پاکستان کے سیاسی بحران کو اکثر ریاستی اداروں اور ’’عوام‘‘ کے درمیان تصادم کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ یہ بیانیہ دیانت دارانہ نہیں۔ جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں وہ کسی فطری عوامی احتجاج کو طاقت کے ذریعے کچلنا نہیں، بلکہ ایک دانستہ طور پر تشکیل دیا گیا ڈیجیٹل ماحولیاتی نظام ہے، جو بڑی حد تک پی ٹی آئی سے منسلک ہے اور غصے کو آمدن اور سیاسی دباؤ میں تبدیل کرتا ہے۔
2022 کے بعد سے پی ٹی آئی ایک روایتی سیاسی جماعت کی طرح کام نہیں کر رہی۔ اس نے خود کو ایک تقسیم شدہ میڈیا نیٹ ورک کے طور پر منظم کیا ہے، جہاں بیرونِ ملک یوٹیوبرز، منافع بخش ایکس اکاؤنٹس، ٹیلیگرام چینلز اور وٹس ایپ سیلز بیانیے کے نفاذ کا کام کرتے ہیں۔ ان کا مقصد اصلاحات، احتساب یا پالیسی مباحثہ نہیں، بلکہ مسلسل شور کے ذریعے نظام کو غیر معتبر بنانا ہے۔
یہ فرق اس لیے اہم ہے کیونکہ پی ٹی آئی کے حامی عملی طور پر منظم غلط معلومات کو ’’عوامی غصے‘‘ کی آڑ میں جائز ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
پی ٹی آئی کے حامی دعویٰ کرتے ہیں کہ آن لائن غصہ خود بخود پیدا ہوتا ہے، مگر حقائق اس کے برعکس ہیں۔
اوّل، ہم آہنگی واضح اور بار بار دہرائی جانے والی ہے۔ گرفتاریاں، عدالتی فیصلے، عسکری بیانات، حتیٰ کہ خارجہ پالیسی سے متعلق خبریں،سب کے بعد چند منٹوں میں یکساں پیغامات سامنے آ جاتے ہیں۔ ایک جیسے الفاظ، ایک جیسے الزامات، ایک جیسے ہیش ٹیگز۔ یہ محض اتفاق نہیں، بلکہ منظم کارروائی ہے۔
دوم، اس کا مرکز پاکستان کی سڑکیں نہیں بلکہ بیرونِ ملک ہے۔ برطانیہ اور یورپ میں موجود یوٹیوبرز بیانیے کو تیز کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں، کیونکہ وہ پاکستانی قوانین سے محفوظ رہتے ہوئے پاکستان کے عدم استحکام میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ پی ٹی آئی سے منسلک چینلز نے خفیہ پھانسیوں، اجتماعی استعفوں، عدالتی سازشوں اور فوری تباہی جیسے الزامات پر پورا کاروباری ماڈل کھڑا کر لیا ہے۔ ان دعوؤں کے لیے کسی ثبوت کی ضرورت نہیں، مگر یہ سب کلکس، عطیات اور سپر چیٹس ضرور پیدا کرتے ہیں۔
عادل راجہ کو کوئی استثنیٰ حاصل نہیں لیکن یہ ایک نمونہ ہے۔ ایک سابق افسر جو یوٹیوبر بنا، جس کے دعوے تنقید سے بڑھ کر کھلی بہتان تراشی تک جا پہنچے، اور بالآخر لندن ہائیکورٹ کے فیصلے پر منتج ہوئے۔ اس کے باوجود، قانونی شکست کے بعد بھی اس کا بیانیہ نیٹ ورک قائم رہا، کیونکہ مقصد کبھی سچ نہیں تھا ہی نہیں ۔
سوم، مظلومیت کو منافع میں بدلا جاتا ہے۔ ہر فردِ جرم فسطائیت کا ثبوت بن جاتی ہے۔ ہر سزا شہادت قرار پاتی ہے۔ ہر ضمانت کی درخواست مسترد ہونا جبر کی علامت بن جاتا ہے۔ پی ٹی آئی کے ڈیجیٹل ونگ نے احتساب کو ظلم کے طور پر پیش کرنے میں مہارت حاصل کر لی ہے، جبکہ الزامات کے اصل مواد پر کبھی بات نہیں کی جاتی۔ کرپشن کے مقدمات سازش بن جاتے ہیں۔ دہشت گردی کے مقدمات سیاسی انتقام کہلاتے ہیں۔ عدالتیں ولن اور جج نشانے پر آ جاتے ہیں۔
