Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    جمعرات, جون 4, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدہ، برطانوی پارلیمان میں بحث، انسانی حقوق سے متعلق تشویش کا اظہار
    • فوزیہ کوفی نے افغان طالبان رجیم کا بھیانک چہرہ بے نقاب کردیا
    • برآمدات پر مبنی ترقیاتی اہداف کا حصول ہماری اولین ترجیح ہے ، وزیراعظم شہباز شریف
    • سولر صارفین پر اضافی بوجھ ڈالنے کا کوئی منصوبہ نہیں، پاور ڈویژن
    • نائب وزیراعظم کی سلامتی کونسل کے نئے غیر مستقل اراکین کو منتخب ہونے پر مبارکباد
    • ایران جنگ سے پہلے کے مقابلے میں زیادہ مضبوط ہو چکا ہے، عباس عراقچی
    • کویت ایئرپورٹ پر مبینہ ایرانی ڈرون حملے کی سی سی ٹی وی فوٹیج جاری
    • آئندہ وفاقی بجٹ مہنگائی کا نیا طوفان لائے گا، شوکت یوسف زئی
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » انسانی سمگلنگ کا سدباب مگر کب اور کیسے ؟
    بلاگ

    انسانی سمگلنگ کا سدباب مگر کب اور کیسے ؟

    جنوری 26, 2025Updated:جنوری 26, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    The solution to human trafficking, but when and how
    ہر بڑے حادثے کے بعد حکومت کی جانب سے انسانی سمگلروں کے خلاف کارروائیاں تیز کرنے کا اعلان کیا جاتا ہے ۔
    Share
    Facebook Twitter Email

    اسلام آباد(ارشد اقبال) وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان میں انسانی سمگلنگ میں ملوث گروہوں کے سدباب کیلئے خصوصی ٹاسک فورس قائم کردی اور اعلان کیا کہ حکومت انسانیت کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچائے گی ۔ گزشتہ جمعے کو ہوئے اجلاس میں یہ فیصلہ بھی ہوا ہے کہ ٹاسک فورس کی سربراہی وزیراعظم خود کریں گے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ انسانی اسمگلنگ میں ملوث گروہوں کی گرفتاریوں میں تیزی لائی جائے، تمام ادارے بشمول وزارت خارجہ انسانی سمگلروں کی نشاندہی میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں ۔

    وزیراعظم کی جانب سے ٹاسک فورس کے قیام کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ پاکستا ن میں اس حوالے قوانین یا ادارے متحرک نہیں ۔ سب کچھ ہے لیکن جو لوگ اس مکروہ دھندے میں ملوث ہیں وہ باز نہیں آتے ۔ اور جو لوگ یورپی ممالک جانے کیلئے ان ایجنٹس کی باتوں میں آتے ہیں وہ بھی  اپنا یہ طریقہ نہیں چھوڑتے ۔ لیکن جب ان کی کشتیاں ڈوبتی ہیں یا سخت راستوں مین ان پر فائرنگ کی جاتی ہے تب اگر یہ زندہ بچ جاتے ہیں تو ان کو سمجھ آجاتی ہے ۔

    ایک اندازے کے مطابق ہر سال پاکستان سے کم و بیش 20 ہزار لوگ غیرقانونی طور پر یورپ اور دوسرے ممالک جاتے ہیں، اس کے لیے جو روٹ سب سے زیادہ استعمال ہوتا ہے ، وہ بلوچستان سے ایران، عراق اور ترکی کے ذریعے یونان اور اٹلی وغیرہ ہے۔ نقل مکانی کے متعلق کام کرنے والی عالمی تنظیم انٹرنیشنل ارگنائزیشن فار مائیگریشن یعنی (آئی او ایم) کی ایک رپورٹ کے مطابق نہ صرف پاکستانی بلکہ افغانستان، بنگلہ دیش اور خطے کے کئی دوسرے ممالک کے افراد بھی غیرقانونی طور پر یورپ جانے کے لیے یہی راستہ اور طریقہ استعمال کرتے ہیں ۔

