Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    ہفتہ, ستمبر 12, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • برمنگھم ٹیسٹ: رضا اللہ نے ڈیبیو پر تیز ترین پاکستانی نصف سنچری کا ریکارڈ بنا دیا
    • پشاور کے 45 نجی اسکولوں میں افغان بچوں کے داخلوں کی نشاندہی، کارروائی کی تیاری
    • وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے انتخاب کے خلاف درخواست 14 ستمبر کو سماعت کے لیے مقرر
    • تمپ میں سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی، دہشت گردوں کا حملہ ناکام
    • پشاور میں سی ٹی ڈی کی کارروائی، اہم کمانڈر سمیت 5 دہشت گرد ہلاک
    • توڑ پھوڑ کيس، پی ٹی آئی کے 8 ایم این ایز اور ایم پی ایز کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری، گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم
    • پاکستان میں ڈیجیٹل لین دین کرنے والوں کی تعداد 20 لاکھ سے تجاوز
    • خیبر؛ پولیس کی بڑی کارروائی، ایک ماہ قبل اغوا ہونے والا تاجر غار سے بازیاب
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » نوٹوں کی سیاست، نظریات کا جنازہ اور عوام کی بربادی
    بلاگ جولائی 26, 2025

    نوٹوں کی سیاست، نظریات کا جنازہ اور عوام کی بربادی

    Facebook Twitter Email
    The politics of notes, the funeral of ideologies and the ruin of the people
    تمام سیاسی جماعتیں اپنے نظریئے کو قربان کرکے ہوسِ اقتدار کی خاطر اصول پسندی کا پرچم ہاتھوں میں لئے کھڑے نظر آتے ہیں ۔
    Share
    Facebook Twitter Email

    پاکستان کے قیام کو ستتر برس سے زیادہ گزر چکے ہیں ۔ یہ ملک ایک نظریے کے نام پر وجود میں آیا تھا ۔ قربانیاں دی گئیں، لاکھوں لوگ لٹے پٹے اس سرزمین پر پہنچے کہ یہاں ایک ایسا نظام قائم ہو گا جو عدل، مساوات اور دیانت کے سنہری اصولوں پر کھڑا ہو گا۔ مگر وقت گزرتا گیا اور وہ نظریہ جس کے لئے یہ دھرتی بنی تھی، بتدریج کاغذ کے چند سطروں تک محدود ہو کر رہ گیا۔ اقتدار کے ایوانوں میں وہی چہرے بیٹھے جو کبھی سامراج کے ساتھ کھڑے تھے، وہی جاگیردار، وہی سرمایہ دار، وہی خاندانی اشرافیہ ۔ انہوں نے پرچم تو بدل لیا مگر سوچ اور طرزِ حکمرانی ویسی ہی رہی ۔

    اکثر الزام صرف فوج پر رکھا جاتا ہے کہ اس نے جمہوریت کے ساتھ زیادتی کی، آئین توڑا، اقتدار چھینا ۔ یہ حقیقت اپنی جگہ درست ہے لیکن اس سے بڑی سچائی یہ ہے کہ سب سے گہرا زخم خود سیاسی جماعتوں نے جمہوریت کے سینے پر لگایا ۔ وہ جماعتیں جو عوام کے ووٹ سے آئی تھیں، وہی بار بار غیر آئینی حکومتوں کا حصہ بنتی رہیں، مارشل لا کے ادوار میں جمہوری لبادہ اوڑھے بیٹھی رہیں، اقتدار کے تھوڑے سے حصے کے لئے ضمیر بیچتی رہیں ۔ اس گھناؤنے کھیل کی بنیاد اس وقت رکھی گئی جب محمد علی جناح جیسے عظیم رہنما نے بھی مجبوری یا موقع پرستی میں مسلم لیگ کی قیادت جاگیرداروں، سرمایہ داروں اور انگریز کے پروردہ طبقے کے حوالے کر دی ۔ صوبہ سرحد کی اسمبلی توڑنا ان کا ایسا قدم تھا جو آئین سے ہٹ کر تھا اور جس نے آگے چل کر اس سیاسی کلچر کو مزید بگاڑا ۔

    یہ ملک ہمیشہ دو حصوں میں بٹا رہا: ایک طرف وہ اشرافیہ جو ہر دور میں اقتدار کے دربار میں بیٹھتی ہے، جن کے اپنے الائنس ہیں، جن کی زمینیں، دولت اور طاقت کبھی کم نہیں ہوتیں ۔ دوسری طرف عوام ہیں جن کے لئے نہ کوئی نظریہ بچا، نہ کوئی سیاست، نہ کوئی جمہوریت ۔ یہاں ہر نعرہ اشرافیہ کے لئے تخلیق ہوا، ہر منشور انہی کے لئے لکھا گیا، ہر قربانی انہی کے لئے مانگی گئی ۔ عوام کے حصے میں ہمیشہ دھوکہ، ہمیشہ امید کے بدلے مایوسی آئی ۔

