Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    پیر, اکتوبر 5, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • افغانستان سے متعلق ماسکو فارمیٹ کا اجلاس، پاکستان کے اعلیٰ سطحی وفد کی اجلاس میں شرکت
    • خیبرپختونخوا میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی، ڈیرہ اسماعیل خان میں 3 خارجی دہشت گرد جہنم واصل
    • سرکاری حج سکیم: دوسری قسط کی وصولی آج رات سے شروع
    • اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کل پاکستان کا سرکاری دورہ کریں گے
    • 24 سال بعد نیشنل ہاؤسنگ پالیسی کا باضابطہ اجرا، بے گھر افراد کو چھت فراہمی میں پیش رفت
    • ہیلتھ سیکٹر میں خود انحصاری: ایس آئی ایف سی کی اصلاحات سے برآمدات بڑھانے کے اقدامات پر غور
    • ایشین گیمز اختتام پذیر، چین بازی لے گیا، پاکستان 10 میڈلز کے ساتھ 29ویں نمبر پر رہا
    • وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے لکی مروت سے لانگ مارچ کا آغاز کردیا
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » نوٹوں کی سیاست، نظریات کا جنازہ اور عوام کی بربادی
    بلاگ جولائی 26, 2025

    نوٹوں کی سیاست، نظریات کا جنازہ اور عوام کی بربادی

    Facebook Twitter Email
    The politics of notes, the funeral of ideologies and the ruin of the people
    تمام سیاسی جماعتیں اپنے نظریئے کو قربان کرکے ہوسِ اقتدار کی خاطر اصول پسندی کا پرچم ہاتھوں میں لئے کھڑے نظر آتے ہیں ۔
    Share
    Facebook Twitter Email

    پاکستان کے قیام کو ستتر برس سے زیادہ گزر چکے ہیں ۔ یہ ملک ایک نظریے کے نام پر وجود میں آیا تھا ۔ قربانیاں دی گئیں، لاکھوں لوگ لٹے پٹے اس سرزمین پر پہنچے کہ یہاں ایک ایسا نظام قائم ہو گا جو عدل، مساوات اور دیانت کے سنہری اصولوں پر کھڑا ہو گا۔ مگر وقت گزرتا گیا اور وہ نظریہ جس کے لئے یہ دھرتی بنی تھی، بتدریج کاغذ کے چند سطروں تک محدود ہو کر رہ گیا۔ اقتدار کے ایوانوں میں وہی چہرے بیٹھے جو کبھی سامراج کے ساتھ کھڑے تھے، وہی جاگیردار، وہی سرمایہ دار، وہی خاندانی اشرافیہ ۔ انہوں نے پرچم تو بدل لیا مگر سوچ اور طرزِ حکمرانی ویسی ہی رہی ۔

    اکثر الزام صرف فوج پر رکھا جاتا ہے کہ اس نے جمہوریت کے ساتھ زیادتی کی، آئین توڑا، اقتدار چھینا ۔ یہ حقیقت اپنی جگہ درست ہے لیکن اس سے بڑی سچائی یہ ہے کہ سب سے گہرا زخم خود سیاسی جماعتوں نے جمہوریت کے سینے پر لگایا ۔ وہ جماعتیں جو عوام کے ووٹ سے آئی تھیں، وہی بار بار غیر آئینی حکومتوں کا حصہ بنتی رہیں، مارشل لا کے ادوار میں جمہوری لبادہ اوڑھے بیٹھی رہیں، اقتدار کے تھوڑے سے حصے کے لئے ضمیر بیچتی رہیں ۔ اس گھناؤنے کھیل کی بنیاد اس وقت رکھی گئی جب محمد علی جناح جیسے عظیم رہنما نے بھی مجبوری یا موقع پرستی میں مسلم لیگ کی قیادت جاگیرداروں، سرمایہ داروں اور انگریز کے پروردہ طبقے کے حوالے کر دی ۔ صوبہ سرحد کی اسمبلی توڑنا ان کا ایسا قدم تھا جو آئین سے ہٹ کر تھا اور جس نے آگے چل کر اس سیاسی کلچر کو مزید بگاڑا ۔

    یہ ملک ہمیشہ دو حصوں میں بٹا رہا: ایک طرف وہ اشرافیہ جو ہر دور میں اقتدار کے دربار میں بیٹھتی ہے، جن کے اپنے الائنس ہیں، جن کی زمینیں، دولت اور طاقت کبھی کم نہیں ہوتیں ۔ دوسری طرف عوام ہیں جن کے لئے نہ کوئی نظریہ بچا، نہ کوئی سیاست، نہ کوئی جمہوریت ۔ یہاں ہر نعرہ اشرافیہ کے لئے تخلیق ہوا، ہر منشور انہی کے لئے لکھا گیا، ہر قربانی انہی کے لئے مانگی گئی ۔ عوام کے حصے میں ہمیشہ دھوکہ، ہمیشہ امید کے بدلے مایوسی آئی ۔

