Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    منگل, ستمبر 22, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • بلوچستان کے علاقے ساران تنگی میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 6 دہشتگرد ہلاک
    • کراچی پورٹ کی عالمی شپنگ رابطہ انڈیکس میں تاریخی کامیابی
    • پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ
    • آسان ٹیکس سکیم: ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا اور دکانداروں کو ٹیکس ادائیگی میں سہولت فراہم کرنا بنیادی مقصد ہے، بلال اظہر کیانی
    • وزیراعظم کے کفایت شعاری اقدامات: وزارتِ ریلوے میں اہم فیصلے
    • بلوچستان میں سماعت سے محروم بچوں کے لیے پہلا ڈیف چلڈرن ایکسی لینس اینڈ ریسرچ سینٹر قائم
    • پشاور میں قبر کھود کر بچوں کی لاشوں کی بے حرمتی کرنے والا درندہ صفت افغانی گرفتار
    • جماعت اسلامی نے وزیراعظم کی وطن واپسی تک لانگ مارچ مؤخر کرنے کا اعلان کردیا
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » انسانی سمگلنگ کا سدباب مگر کب اور کیسے ؟
    بلاگ جنوری 26, 2025

    انسانی سمگلنگ کا سدباب مگر کب اور کیسے ؟

    Facebook Twitter Email
    The solution to human trafficking, but when and how
    ہر بڑے حادثے کے بعد حکومت کی جانب سے انسانی سمگلروں کے خلاف کارروائیاں تیز کرنے کا اعلان کیا جاتا ہے ۔
    Share
    Facebook Twitter Email

    اسلام آباد(ارشد اقبال) وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان میں انسانی سمگلنگ میں ملوث گروہوں کے سدباب کیلئے خصوصی ٹاسک فورس قائم کردی اور اعلان کیا کہ حکومت انسانیت کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچائے گی ۔ گزشتہ جمعے کو ہوئے اجلاس میں یہ فیصلہ بھی ہوا ہے کہ ٹاسک فورس کی سربراہی وزیراعظم خود کریں گے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ انسانی اسمگلنگ میں ملوث گروہوں کی گرفتاریوں میں تیزی لائی جائے، تمام ادارے بشمول وزارت خارجہ انسانی سمگلروں کی نشاندہی میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں ۔

    وزیراعظم کی جانب سے ٹاسک فورس کے قیام کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ پاکستا ن میں اس حوالے قوانین یا ادارے متحرک نہیں ۔ سب کچھ ہے لیکن جو لوگ اس مکروہ دھندے میں ملوث ہیں وہ باز نہیں آتے ۔ اور جو لوگ یورپی ممالک جانے کیلئے ان ایجنٹس کی باتوں میں آتے ہیں وہ بھی  اپنا یہ طریقہ نہیں چھوڑتے ۔ لیکن جب ان کی کشتیاں ڈوبتی ہیں یا سخت راستوں مین ان پر فائرنگ کی جاتی ہے تب اگر یہ زندہ بچ جاتے ہیں تو ان کو سمجھ آجاتی ہے ۔

    ایک اندازے کے مطابق ہر سال پاکستان سے کم و بیش 20 ہزار لوگ غیرقانونی طور پر یورپ اور دوسرے ممالک جاتے ہیں، اس کے لیے جو روٹ سب سے زیادہ استعمال ہوتا ہے ، وہ بلوچستان سے ایران، عراق اور ترکی کے ذریعے یونان اور اٹلی وغیرہ ہے۔ نقل مکانی کے متعلق کام کرنے والی عالمی تنظیم انٹرنیشنل ارگنائزیشن فار مائیگریشن یعنی (آئی او ایم) کی ایک رپورٹ کے مطابق نہ صرف پاکستانی بلکہ افغانستان، بنگلہ دیش اور خطے کے کئی دوسرے ممالک کے افراد بھی غیرقانونی طور پر یورپ جانے کے لیے یہی راستہ اور طریقہ استعمال کرتے ہیں ۔

