Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    منگل, ستمبر 8, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • پاسکو اور یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کی بندش کے عمل میں پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیرصدارت اجلاس
    • شزہ فاطمہ خواجہ کی LEAP 2026 میں شرکت، ٹیک ڈیسٹنیشن پاکستان پویلین کا افتتاح
    • پاک چین میڈیا تعاون ایشیا بحرالکاہل میں مشترکہ خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے،ڈاکٹر شذرہ منصب علی
    • سٹاک ایکسچینج: عام شہریوں کی شرکت سے معاشی ترقی تیز ہو سکتی ہے، یوسف رضا گیلانی
    • ویمنز ایشیا کپ: آئی سی سی نے قومی ٹیم کی کپتان فاطمہ ثناء پرجرمانہ عائد کردیا
    • خیبر پختونخوا میں عدالتوں کے ایک دن کے بائیکاٹ سےعوام کے 12 کروڑ روپے ضائع ہوتے ہیں، چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ
    • بھارت کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے حصول کیلئے اپنے وعدے پورے کرے، پاکستان
    • مادرِ وطن کا دفاع مقدس امانت ہے، ثابت قدمی سے نبھاتے رہیں گے: ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » یہود و ہنود کا گٹھ جوڑ امن کیلئے خطرہ
    بلاگ جون 27, 2025

    یہود و ہنود کا گٹھ جوڑ امن کیلئے خطرہ

    Facebook Twitter Email
    India-Israel Nexus: A Rising Threat to South Asian Peace
    Inspired by Israel’s Iran Strike, India Eyes Justification for Regional Aggression
    Share
    Facebook Twitter Email

    بھارت اور اسرائیل کے درمیان دفاعی شراکت داری ایک نئے خطرناک موڑ پر پہنچ چکی ہے، جو نہ صرف خطے کے توازن کو بگاڑ رہی ہے بلکہ جنوبی ایشیا کے امن و استحکام کو بھی خطرے میں ڈال رہی ہے۔ مودی سرکار کے تحت بھارت مسلسل ایسے اقدامات کر رہا ہے جو اسے خطے میں جارحیت کا جواز فراہم کریں، بالکل ویسے ہی جیسے اسرائیل نے ایران پر حملے کے لیے بین الاقوامی بیانیہ تیار کیا۔

    جون 2025 میں اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملے کو بھارت نے سراہا اور اسے ممکنہ ماڈل کے طور پر اپنانے کی خواہش ظاہر کی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت خطے میں اپنی بالادستی قائم کرنے کے لیے بین الاقوامی جارحیت کے فارمولے کو نقل کرنا چاہتا ہے۔

    گزشتہ ایک دہائی کے دوران بھارت نے اسرائیل، فرانس، روس اور دیگر مغربی ممالک سے اربوں ڈالر کے مہلک اور جدید ہتھیار حاصل کیے ہیں۔ 2018 میں بھارت نے اسرائیل سے بارک-8 میزائل سسٹم خریدا جو فضائی دفاع میں انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ فرانس سے 36 رافیل طیاروں کی خریداری کے لیے 9 ارب ڈالر کا معاہدہ کیا گیا، جسے بھارتی فضائی قوت میں ایک انقلابی قدم قرار دیا گیا۔ بھارت نے روس سے بھی S-400 میزائل دفاعی نظام حاصل کرنے کے لیے 5.4 ارب ڈالرز کی خطیر رقم خرچ کی، جو بھارت کی طویل فاصلے تک مار کرنے کی صلاحیت میں اضافے کی واضح علامت ہے۔

    اس کے ساتھ ساتھ بھارت اسرائیلی ساختہ ہیرپ اور ہیرن ڈرونز بھی بڑی تعداد میں درآمد کر رہا ہے جو نگرانی اور حملوں دونوں میں استعمال ہو سکتے ہیں۔ بھارت اور اسرائیل کے درمیان دفاعی شراکت داری صرف خریداری تک محدود نہیں بلکہ نائٹ وژن ٹیکنالوجی، کمیونیکیشن سسٹمز، اور مختلف اقسام کے میزائل کی مشترکہ تیاری میں بھی دونوں ممالک براہ راست شریک ہیں۔ اس ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور اشتراک نے بھارت کو مقامی سطح پر بھی جدید جنگی صلاحیتیں حاصل کرنے میں مدد دی ہے۔

    ان سب اقدامات کے نتیجے میں جنوبی ایشیا میں اسلحہ کی دوڑ میں شدید اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث خطے کے امن و امان کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔ بھارت کی مسلسل جنگی تیاریوں اور جارحانہ پالیسیوں نے پڑوسی ممالک، خاص طور پر پاکستان، کو دفاعی اقدامات پر مجبور کر دیا ہے۔ پاکستان نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ بھارت کے ہر قسم کے مذموم عزائم سے باخبر ہے اور اپنی قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ پاکستان نے نہ صرف ماضی میں بھارتی بالادستی کے خواب کو چکنا چور کیا بلکہ آئندہ بھی کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔

    پاکستانی قیادت اس بات پر متفق ہے کہ خطے میں پائیدار امن صرف اسی وقت ممکن ہے جب بھارت اپنے جنگی عزائم ترک کرے اور دفاعی بجائے سفارتی اور پرامن تعلقات کو ترجیح دے۔ تاہم، موجودہ بھارتی پالیسیوں اور بڑھتے ہوئے اسرائیلی اثر و رسوخ سے یہ واضح ہوتا ہے کہ بھارت خطے میں امن کے بجائے بالادستی کے خواب دیکھ رہا ہے، جس کے خطرناک نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleمیری حمایت کرنے والوں کو خیبرپختونخوا حکومت انتقام کا نشانہ بناتی ہے،جنید اکبر پھٹ پڑے
    Next Article دریائے سوات میں سیلابی ریلے میں 18 سیاحوں سمیت متعدد افراد ڈوب گئے، 9 افراد کی لاشوں کو نکال لیا گیا، دیگر کی تلاش جاری
    Tahseen Ullah Tasir
    • Facebook

    Related Posts

    پمز سانحے کے اصل حقائق

    اگست 26, 2026

    یوم آزادی کی قدر

    اگست 13, 2026

    شاہینوں کا وہ سپہ سالار جس نے فضاؤں کا نصاب بدل دیا

    اگست 7, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    پاسکو اور یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کی بندش کے عمل میں پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیرصدارت اجلاس

    ستمبر 7, 2026

    شزہ فاطمہ خواجہ کی LEAP 2026 میں شرکت، ٹیک ڈیسٹنیشن پاکستان پویلین کا افتتاح

    ستمبر 7, 2026

    پاک چین میڈیا تعاون ایشیا بحرالکاہل میں مشترکہ خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے،ڈاکٹر شذرہ منصب علی

    ستمبر 7, 2026

    سٹاک ایکسچینج: عام شہریوں کی شرکت سے معاشی ترقی تیز ہو سکتی ہے، یوسف رضا گیلانی

    ستمبر 7, 2026

    ویمنز ایشیا کپ: آئی سی سی نے قومی ٹیم کی کپتان فاطمہ ثناء پرجرمانہ عائد کردیا

    ستمبر 7, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.