Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    پیر, فروری 23, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • لبیک یار رمضان: خودمختار ساوی کا دسترخوان مستحقین کے لیے سج گیا
    • لبیک یار رمضان کی خصوصی نشریات دنیابھر میں مقبول، مرحبا خیبر
    • خودمختار ساوی کی عملی خدمات انسانیت کی معراج ہیں، قمر زمان
    • کاروباری ہفتے کے پہلے روز بھی سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی
    • علیمہ خان کے 14ویں مرتبہ ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری
    • کوہاٹ میں فائرنگ سے لیڈی ڈاکٹر جاں بحق، ینگ ڈاکٹرز کا احتجاج
    • سرحد پار دہشتگردی پر برداشت کی حد ختم، منصوبہ ساز کہیں بھی ہوں کارروائی ہوگی: صدر آصف علی زرداری
    • پشین میں سکیورٹی فورسز کا انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، خودکش حملہ آور سمیت 5 دہشتگرد ہلاک
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » پولیس،پی ٹی آئی اور پشتون؟
    بلاگ

    پولیس،پی ٹی آئی اور پشتون؟

    اکتوبر 10, 2024کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Police, PTI and Pashtun
    آخر کب تک پی ٹی آئی پشتونوں کے ساتھ یہ چوہے بلی کا کھیل کھیلے گی؟
    Share
    Facebook Twitter Email

    ایک آدمی کے گھر نامعلوم چوروں نے رات کو چوری کی،صبح اس کے چند دوست ان سے اظہار ہمدردی کے لئے گئے،ایک دوست نے پوچھا کہ جب چور چوری کرنے آئے تو آپ کہاں سوئے تھے؟صحن میں یا کمرے میں؟ اس نے کہا کہ صحن میں،تو اس نے کہا کہ یار تمہیں کمرے میں سونا چاہئے تھا،دوسرے نے پوچھا کہ مین گیٹ کو بڑا تالا لگایا تھا یا چھوٹا؟اس نے کہا کہ درمیانہ تالا لگایا تھا،اس نے کہا کہ تمہیں بڑا تالا لگانا چاہئے تھا۔ تم بھی کیا پاگل ہو ان حالات میں کوئی چھوٹا تالا لگاتا ہے؟تیسرے نے کہا کہ دروازے کو زنجیر لگائی تھی یا بلٹ؟اس نے کہا کہ زنجیر ،تو اس نے کہا کہ تمہیں مضبوط بلٹ لگانی چاہئے تھی،اس آدمی نے کہا کہ یہ چھوڑو کہ میرے گھر چوری ہوئی ہے پہلے یہ بتاو کہ تم لوگ چوروں کی طرف ہو یا میری طرف داری کررہے ہو؟کیونکہ آپ کی ساری ہمدردیاں تو چوروں کے ساتھ ہیں اور آپ کی باتوں سے ایسا لگتا ہے کہ چور بالکل معصوم ہیں اور ساری غلطی میری ہے۔

    بالکل پی ٹی آئی بھی آج کل ایسا ہی کردار ادا کررہی ہے کہ اس کے بارے کسی کو معلوم نہیں کہ پی ٹی آئی وفاقی حکومت کے ساتھ ہے یا پشتونوں کے قتل کے خلاف؟ایک طرف وفاقی حکومت کے ساتھ محاذ جنگ پر،دوسری طرف صوبائی پولیس کو وفاقی حکومت(پی ٹی آئی کے بقول)کی ہدایات پر پشتونوں کو احتجاج سے روکا جارہاہے پھر ان پر فائرنگ کی جاتی ہے۔ تین نوجوان اس لئے موت کے گھاٹ اتارے گئے کہ ان کو اپنی سرزمین پر امن چاہئے تھا،ایک طرف وفاق پر چڑھائی دوسری طرف اپنے(پی ٹی آئی کے بیانات کے تناظر میں)تسلیم شدہ دشمن وزیرداخلہ کو سی ایم ہاوس میں دعوت،آخر کب تک پی ٹی آئی پشتونوں کے ساتھ یہ چوہے بلی کا کھیل کھیلے گی؟کب تک ان ہی پشتونوں کو لیکر اسلام آباد پر چھوڑ کر خود بارہ اضلاع سے گزر کر واپس آئینگے؟