    ایران کے سنگلاخ پہاڑوں سے یونان کے سمندروں تک، ہر سال اَن گنت نوجوان اپنی جانیں گنوا دیتے ہیں۔ تارکینِ وطن میں بڑی تعداد پاکستانی نوجوانوں کی بھی ہوتی ہے۔ ہر بڑے حادثے کے بعد حکومت کی جانب سے انسانی سمگلروں کے خلاف کارروائیاں تیز کرنے کا اعلان کیا جاتا ہے مگر پھر یہ کارروائیاں وقت کی گرد تلے دب جاتی ہیں۔اور پھر کچھ عرصہ گزرنے کے بعد ایک اور کشتی ڈوبتی ہے تو ایک بار پھر ادارے اور حکومت متحریک ہوجاتے ہیں ، اس دوران کئی ایجنٹس بھی پکڑے جاتے ہیں ،کئی لاشیں بھی پاکستان آتی ہیں اور متعدد وہ لوگ بھی لائے جاتے ہیں جو خوش قسمتی سے بچ جاتے ہیں  لیکن یہ دھندا پھر جاری رہتا ہے ۔

    اب سوال یہ ہے  کہ یہ مافیا جو انسانی سمگلنگ میں ملوث ہےاس کا خاتمہ  کیوں نہیں کیا جاتا ؟ ہر حکومت میں ایسے کیسز سامنے آتے ہیں ، وقتی طور پر بہت چیخ و پکار کی جاتی ہے  لیکن نہ تو ادارے اصل مجرموں تک پہنچتے ہیں اور نہ ہی یہ دھندا ختم ہوتا ہے ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حلف اٹھاتے ہی غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف حکم جاری کی اور اگلے ہی دن 500سے زائد تارکین وطن کو گرفتار کرکے ہوائی جہازوں میں ملک بدر کردیا گیا ۔

    انسانی سمگلنگ کا سد باب ابھی یا کبھی نہیں کے مصداق اب جب کہ وزیراعظم نے خود اپنی نگرانی اس دھندے کے خاتمے کا فیصلہ کیا ہے اور اس مکروہ دھندے میں ملوث افراد کے سخت کارروائی کی ہدایت بھی ہے تو امید کی جا سکتی ہے کہ  موجودہ حکومت کی مدت پوری ہونے سے قبل پاکستان سے سے اس دھندے کا خاتمہ ہو جائے گا ۔وزیراعظم اسی طرح ہر ہفتے اس معاملے پر اجلاس کی صدارت جاری رکھیں اور ملک کے جس حصے میں بھی اس مکروہ کاروبار سے منسلک لوگ ہوں ان کو کیفرکردار کردار تک پہنچایا جائے ۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleطالبان کے سروں پر قیمتوں کا طوفان،نئی امریکی انتظامیہ کی افغان پالیسی پر شدید ردعمل
    Next Article ویسٹ انڈیز نے پاکستان کو دوسرے ٹیسٹ میں شکست دیکر سیریز برابر کردی
    Arshad Iqbal

    Related Posts

    خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی نئی لہر، تحریر: قریش خٹک

    مئی 13, 2026

    ہم نے ایک آفتاب کھو دیا!

    مئی 6, 2026

    آٹے کے صندوق میں بند دو کلیاں

    مئی 5, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدہ، برطانوی پارلیمان میں بحث، انسانی حقوق سے متعلق تشویش کا اظہار

    جون 4, 2026

    فوزیہ کوفی نے افغان طالبان رجیم کا بھیانک چہرہ بے نقاب کردیا

    جون 4, 2026

    برآمدات پر مبنی ترقیاتی اہداف کا حصول ہماری اولین ترجیح ہے ، وزیراعظم شہباز شریف

    جون 4, 2026

    سولر صارفین پر اضافی بوجھ ڈالنے کا کوئی منصوبہ نہیں، پاور ڈویژن

    جون 4, 2026

    نائب وزیراعظم کی سلامتی کونسل کے نئے غیر مستقل اراکین کو منتخب ہونے پر مبارکباد

    جون 4, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.