    آج بھی منظرنامہ وہی ہے ۔ فرح کھوکر جیسے کردار، جو تاجی کھوکر کا بیٹا ہے اور جس کا نام راولپنڈی اسلام آباد کے بدنام زمانہ ڈانز میں شامل ہے، مذہبی جماعت کے جھنڈے تلے سینیٹ پہنچتے ہیں ۔ ان کے ساتھ دلاور خان جیسے ارب پتی، جن کی پہچان ہی دولت ہے اور جو ایک جماعت سے دوسری جماعت میں ایسے کودتے ہیں جیسے نظریہ کوئی کپڑے کا سوٹ ہو جسے بدل لینا کوئی مسئلہ نہیں ۔ مولانا جیسے مذہبی رہنما نظریات، اخلاقیات اور ساری قدروں پر سمجھوتہ کر کے ایسے سرمایہ داروں کو آگے لاتے ہیں، انہیں ٹکٹ دیتے ہیں، انہیں ایوانوں میں پہنچاتے ہیں، اور کارکنوں کو صرف قربانی کے نام پر استعمال کرتے ہیں ۔

    آصف زرداری بھی اپنے سیاسی جوڑ توڑ کے لئے نظریے کو قربان کر کے طلحہ محمود جیسے لوگوں کو پارٹی کا چہرہ بناتے ہیں ۔ مسلم لیگ ن اپنی ہوسِ اقتدار میں امیر مقام کے آگے پارٹی گروی رکھ دیتی ہے، اور وہ اپنے نوخیز بیٹے کو سینیٹر بنوا دیتا ہے، کمال یہ کہ اس کے حق میں ووٹ دینے والوں میں وہ تحریک انصاف بھی شامل ہوتی ہے جو کل تک اصول پسندی کا پرچم اٹھائے کھڑی تھی ۔

    یہ صرف چند نام نہیں، یہ پورے سیاسی کلچر کی جیتی جاگتی تصویریں ہیں ۔ یہ سچ ہے کہ فوج نے بھی اس نظام کے ساتھ زیادتیاں کیں، لیکن سب سے بڑی زیادتی تو انہی سیاسی جماعتوں نے کی جو ہر غیر آئینی حکومت کا حصہ بننے کے لئے قطار میں کھڑی رہیں ۔ انہوں نے عوام کے خواب بیچے، نظریے کی بولی لگائی، جمہوریت کے نام پر نوٹوں کا کاروبار کیا ۔

    یہی وہ تقسیم ہے جس نے اس ملک کو برباد کیا: ایک طرف اشرافیہ کا مضبوط اتحاد، دوسری طرف عوام کی بکھری ہوئی، لاچار، محروم اکثریت ۔ کوئی سیاست، کوئی نعرہ، کوئی جمہوریت ان کے لئے نہیں ۔ جب تک عوام طبقاتی سیاست کو سمجھتے ہوئے اس اشرافیہ کے خلاف نہیں اٹھیں گے، جب تک یہ سوال نہیں کریں گے کہ نظریہ بچانا ہے یا بیچ دینا ہے، اس ملک کی تقدیر کبھی نہیں بدلے گی ۔ یہ دھرتی نظریے کے لئے بنی تھی، مگر ہم نے اسے دولت کے لئے گروی رکھ دیا ۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleاے این پی کے زیر اہتمام قومی امن جرگہ، خیبرپختونخوا میں بدامنی ناقابل برداشت ہے،اعلامیہ
    Next Article اسلام آباد سے لاہور جانے والی بس کو چکوال میں حادثہ، 9 افراد جاں بحق ،30 شدید زخمی
    Khalid Khan
    • Website

    Related Posts

    پمز سانحے کے اصل حقائق

    اگست 26, 2026

    یوم آزادی کی قدر

    اگست 13, 2026

    شاہینوں کا وہ سپہ سالار جس نے فضاؤں کا نصاب بدل دیا

    اگست 7, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    برمنگھم ٹیسٹ: رضا اللہ نے ڈیبیو پر تیز ترین پاکستانی نصف سنچری کا ریکارڈ بنا دیا

    ستمبر 12, 2026

    پشاور کے 45 نجی اسکولوں میں افغان بچوں کے داخلوں کی نشاندہی، کارروائی کی تیاری

    ستمبر 12, 2026

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے انتخاب کے خلاف درخواست 14 ستمبر کو سماعت کے لیے مقرر

    ستمبر 12, 2026

    تمپ میں سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی، دہشت گردوں کا حملہ ناکام

    ستمبر 11, 2026

    پشاور میں سی ٹی ڈی کی کارروائی، اہم کمانڈر سمیت 5 دہشت گرد ہلاک

    ستمبر 10, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.