Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بدھ, ستمبر 9, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • بلدیاتی انتخابات،خیبرپختونخوا حکومت کو قانون سازی کیلئے 3 ہفتے کی مہلت
    • خیبر پختونخوا کے بزرگ شہریوں کیلئے بی آر ٹی بسوں میں مفت سفر کی منظوری
    • پی ٹی آئی لانگ مارچ کیس کیلئے لارجر بینچ تشکیل، اٹارنی جنرل، چاروں چیف سیکرٹریز، ایڈووکیٹ جنرلز، آئی جیز طلب
    • وزیر اعظم شہبازشریف کی سعودی عرب پر بزدلانہ حوثی حملوں کی شدید مذمت
    • پاسکو اور یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کی بندش کے عمل میں پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیرصدارت اجلاس
    • شزہ فاطمہ خواجہ کی LEAP 2026 میں شرکت، ٹیک ڈیسٹنیشن پاکستان پویلین کا افتتاح
    • پاک چین میڈیا تعاون ایشیا بحرالکاہل میں مشترکہ خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے،ڈاکٹر شذرہ منصب علی
    • سٹاک ایکسچینج: عام شہریوں کی شرکت سے معاشی ترقی تیز ہو سکتی ہے، یوسف رضا گیلانی
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » پاکستانی معیشت میں بہتری: مہنگائی کم، روزگار میں اضافہ، اور عالمی اعتماد کی واپسی
    اہم خبریں جون 10, 2025

    پاکستانی معیشت میں بہتری: مہنگائی کم، روزگار میں اضافہ، اور عالمی اعتماد کی واپسی

    Facebook Twitter Email
    Share
    Facebook Twitter Email

    پاکستانی معیشت نے گزشتہ سال شدید بحران کے بعد اب بحالی اور ترقی کی راہ پکڑ لی ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ کی جانب سے پیش کردہ پاکستان اکنامک سروے 2024-25 کے مطابق ملک میں معاشی حالات میں واضح بہتری آئی ہے، اور اس کا فائدہ عوام، کاروباروں اور اوورسیز پاکستانیوں کو یکساں طور پر پہنچ رہا ہے۔

    ملک کی معیشت کا حجم بڑھ کر 411 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ ہر فرد کی اوسط آمدنی میں تقریباً 10 فیصد اضافہ ہوا ہے، جو اب 1,824 ڈالر تک جا پہنچی ہے۔ عام لوگوں کے لیے سب سے خوش آئند خبر مہنگائی میں تاریخی کمی ہے، جو 23 فیصد سے کم ہو کر 3.5 فیصد پر آ گئی ہے — یہ گزشتہ 60 سالوں میں سب سے کم سطح ہے۔ کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتیں بھی مستحکم ہوئی ہیں، اور فوڈ انفلیشن 48 فیصد سے کم ہو کر صرف 5.3 فیصد پر آ گئی ہے۔

    عوام اور کاروباری طبقے کے لیے بجلی کے بلوں میں نمایاں کمی کی گئی ہے۔ توانائی کے شعبے میں اصلاحات سے اربوں روپے کی بچت ہوئی ہے اور لائن لاسز میں بھی کمی آئی ہے۔ نوجوانوں اور خواتین کے لیے روزگار اور مہارتوں کے پروگرام شروع کیے گئے ہیں۔ 12,000 سے زائد خواتین کاروباری خواتین کو خصوصی پروگرامز کے ذریعے معاونت فراہم کی گئی۔ جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کے تحت 9.9 ملین غریب خاندانوں کی مدد کے لیے 593 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

    ٹیکس کے شعبے میں عام آدمی پر کوئی نیا بوجھ نہیں ڈالا گیا۔ حکومت نے ٹیکس کا دائرہ کار بڑھاتے ہوئے امیر طبقے پر توجہ مرکوز کی ہے۔ ڈیجیٹل ٹیکس نظام متعارف ہونے کے بعد صرف ایک سال میں ٹیکس فائلرز کی تعداد دوگنی ہو گئی ہے، اور زیادہ آمدن والے افراد کے ٹیکس فائلرز میں تین گنا اضافہ ہوا ہے۔

    صنعتی شعبے میں 4.8 فیصد اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر تعمیرات، توانائی اور چھوٹی صنعتوں میں ترقی دیکھی گئی ہے۔ سروسز سیکٹر جیسے کہ آئی ٹی، بینکنگ اور ٹرانسپورٹ بھی ترقی کر رہے ہیں۔ بینکنگ سیکٹر کے اثاثے 15.8 فیصد بڑھے ہیں، جس سے قرضوں کی دستیابی میں بہتری آئی ہے۔

