Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بدھ, مئی 13, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • ڈھاکہ ٹیسٹ میں بنگلا دیش نے پاکستان کو 104 رنز سے شکست دیدی
    • سوات کے سیلاب متاثرین سڑکوں پر،8 ماہ بعد بھی امدادی رقم نہیں ملی
    • پاکستان نے نور خان ایئر بیس پر ایرانی طیاروں کی موجودگی سے متعلق امریکی میڈیا کی خبر کو گمراہ کن قرار دیدیا
    • ملک میں عیدالاضحٰی 27 مئی کو ہونے کا امکان ہے، سپارکو
    • نوشہرہ میں معمولی تکرار پر دو گروپ میں فائرنگ،4 بھائی، باپ او دو بیٹے جاں بحق
    • لکی مروت: سرائے نورنگ بازار میں بم دھماکہ،ٹریفک پولیس اہلکاروں سمیت 9 افراد جاں بحق، 33 زخمی
    • ڈھاکہ ٹیسٹ کا چوتھا روز ختم، بنگلادیش نے 179 رنز کی مجموعی برتری حاصل کرلی، میچ کے ڈرا ہونے کا امکان
    • افغان حکومت کی ریاستی دہشتگردی، نہتے شہریوں کا قتلِ عام، املاک پر قبضے
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » پشاور پولیس لائن خودکش دھماکے میں مرکزی سہولت کارپولیس کانسٹیبل محمد ولی گرفتار ،آئی جی خیبرپختونخوا
    افغانستان

    پشاور پولیس لائن خودکش دھماکے میں مرکزی سہولت کارپولیس کانسٹیبل محمد ولی گرفتار ،آئی جی خیبرپختونخوا

    نومبر 12, 2024کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Police Constable Muhammad Wali arrested in Peshawar Police Line suicide blast, IG
    ملزم خیبرباڑہ سے خودکش حملہ آور کو پشاور لے آیا تھا،اختر حیات گنڈاپور
    Share
    Facebook Twitter Email

    پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انسپکٹر جنرل آپ پولیس خیبر پختونخوا اختر حیات خان گنڈاپور نے کہا ہے کہ

    کانسٹیبل محمد ولی کو رنگ روڈ جمیلی چوک پشاور سے گرفتار کیا گیا۔

    معاملات کی تہہ تک پہنچنا ہمارے کیلئے ایک چیلنج تھا، املزم دہشتگردی کے مزید منصوبوں پر کام کر رہا تھا،ملزم ویڈیو ز بنا کر ہنڈلرز کو بھیجتا تھا۔

    آئی جی خیبرپختونخوا نے کہا کہ ملزم خیبرباڑہ سے خودکش حملہ آور کو پشاور لے آیا تھا۔اس واقعے کو کچھ لوگوں نے غلط تاثر دینے کی کوشش کی۔

    پریس کانفرنس کے دوران گرفتار پولیس اہلکار محمد علی کے اقبال جرم پر مبنی بیان بھی میڈیا کے سامنے پیش کیا گیا ۔ جس میں مرکزی سہولت کے نے اہم انکشافات کئے اور بتایا کہ کس طرح اس نے خود دہشتگردوں کو پولیس پہنچانے میں ریکی کی ۔

    گرفتار دہشتگرد کا کہنا تھا کہ وہ خیبر پختونخوا پولیس میں  2019 میں بھرتی ہوا۔تعلق پشاور سے ہی ہے۔ 2021 میں فیس بک پر جنید نامی آئی ڈی سے رابطہ ہوا۔ جو جماعت الاحرار کا ریکروٹمنٹ ایجنٹ تھا ۔ وہ افغانستان میں بیٹھ کر سوشل میڈیا پر ریکروٹمنٹ کرتا تھا ۔ جنید نے مجھے افغانستان آ کر ملنے کے لیے کہا ۔ 2021 میں چھٹی لے کر چمن بارڈر سے افغانستان گیا ۔ جلال آباد افغانستان میں میری ملاقات جنید سے ہوئی ۔ جنید مجھے شونکڑے اور چکناور مرکز کنہڑ لے کر گیا ۔

    محمد ولی نے کہا کہ افغانستان کے صوبہ کنڑ میں میری ملاقات دہشت گرد کمانڈر صلاح الدین اور مکرم خراسانی سے ہوئی ، ملاقات کے بعد میں نے جماعت الاحرار میں شمولیت اختیار کر لی ، دہشت گرد کمانڈر ملا یوسف کے ہاتھ پر بیعت کی، جماعت الاحرار میں شامل ہونے پر مجھے بیس ہزار روپے ملے، واپسی پر افغان فورسز نے گرفتار کیا لیکن جماعت الاحرار کی مداخلت پر رہا کر دیا، 2023 میں میری ڈیوٹی پولیس لائن پشاور میں تھی۔

