہی کریں، ممبر ایڈوائزری کونسل ثمر ہارون بلور کی اپیل
    Web Desk

    Related Posts

    خیبر پختونخوا میں تعلیم ،صحت، امن سمیت عوامی فلاح کے تمام امور نظر انداز کئےگئے، وزیر اعظم شہبازشریف

    اکتوبر 22, 2026

    پاکستان، قطر، ترکیہ اور انڈونیشیا کے درمیان دوحہ میں” بدر” مفاہمتی یادداشت پر دستخط

    اکتوبر 22, 2026

    واشنگٹن ڈی سی: پاک-امریکہ ٹیک کنیکٹ 2026 کے تیسرے ایڈیشن کا انعقاد

    اکتوبر 22, 2026

    Comments are closed.

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    خیبر پختونخوا میں تعلیم ،صحت، امن سمیت عوامی فلاح کے تمام امور نظر انداز کئےگئے، وزیر اعظم شہبازشریف

    اکتوبر 22, 2026

    پاکستان، قطر، ترکیہ اور انڈونیشیا کے درمیان دوحہ میں” بدر” مفاہمتی یادداشت پر دستخط

    اکتوبر 22, 2026

    واشنگٹن ڈی سی: پاک-امریکہ ٹیک کنیکٹ 2026 کے تیسرے ایڈیشن کا انعقاد

    اکتوبر 22, 2026

    خیبرپختونخوا میں گونر کی جانب سے ڈپٹی کمشنرز کو ایم پی او کے تحت گرفتاری اور نظر بندی کے اختیارات تفویض

    اکتوبر 22, 2026

    بلوچستان کی پہلی ڈیجیٹل سٹیل ملز فعال، یومیہ 500 ٹن سریا تیار کرنے کی صلاحیت

    اکتوبر 22, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.