نئی دہلی: بھارتی ریاست منی پور ایک بار پھر کشیدگی اور بدامنی کی لپیٹ میں آ گئی ہے جہاں متعدد مکانات آگ لگنے کے واقعات میں تباہ ہو گئے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ بے گناہ عوام کو نشانہ بنا کر اور گھروں کو نذر آتش کر کے مودی حکومت انتقامی سیاست پر اتر آئی ہے.
علیحدگی پسند گروہوں کے سامنے بے بس بھارتی فورسز اب نہتے شہریوں پر طاقت آزمانے لگی ہیں۔
بھارتی جریدے ’’انڈیا ٹوڈے‘‘ کے مطابق ضلع کانگپوکپی کے گاؤں کھارام وائپھیئی میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں پانچ مکانات مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔
رپورٹ کے مطابق کوکی تنظیموں نے واقعے کی غیرجانبدار تحقیقات اور ذمہ دار عناصر کے تعین کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حقائق سامنے لائے جائیں اور متاثرین کو انصاف فراہم کیا جائے۔
انڈیا ٹوڈے کے مطابق یہ واقعہ چرچ رہنماؤں کے قتل میں انصاف اور 14 یرغمال افراد کی رہائی کے مطالبے کے لیے جاری کوکی زو تنظیموں کی احتجاجی ریلیوں کے دوران پیش آیا۔
دوسری جانب منی پور کے ایک مزاحمتی گروہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر دعویٰ کیا ہے کہ بھارتی عسکری فورس آسام رائفلز نے علاقے اُکھرول میں بے گناہ افراد پر فائرنگ کی اور متعدد گھروں کو آگ لگا دی۔
عالمی ماہرین کے مطابق منی پور میں اندرونی خلفشار کے باعث بدامنی عروج پر پہنچ چکی ہے اور امن و امان کی صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آزادی کی تحریکوں کے زور پکڑتے ہی بھارتی ریاست نے نہتے عوام کے خلاف سخت اقدامات تیز کر دیے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی کی ہٹ دھرمی اور طاقت کے بے جا استعمال نے منی پور میں جاری بحران کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جس کے باعث خطے میں کشیدگی کم ہونے کے بجائے بڑھتی جا رہی ہے۔