    زرعی شعبے میں اگرچہ کچھ فصلیں موسمی اثرات سے متاثر ہوئیں، لیکن پولٹری، لائیو اسٹاک اور سبزیوں کی پیداوار میں بہتری آئی ہے۔ زرعی قرضوں میں 16 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس سے کسانوں کو مزید سرمایہ کاری کا موقع ملا ہے۔ دیہی مارکیٹوں میں استحکام اور قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے نئی حکمت عملیاں بھی متعارف کرائی گئی ہیں۔

    عالمی سطح پر بھی پاکستان پر اعتماد بحال ہوا ہے۔ آئی ایم ایف، ورلڈ بینک، موڈیز اور فِچ جیسی اداروں نے مثبت فیڈبیک دیا ہے۔ پاکستان کو پہلی بار 1.4 ارب ڈالر کی کلائمیٹ فنانسنگ ملی ہے۔ اسٹاک مارکیٹ نے 55 فیصد اضافہ کے ساتھ نئی بلندی کو چھوا ہے۔

    اوورسیز پاکستانیوں کا اعتماد بھی بحال ہو رہا ہے۔ ترسیلات زر 31.2 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہیں، جو کہ 31 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے ذریعے رقوم کی آمد 10 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے۔ بنا-راست کے نام سے ایک نیا کراس بارڈر پیمنٹ سسٹم بھی متعارف کرایا گیا ہے۔

    نوجوانوں کے لیے 56,000 سے زائد افراد کو آئی ٹی، ہوٹلنگ اور تکنیکی شعبوں میں تربیت دی گئی ہے۔ 1,900 سے زائد اسٹارٹ اپس کو مالی معاونت دی گئی، جنہوں نے 1,85,000 سے زیادہ نوکریاں پیدا کیں۔ فری لانسرز نے 400 ملین ڈالرز کمائے، جو ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کا ثبوت ہے۔

    ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے حکومت نے گرین سکوک بانڈز کے ذریعے 30 ارب روپے حاصل کیے، جو توقع سے کئی گنا زیادہ تھے۔ کاربن مارکیٹ پالیسی اور کلائمیٹ فنانسنگ اسٹریٹجی بھی متعارف کرائی گئی ہیں۔ اب 12.5 فیصد بجلی قابلِ تجدید ذرائع سے حاصل کی جا رہی ہے۔

    خلاصہ یہ ہے کہ پاکستان نے ایک سال میں نمایاں معاشی بہتری دیکھی ہے۔ مہنگائی میں تاریخی کمی آئی ہے۔

    • روزگار کے مواقع بڑھ رہے ہیں۔ خواتین، نوجوانوں، اور کسانوں کے لیے خصوصی سپورٹ دی جا رہی ہے۔ بیرونی سرمایہ کاروں اور اوورسیز پاکستانیوں کا اعتماد واپس آ چکا ہے۔ "یہ صرف بحالی نہیں بلکہ ایک مضبوط، منصفانہ پاکستان کی دوبارہ تعمیر ہے۔” — وزیر خزانہ

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleبھارت کا ہندوتوا نظریہ خطے کے لیے خطرہ ہے، صدر آصف علی زرداری
    Next Article آئندہ مالی سال کیلئے 17 ہزار 500 ارب روپے سے زائد حجم کا وفاقی بجٹ آج قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا
    Web Desk

    Related Posts

    بلدیاتی انتخابات،خیبرپختونخوا حکومت کو قانون سازی کیلئے 3 ہفتے کی مہلت

    ستمبر 8, 2026

    خیبر پختونخوا کے بزرگ شہریوں کیلئے بی آر ٹی بسوں میں مفت سفر کی منظوری

    ستمبر 8, 2026

    پی ٹی آئی لانگ مارچ کیس کیلئے لارجر بینچ تشکیل، اٹارنی جنرل، چاروں چیف سیکرٹریز، ایڈووکیٹ جنرلز، آئی جیز طلب

    ستمبر 8, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    بلدیاتی انتخابات،خیبرپختونخوا حکومت کو قانون سازی کیلئے 3 ہفتے کی مہلت

    ستمبر 8, 2026

    خیبر پختونخوا کے بزرگ شہریوں کیلئے بی آر ٹی بسوں میں مفت سفر کی منظوری

    ستمبر 8, 2026

    پی ٹی آئی لانگ مارچ کیس کیلئے لارجر بینچ تشکیل، اٹارنی جنرل، چاروں چیف سیکرٹریز، ایڈووکیٹ جنرلز، آئی جیز طلب

    ستمبر 8, 2026

    وزیر اعظم شہبازشریف کی سعودی عرب پر بزدلانہ حوثی حملوں کی شدید مذمت

    ستمبر 8, 2026

    پاسکو اور یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کی بندش کے عمل میں پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیرصدارت اجلاس

    ستمبر 7, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.