قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ اجلاس میں بھی خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی منظوری دے دی گئی ، دونوں ایوانوں میں پارلیمانی امور کے وفاقی وزیر طارق فضل چودھری نےقراردادیں پیش کیں ، دونوں ایوانوں نے کثرت رائے قراردادیں منظور کیں، جبکہ اپوزیشن نے احتجاج کیا اور نعرہ بازی بھی کی ۔
سینیٹ اجلاس کے دوران خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی قرارداد کثرت رائے سے منظور کرلی، پی ٹی آئی ارکان نے سینیٹ سے واک آؤٹ کیا، واک اوٹ کرتے وقت قرراداد کے خلاف نعرے بھی لگائے ۔
وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چودھری نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نفاذ منظوری کی قرارداد پیش کی، اپوزیشن نے احتجاج کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی، اور سینیٹ سے واک آؤٹ کیا ۔
چیئرمین یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت سینیٹ اجلاس میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی پر بحث کی گئی، اس دوران وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ اگر اپوزیشن کہتی ہے کہ بغیر بحث کے قرارداد پر ووٹ کروادیں تو میں کروا دیتا ہوں، کل بھی اس معاملے پر سینیٹ میں بات ہوئی ۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ہم ایمرجنسی پر بحث جاری رکھیں گے، یہ آئینی ضرورت ہے، ہم نے ایمرجنسی نفاذ قرارداد کی کاپی ممبران کے ٹیبل پر رکھ دی ہے، اپویشن ارکان کی ایمرجنسی مسترد کرنے کی قرارداد آئی ہیں، حکومت جو قرارداد لائی ہے وہ آئینی تقاضا ہے ۔
خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق کے لیے قرارداد وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چودھری نے ایوان میں پیش کی۔ اس موقع پر اپوزیشن کی جانب سے شدید نعرے بازی کی گئی ۔
قبل ازیں قرارداد پر بحث کی گئی، جس میں حکومتی اور اپوزیشن اراکین نے حصہ لیا اور اپنے خیالات کا اظہار کیا،چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعظم سے درخواست کی کہ ایک بار پھر ہمیں مذاکرات کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ کوئی درمیانی راستہ نکل سکے ۔
اس موقع پر اپوزیشن نےکے پی ایمرجنسی کے نفاذ کی مخالفت کی اور نعرےلگائے، قرارداد پر بحث میں حکومت اور اپوزیشن اراکین نے 4گھنٹے سے زائد بحث کی بعد ازاں اسمبلی کا اجلاس جمعہ کی صبح 11 بجے تک ملتوی کردیا گیا ۔