    دوسری طرف پولیس کو بھی اس قدر بے بس کیا ہے کہ اکثر پولیس والے احساس کمتری کے شکار اور بہت سوں  کو ذہنی بیمار بنادیاہے،پولیس میں اس قدر مداخلت شائد پہلے کسی حکومت نے کی ہو جس طرح پی ٹی آئی کے کرتا دھرتا آج کررہے ہیں،رہی سہی کسر صوبائی حکومت کی حالیہ قانون سازی پوری کریگی،پہلے تو ایک ایس ایچ او کو ایک ہی دن میں پی ٹی آئی کی مداخلت پر دو ،دو دفعہ ٹرانسفر کیا جاتاتھا اب آر پی اوز،ڈی پی اوز اور ڈی آئی جیز کی یہ حالت ہوگی کہ کسی مقامی ایم پی اے یا ناظم کی شکایت پر ان کو سی ایم ہاوس کا ببرشیر(جس کی بہادری اسلام آباد دھرنے میں سب نے دیکھی)ایک ہی دن میں ادھر سے ادھر کے احکامات صادر فرماتے رہیں گے۔

    اسی پولیس سے اپنارعب ودبدبہ بھی قائم کروانا چاہتے ہیں،اسی پولیس کو غیرقانونی طور پر احتجاجوں میں بھی ڈالتے ہیں اور اسی پولیس کو زیرعتاب لانا بھی پی ٹی آئی کا شائد خفیہ منشور بن چکاہے؟

    پولیس کریں بھی تو کیا کریں؟وطن کی مٹی کی خاطر یوں سر ہتھیلیوں پر رکھ کر نچھاور کرتی رہیں،یا شہزادوں کی روز نئی نئی عذابوں سے خود کو بچائے؟

    آج ناظم صاحب ناراض ہے،کل ارباب صاحب نے کال کیا تھا،پرسوں ایم پی اے نے اس تبادلے پر ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔

    پولیس کے اعلیٰ آفیسرز اپنی ذمہ داریاں پوری کریں یا ان کی فرمانوں کی بجاآوری کو یقینی بنائیں؟

    خود پی ٹی آئی کو بھی سوچنا چاہئے کہ اس صوبے کی پولیس نے امن کی خاطر،وطن کی خاطر اور عوام کی خاطر کتنی قربانیاں دی ہیں،پھر ان پر اپنی قیادت کی برتری ثابت کرنے کے لئے کم از کم ان کو مزید عذابوں میں تو مبتلا نہ کیا جائے۔

    یہاں امن،روزگار،چاہئے،کرپشن کا خاتمہ ضروری ہے،مہنگائی نے عوام کا جینا محال کررکھاہے۔

    صرف خان کی آزادی عوام کا مسئلہ نہیں،خان کو نہ کھایا جاسکتاہے نہ پیا جاسکتاہے،اور بھی بہت سارے غم،مسئلے اور درد ہیں جن سے عوام گزر رہی ہیں،عوام نے ووٹ اپنے مسائل حل کرنے کے لئے دیا تھا نہ کہ احتجاجوں اور لڑائی جھگڑوں کے لئے۔

    کب تک اس دوغلی پالیسی سے عوام کو مطمئن کرنے کی ناکام کوششوں کا سہارا لیا جائیگا،خدا را اس قوم اور اس صوبے پر رحم کرو۔

    ورنہ اس کے بعد نہ چراغوں میں روشنی ہوگی نہ مونچوں  کو دینے کے لئے تیل دستیاب ہوگا۔

    پھر وہی ہو کا عالم ہوگا جس میں شہد اور شہد کی بوتلیں ہی ہر طرف نظر آئینگی،

    اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleخیبرپختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشنز کے دوران 4 دہشتگرد ہلاک
    Next Article بلوچستان کے ضلع دُکی میں کوئلےکی کانوں پرحملہ، 20 مزدور شہید
    Rashid Afaq
    • Website

    Related Posts

    کوہاٹ میں فائرنگ سے لیڈی ڈاکٹر جاں بحق، ینگ ڈاکٹرز کا احتجاج

    فروری 23, 2026

    امن کی کنجی کابل کے ہاتھ میں !

    فروری 22, 2026

    غربت کی نئی لہر اور معیشت کا کڑا امتحان

    فروری 21, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    لبیک یار رمضان: خودمختار ساوی کا دسترخوان مستحقین کے لیے سج گیا

    فروری 23, 2026

    لبیک یار رمضان کی خصوصی نشریات دنیابھر میں مقبول، مرحبا خیبر

    فروری 23, 2026

    خودمختار ساوی کی عملی خدمات انسانیت کی معراج ہیں، قمر زمان

    فروری 23, 2026

    کاروباری ہفتے کے پہلے روز بھی سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی

    فروری 23, 2026

    علیمہ خان کے 14ویں مرتبہ ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

    فروری 23, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.