پاکستان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں سلامتی کونسل کے ویٹو پاور کے استعمال کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اصلاحات کے عمل میں ویٹو پاور کے مسئلے کو حل کرنا ضروری ہے، جو پانچ مستقل ارکان امریکہ، روس، چین، فرانس اور برطانیہ کے پاس ہے تاکہ 15 رکنی کونسل کا ادارہ جاتی تعطل ختم کیا جا سکے اور اسے زیادہ موثر اور منصفانہ بنایا جا سکے ۔
اقوام متحدہ میں پاکستان مشن کے قونصلر اور سیاسی رابطہ کار گل قیصر سروانی نے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں ویٹو پاور کے استعمال پر بحث کے دوران کہا کہ ویٹو پاور کا غلط استعمال سلامتی کونسل کی موثریت اور اقوام متحدہ کی ساکھ کو نقصان پہنچاتا ہے جبکہ پانچ مستقل ارکان کو اقوام متحدہ کے پورے نظام میں غیر معمولی اثر و رسوخ حاصل رہتا ہے ۔
اجلاس میں مختلف ممالک کے نمائندوں نے سلامتی کونسل کی تنظیمِ نو کے مطالبات دہرائے تاکہ یہ ادارہ بین الاقوامی امن و سلامتی برقرار رکھنے کے اپنے بنیادی مقصد کے حوالے سے زیادہ موثر اور جوابدہ بن سکے ۔
پاکستانی قونصلر نے بھارت، برازیل، جرمنی اور جاپان کی سلامتی کونسل میں مستقل نشستیں حاصل کرنے کی مہم کا حوالہ دیتے ہوئےکہا کہ مستقل ارکان اور ویٹو اختیارات میں اضافہ موجودہ عدم مساوات کو مزید گہرا کرے گا، تاریخی مراعات کو برقرار رکھے گا، طاقت کے نئے مراکز پیدا کرے گا اور ادارہ جاتی تعطل کے خطرے میں اضافہ کرے گا ۔
انہوں نے کہا کہ واضح رہے کہ مسائل کا حل مزید مسائل پیدا کرنا نہیں ہو سکتا، انہوں نے نشاندہی کی کہ پاکستان اور اٹلی کی قیادت میں قائم گروپ ’’یونائٹنگ فار کن سینسس‘‘ (اتحاد برائے اتفاقِ رائے) سلامتی کونسل کی توسیع کے دوران کسی بھی نئے ملک کو انفرادی طور پر مستقل رکن بنانے کی مخالفت کرتا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا موقف ہے کہ ویٹو پاور ختم کی جانی چاہیے یا کم از کم اس پر سخت پابندیاں عائد کی جانی چاہییں۔ اس اختیار کو مزید وسعت نہیں دی جانی چاہیے ۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان قرارداد 76/262 کی حمایت کرتا ہے، تاہم ویٹو کے استعمال کو محدود کرنے یا اس پر پابندیاں عائد کرنے کے تمام اقدامات اقوام متحدہ کے منشور کی متعلقہ دفعات سے مطابقت رکھنے چاہییں ۔
انہوں نے کہا کہ منتخب ارکان کی نمائندگی بڑھانے اور فیصلوں کی منظوری کے لیے درکار حمایت کی حد میں تبدیلی سےسلامتی کونسل کو زیادہ جمہوری بنایا جا سکتا ہے اور ویٹو کے استعمال پر موثر نگرانی ممکن ہو سکتی ہے ۔