پی ٹی آئی کے ان ہی اقدامات سے پاکستان کی معیشت کو نقصان پہنچا ہے۔ حکمرانی کی ناکامیاں حقیقت ہیں۔ مگر پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل اشرافیہ اس غصے سے فائدہ اٹھاتی ہے، اسے ہتھیار بناتی ہےاور پھر اسے حل کی طرف لے جانے کے بجائے ادارہ جاتی تخریب کاری کی طرف موڑ دیتی ہے۔
جب کوئی یوٹیوبر جھوٹا دعویٰ کرے کہ جج خفیہ طور پر قیدیوں کو پھانسی دے رہے ہیں، تو یہ اختلافِ رائے نہیں۔ جب بیرونِ ملک اکاؤنٹس بغیر ثبوت جرنیلوں پر قتل کے الزامات لگائیں، تو یہ آزادیٔ اظہار نہیں۔ جب آن لائن ہجوم کو عدالتوں، فوجی تنصیبات یا پولیس اسٹیشنوں پر حملے کے لیے اکسایا جائے، تو یہ جمہوریت نہیں۔ یہ اشتعال انگیزی ہےاور پاکستانی عدالتیں اس پر بارہا فیصلے دے چکی ہیں۔
انسدادِ دہشت گردی عدالتوں نے یہ معیار ایجاد نہیں کیا، بلکہ اسے نافذ کیا ہے۔
عمران خان کے قانونی مسائل کو آن لائن اس بات کے ثبوت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے کہ پاکستان نے قانون کی حکمرانی ترک کر دی ہے۔ یہ دلیل جانچ پڑتال پر پوری نہیں اترتی۔
خان کو ضمانت، عدالتوں تک رسائی، قانونی نمائندگی اور کھلی سماعتیں حاصل رہی ہیں۔ ان کے مقدمات عدالتوں میں چل رہے ہیں، غائب نہیں کیے گئے۔ اس کے باوجودپی ٹی آئی کا ڈیجیٹل بیانیہ ہر ناپسندیدہ فیصلے کو پورے نظام کی غیر قانونی حیثیت کا ثبوت بنا دیتا ہے۔
یہ انصاف کا معاملہ نہیں۔ یہ حامیوں کو اس بات کا عادی بنانے کی کوشش ہے کہ وہ ہر اس نتیجے کو رد کر دیں جو پی ٹی آئی کے حق میں نہ ہو۔ جس لمحے عدالتیں صرف اسی صورت قابلِ قبول ہوں جب وہ آپ کے حق میں فیصلہ دیں، اسی لمحے جمہوریت مر چکی ہوتی ہے۔
پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل حکمتِ عملی کے اثرات ایک جماعت سے کہیں آگے تک جاتے ہیں،یہ جھوٹ کو سیاسی شرکت کا معمول بناتی ہے،یہ شہریوں کو بیک وقت تمام اداروں پر عدم اعتماد سکھاتی ہے،یہ نوجوان پاکستانیوں کو یہ پیغام دیتی ہے کہ انتشار منافع بخش ہے۔
اور سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ یہ پاکستان کے عدم استحکام کو بین الاقوامی میڈیا تک پہنچاتی ہے، جہاں غیر مصدقہ دعوے سرخیوں، پالیسی بریفز اور تھنک ٹینک مباحث میں دھل کر ’’حقائق‘‘ بن جاتے ہیں۔ بغیر نام، اعداد و شمار یا ثبوت کے الزامات ’’خدشات‘‘ کہلاتے ہیں۔ تکرار ساکھ بن جاتی ہے۔
پی ٹی آئی چاہتی ہے کہ پاکستان یہ مان لے کہ اشتعال انگیزی اور بہتان کے خلاف قوانین کا نفاذ آمرانہ طرزِ عمل ہے۔ یہ ان کے لیے سہولت بخش ہے، کیونکہ اس طرح وہ مکمل آزادی اور صفر ذمہ داری سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔
کوئی بھی جمہوریت ہتھیار بنے ہوئے جھوٹ کو سرگرمی (ایکٹیوزم) کا لبادہ اوڑھنے کی اجازت نہیں دیتی،نہ برطانیہ، نہ امریکہ، نہ یورپ۔ پاکستان کوئی استثنا نہیں اور نہ ہی اسے ایسا بننے کی کوشش کرنی چاہیے۔
اگر پی ٹی آئی خود کو ایک جمہوری قوت کے طور پر منوانا چاہتی ہے تو اسے اپنی ڈیجیٹل کرائے کی ثقافت ختم کرنا ہوگی، غلط معلومات کی ڈیجیٹل دکانوں کو بند کرنا ہوگا، اور یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ عدالتیں دشمن نہیں ہوتیں محض اس لیے کہ وہ قانون پر عمل کرتی ہیں۔
تب تک، حقیقت تلخ سہی مگر ناقابلِ تردید ہے،یہ عوام کی آواز نہیں،یہ مستقل غصے پر کھڑا ایک کاروباری ماڈل ہے۔