    آج بھی منظرنامہ وہی ہے ۔ فرح کھوکر جیسے کردار، جو تاجی کھوکر کا بیٹا ہے اور جس کا نام راولپنڈی اسلام آباد کے بدنام زمانہ ڈانز میں شامل ہے، مذہبی جماعت کے جھنڈے تلے سینیٹ پہنچتے ہیں ۔ ان کے ساتھ دلاور خان جیسے ارب پتی، جن کی پہچان ہی دولت ہے اور جو ایک جماعت سے دوسری جماعت میں ایسے کودتے ہیں جیسے نظریہ کوئی کپڑے کا سوٹ ہو جسے بدل لینا کوئی مسئلہ نہیں ۔ مولانا جیسے مذہبی رہنما نظریات، اخلاقیات اور ساری قدروں پر سمجھوتہ کر کے ایسے سرمایہ داروں کو آگے لاتے ہیں، انہیں ٹکٹ دیتے ہیں، انہیں ایوانوں میں پہنچاتے ہیں، اور کارکنوں کو صرف قربانی کے نام پر استعمال کرتے ہیں ۔

    آصف زرداری بھی اپنے سیاسی جوڑ توڑ کے لئے نظریے کو قربان کر کے طلحہ محمود جیسے لوگوں کو پارٹی کا چہرہ بناتے ہیں ۔ مسلم لیگ ن اپنی ہوسِ اقتدار میں امیر مقام کے آگے پارٹی گروی رکھ دیتی ہے، اور وہ اپنے نوخیز بیٹے کو سینیٹر بنوا دیتا ہے، کمال یہ کہ اس کے حق میں ووٹ دینے والوں میں وہ تحریک انصاف بھی شامل ہوتی ہے جو کل تک اصول پسندی کا پرچم اٹھائے کھڑی تھی ۔

    یہ صرف چند نام نہیں، یہ پورے سیاسی کلچر کی جیتی جاگتی تصویریں ہیں ۔ یہ سچ ہے کہ فوج نے بھی اس نظام کے ساتھ زیادتیاں کیں، لیکن سب سے بڑی زیادتی تو انہی سیاسی جماعتوں نے کی جو ہر غیر آئینی حکومت کا حصہ بننے کے لئے قطار میں کھڑی رہیں ۔ انہوں نے عوام کے خواب بیچے، نظریے کی بولی لگائی، جمہوریت کے نام پر نوٹوں کا کاروبار کیا ۔

    یہی وہ تقسیم ہے جس نے اس ملک کو برباد کیا: ایک طرف اشرافیہ کا مضبوط اتحاد، دوسری طرف عوام کی بکھری ہوئی، لاچار، محروم اکثریت ۔ کوئی سیاست، کوئی نعرہ، کوئی جمہوریت ان کے لئے نہیں ۔ جب تک عوام طبقاتی سیاست کو سمجھتے ہوئے اس اشرافیہ کے خلاف نہیں اٹھیں گے، جب تک یہ سوال نہیں کریں گے کہ نظریہ بچانا ہے یا بیچ دینا ہے، اس ملک کی تقدیر کبھی نہیں بدلے گی ۔ یہ دھرتی نظریے کے لئے بنی تھی، مگر ہم نے اسے دولت کے لئے گروی رکھ دیا ۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleاے این پی کے زیر اہتمام قومی امن جرگہ، خیبرپختونخوا میں بدامنی ناقابل برداشت ہے،اعلامیہ
    Next Article اسلام آباد سے لاہور جانے والی بس کو چکوال میں حادثہ، 9 افراد جاں بحق ،30 شدید زخمی
    Khalid Khan
    • Website

    Related Posts

    جب عوامی آوازیں دبتی ہیں، تو ریاستیں لرزتی ہیں. تحریر: قریش خٹک

    ستمبر 22, 2026

    پمز سانحے کے اصل حقائق

    اگست 26, 2026

    یوم آزادی کی قدر

    اگست 13, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    افغانستان سے متعلق ماسکو فارمیٹ کا اجلاس، پاکستان کے اعلیٰ سطحی وفد کی اجلاس میں شرکت

    اکتوبر 5, 2026

    خیبرپختونخوا میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی، ڈیرہ اسماعیل خان میں 3 خارجی دہشت گرد جہنم واصل

    اکتوبر 5, 2026

    سرکاری حج سکیم: دوسری قسط کی وصولی آج رات سے شروع

    اکتوبر 5, 2026

    اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کل پاکستان کا سرکاری دورہ کریں گے

    اکتوبر 5, 2026

    24 سال بعد نیشنل ہاؤسنگ پالیسی کا باضابطہ اجرا، بے گھر افراد کو چھت فراہمی میں پیش رفت

    اکتوبر 5, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.