    ایران کے سنگلاخ پہاڑوں سے یونان کے سمندروں تک، ہر سال اَن گنت نوجوان اپنی جانیں گنوا دیتے ہیں۔ تارکینِ وطن میں بڑی تعداد پاکستانی نوجوانوں کی بھی ہوتی ہے۔ ہر بڑے حادثے کے بعد حکومت کی جانب سے انسانی سمگلروں کے خلاف کارروائیاں تیز کرنے کا اعلان کیا جاتا ہے مگر پھر یہ کارروائیاں وقت کی گرد تلے دب جاتی ہیں۔اور پھر کچھ عرصہ گزرنے کے بعد ایک اور کشتی ڈوبتی ہے تو ایک بار پھر ادارے اور حکومت متحریک ہوجاتے ہیں ، اس دوران کئی ایجنٹس بھی پکڑے جاتے ہیں ،کئی لاشیں بھی پاکستان آتی ہیں اور متعدد وہ لوگ بھی لائے جاتے ہیں جو خوش قسمتی سے بچ جاتے ہیں  لیکن یہ دھندا پھر جاری رہتا ہے ۔

    اب سوال یہ ہے  کہ یہ مافیا جو انسانی سمگلنگ میں ملوث ہےاس کا خاتمہ  کیوں نہیں کیا جاتا ؟ ہر حکومت میں ایسے کیسز سامنے آتے ہیں ، وقتی طور پر بہت چیخ و پکار کی جاتی ہے  لیکن نہ تو ادارے اصل مجرموں تک پہنچتے ہیں اور نہ ہی یہ دھندا ختم ہوتا ہے ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حلف اٹھاتے ہی غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف حکم جاری کی اور اگلے ہی دن 500سے زائد تارکین وطن کو گرفتار کرکے ہوائی جہازوں میں ملک بدر کردیا گیا ۔

    انسانی سمگلنگ کا سد باب ابھی یا کبھی نہیں کے مصداق اب جب کہ وزیراعظم نے خود اپنی نگرانی اس دھندے کے خاتمے کا فیصلہ کیا ہے اور اس مکروہ دھندے میں ملوث افراد کے سخت کارروائی کی ہدایت بھی ہے تو امید کی جا سکتی ہے کہ  موجودہ حکومت کی مدت پوری ہونے سے قبل پاکستان سے سے اس دھندے کا خاتمہ ہو جائے گا ۔وزیراعظم اسی طرح ہر ہفتے اس معاملے پر اجلاس کی صدارت جاری رکھیں اور ملک کے جس حصے میں بھی اس مکروہ کاروبار سے منسلک لوگ ہوں ان کو کیفرکردار کردار تک پہنچایا جائے ۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleطالبان کے سروں پر قیمتوں کا طوفان،نئی امریکی انتظامیہ کی افغان پالیسی پر شدید ردعمل
    Next Article ویسٹ انڈیز نے پاکستان کو دوسرے ٹیسٹ میں شکست دیکر سیریز برابر کردی
    Arshad Iqbal

    Related Posts

    جب عوامی آوازیں دبتی ہیں، تو ریاستیں لرزتی ہیں. تحریر: قریش خٹک

    ستمبر 22, 2026

    پمز سانحے کے اصل حقائق

    اگست 26, 2026

    یوم آزادی کی قدر

    اگست 13, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    بلوچستان کے علاقے ساران تنگی میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 6 دہشتگرد ہلاک

    ستمبر 22, 2026

    کراچی پورٹ کی عالمی شپنگ رابطہ انڈیکس میں تاریخی کامیابی

    ستمبر 22, 2026

    پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ

    ستمبر 22, 2026

    آسان ٹیکس سکیم: ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا اور دکانداروں کو ٹیکس ادائیگی میں سہولت فراہم کرنا بنیادی مقصد ہے، بلال اظہر کیانی

    ستمبر 22, 2026

    وزیراعظم کے کفایت شعاری اقدامات: وزارتِ ریلوے میں اہم فیصلے

    ستمبر 22, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.