    محمد ولی نے بتایا کہ جنید نے مجھے کہا کہ کمانڈر خالد خراسانی کی  "شہادت”  کا بڑا بدلہ لینا ہے ، جنوری 2023 میں پولیس لائن کی تصویریں اور نقشہ ٹیلی گرام پر جنید کو دیا ، 20 جنوری 2023 کو خودکش حملہ آور کو چرسیاں مسجد، خیبر سے لے کر آیا اور پولیس لائن مسجد کی ریکی کروائی، حملہ آور کا نام قاری اور قومیت افغان تھی، سانحہ پولیس لائن والی صبح 11 بجے خودکش حملہ آور کو چرسیاں مسجد باڑا سے لینے گیا، مسجد میں حملہ آور خود کُش جیکٹ اور پولیس وردی سمیت موجود تھا۔

    اس نے کہا کہ حملہ آور کو چرسیاں مسجد سے موٹر سائیکل پر رحمان بابا قبرستان لے کر آیا، جہاں بمبار کو پولیس کی وردی اور خود کُش جیکٹ پہنائی، پھر موٹر سائیکل پر بٹھا کر پولیس لائن کے پاس چھوڑا، حملہ آور مسجد چلا گیا، میں گھر واپس آ گیا، دھماکہ ہو گیا تو جنید کو ٹیلی گرام پر پیغام بھیجا کہ حملہ کامیاب ہو گیا ہے، پولیس لائن خودکش حملہ کروانے پر مجھے دو لاکھ روپیہ معاوضہ ملا، جو میں نے ہنڈی حوالہ کے ذریعے موصول کیا۔

    محمد ولی نے کہا کہ پولیس لائن حملے کے علاوہ بھی بہت سی دہشت گرد کاروائیاں کیں، جنوری 2022 میں عیسائی پادری کو پشاور میں قتل کیا، 2023 اور 2024 میں وارسک روڈ پشاور پر متعدد آئی ای ڈیز حملے کروائے، دسمبر 2023 میں گیلانی مارکیٹ میں ہینڈ گریڈ حملہ کیا، فروری 2024 میں لاہور میں موجود جماعت الاحرار کے دہشت گرد سے رابطہ کیا، لاہور میں موجود جماعت الاحرار کے دہشت گرد کا نام سیف اللہ تھا، میں نے سیف اللہ کو پستول پہنچایا جس سے اس نے ایک قادیانی شخص کو قتل کیا۔

    اس نے بتایا کہ مارچ 2024 میں لاہور کے فیضان بٹ سے رابطہ ہوا، فیضان بٹ کو پستول دیا جس سے اس نے دو پولیس اہلکار شہید کیے، مئی 2024 میں پشاور کے مختلف مقامات پر دھماکہ خیز مواد دہشت گردی کے لیے فراہم کیا، جون 2024 میں دہشت گرد لقمان کو خودکش حملے کے لئے جیکٹ دے کر بس پر لاہور روانہ کیا، مگر لقمان پھٹنے سے پہلے ہی پکڑا گیا، جون 2024 میں ایک اور خود کش جیکٹ باڑہ خیبر سے رحمان بابا قبرستان پہنچائی۔

    محمد ولی نے مزید کہا کہ جون 2024 میں ایک اور خودکش جیکٹ موٹروے چوک پشاور میں چھپائی، ایک اور خود کش جیکٹ چمکنی پشاور میں چھپائی اور ویڈیو ثبوت جنید کو فراہم کیے، جماعت الاحرار سے ماہانہ 40 / 50 ہزار ملتے تھے، ماہانہ تنخواہ حوالہ ہنڈی کے ذریعے وصول کرتا تھا، 23 اگست 2024 جنید کے کہنے پر جمیل چوک پشاور سے دو خود کش جیکٹ لینے گیا۔

    واضح رہے پولیس لائن خودکش دھماکے میں 101 لوگ شہید اور 223 زخمی ہوئے تھے۔

     

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleافغانستان میں پوست کی کاشت میں 19 فی صد اضافہ
    Next Article دہ قصہ خوانی گپ۔۔کا چاچا طلو۔۔۔سلیم شوق دنیا سے جانے کے بعد اپنی یادیں باقی چھوڑ گیا
    Arshad Iqbal

    Related Posts

    سوات کے سیلاب متاثرین سڑکوں پر،8 ماہ بعد بھی امدادی رقم نہیں ملی

    مئی 12, 2026

    پاکستان نے نور خان ایئر بیس پر ایرانی طیاروں کی موجودگی سے متعلق امریکی میڈیا کی خبر کو گمراہ کن قرار دیدیا

    مئی 12, 2026

    ملک میں عیدالاضحٰی 27 مئی کو ہونے کا امکان ہے، سپارکو

    مئی 12, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    ڈھاکہ ٹیسٹ میں بنگلا دیش نے پاکستان کو 104 رنز سے شکست دیدی

    مئی 12, 2026

    سوات کے سیلاب متاثرین سڑکوں پر،8 ماہ بعد بھی امدادی رقم نہیں ملی

    مئی 12, 2026

    پاکستان نے نور خان ایئر بیس پر ایرانی طیاروں کی موجودگی سے متعلق امریکی میڈیا کی خبر کو گمراہ کن قرار دیدیا

    مئی 12, 2026

    ملک میں عیدالاضحٰی 27 مئی کو ہونے کا امکان ہے، سپارکو

    مئی 12, 2026

    نوشہرہ میں معمولی تکرار پر دو گروپ میں فائرنگ،4 بھائی، باپ او دو بیٹے جاں بحق

    مئی 12, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.