Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    جمعرات, مارچ 5, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • نائب وزیراعظم اور ترکیہ کے وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ، علاقائی کشیدگی پر تبادلہ خیال
    • نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا اسلام آباد میں ایرانی سفارتخانے کا دورہ
    • ایران پر امریکی و اسرائیلی حملے کے بعد خلیجی ممالک میں اقتصادی و سیاسی بحران، عالمی توجہ پاکستان پر
    • آبنائے ہرمز سے تیل کا ایک قطرہ بھی گزرنے نہیں دیں گے، ایران کا انتباہ
    • ٹانک میں گومل تھانے پر نامعلوم مسلح افراد کا حملہ، تین ایف سی اہلکار اور متعدد شہری زخمی
    • اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، احتساب عدالت نے ملزم سرن زیب کی پلی بارگین منظور کر لی
    • افغان طالبان دور میں خواتین کے حقوق کی بدترین صورتحال، عالمی انڈیکس میں افغانستان آخری نمبر پر
    • وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان سے تاجکستان کے سفیر کی ملاقات، نئے تجارتی راستوں کے حوالے سے گفتگو
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » انسانی سمگلنگ کا سدباب مگر کب اور کیسے ؟
    بلاگ

    انسانی سمگلنگ کا سدباب مگر کب اور کیسے ؟

    جنوری 26, 2025Updated:جنوری 26, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    The solution to human trafficking, but when and how
    ہر بڑے حادثے کے بعد حکومت کی جانب سے انسانی سمگلروں کے خلاف کارروائیاں تیز کرنے کا اعلان کیا جاتا ہے ۔
    Share
    Facebook Twitter Email

    اسلام آباد(ارشد اقبال) وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان میں انسانی سمگلنگ میں ملوث گروہوں کے سدباب کیلئے خصوصی ٹاسک فورس قائم کردی اور اعلان کیا کہ حکومت انسانیت کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچائے گی ۔ گزشتہ جمعے کو ہوئے اجلاس میں یہ فیصلہ بھی ہوا ہے کہ ٹاسک فورس کی سربراہی وزیراعظم خود کریں گے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ انسانی اسمگلنگ میں ملوث گروہوں کی گرفتاریوں میں تیزی لائی جائے، تمام ادارے بشمول وزارت خارجہ انسانی سمگلروں کی نشاندہی میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں ۔

    وزیراعظم کی جانب سے ٹاسک فورس کے قیام کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ پاکستا ن میں اس حوالے قوانین یا ادارے متحرک نہیں ۔ سب کچھ ہے لیکن جو لوگ اس مکروہ دھندے میں ملوث ہیں وہ باز نہیں آتے ۔ اور جو لوگ یورپی ممالک جانے کیلئے ان ایجنٹس کی باتوں میں آتے ہیں وہ بھی  اپنا یہ طریقہ نہیں چھوڑتے ۔ لیکن جب ان کی کشتیاں ڈوبتی ہیں یا سخت راستوں مین ان پر فائرنگ کی جاتی ہے تب اگر یہ زندہ بچ جاتے ہیں تو ان کو سمجھ آجاتی ہے ۔

    ایک اندازے کے مطابق ہر سال پاکستان سے کم و بیش 20 ہزار لوگ غیرقانونی طور پر یورپ اور دوسرے ممالک جاتے ہیں، اس کے لیے جو روٹ سب سے زیادہ استعمال ہوتا ہے ، وہ بلوچستان سے ایران، عراق اور ترکی کے ذریعے یونان اور اٹلی وغیرہ ہے۔ نقل مکانی کے متعلق کام کرنے والی عالمی تنظیم انٹرنیشنل ارگنائزیشن فار مائیگریشن یعنی (آئی او ایم) کی ایک رپورٹ کے مطابق نہ صرف پاکستانی بلکہ افغانستان، بنگلہ دیش اور خطے کے کئی دوسرے ممالک کے افراد بھی غیرقانونی طور پر یورپ جانے کے لیے یہی راستہ اور طریقہ استعمال کرتے ہیں ۔

    ایران کے سنگلاخ پہاڑوں سے یونان کے سمندروں تک، ہر سال اَن گنت نوجوان اپنی جانیں گنوا دیتے ہیں۔ تارکینِ وطن میں بڑی تعداد پاکستانی نوجوانوں کی بھی ہوتی ہے۔ ہر بڑے حادثے کے بعد حکومت کی جانب سے انسانی سمگلروں کے خلاف کارروائیاں تیز کرنے کا اعلان کیا جاتا ہے مگر پھر یہ کارروائیاں وقت کی گرد تلے دب جاتی ہیں۔اور پھر کچھ عرصہ گزرنے کے بعد ایک اور کشتی ڈوبتی ہے تو ایک بار پھر ادارے اور حکومت متحریک ہوجاتے ہیں ، اس دوران کئی ایجنٹس بھی پکڑے جاتے ہیں ،کئی لاشیں بھی پاکستان آتی ہیں اور متعدد وہ لوگ بھی لائے جاتے ہیں جو خوش قسمتی سے بچ جاتے ہیں  لیکن یہ دھندا پھر جاری رہتا ہے ۔

    اب سوال یہ ہے  کہ یہ مافیا جو انسانی سمگلنگ میں ملوث ہےاس کا خاتمہ  کیوں نہیں کیا جاتا ؟ ہر حکومت میں ایسے کیسز سامنے آتے ہیں ، وقتی طور پر بہت چیخ و پکار کی جاتی ہے  لیکن نہ تو ادارے اصل مجرموں تک پہنچتے ہیں اور نہ ہی یہ دھندا ختم ہوتا ہے ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حلف اٹھاتے ہی غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف حکم جاری کی اور اگلے ہی دن 500سے زائد تارکین وطن کو گرفتار کرکے ہوائی جہازوں میں ملک بدر کردیا گیا ۔

    انسانی سمگلنگ کا سد باب ابھی یا کبھی نہیں کے مصداق اب جب کہ وزیراعظم نے خود اپنی نگرانی اس دھندے کے خاتمے کا فیصلہ کیا ہے اور اس مکروہ دھندے میں ملوث افراد کے سخت کارروائی کی ہدایت بھی ہے تو امید کی جا سکتی ہے کہ  موجودہ حکومت کی مدت پوری ہونے سے قبل پاکستان سے سے اس دھندے کا خاتمہ ہو جائے گا ۔وزیراعظم اسی طرح ہر ہفتے اس معاملے پر اجلاس کی صدارت جاری رکھیں اور ملک کے جس حصے میں بھی اس مکروہ کاروبار سے منسلک لوگ ہوں ان کو کیفرکردار کردار تک پہنچایا جائے ۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleطالبان کے سروں پر قیمتوں کا طوفان،نئی امریکی انتظامیہ کی افغان پالیسی پر شدید ردعمل
    Next Article ویسٹ انڈیز نے پاکستان کو دوسرے ٹیسٹ میں شکست دیکر سیریز برابر کردی
    Arshad Iqbal

    Related Posts

    ایران پر امریکی و اسرائیلی حملے کے بعد خلیجی ممالک میں اقتصادی و سیاسی بحران، عالمی توجہ پاکستان پر

    مارچ 5, 2026

    امن کی کنجی کابل کے ہاتھ میں !

    فروری 22, 2026

    غربت کی نئی لہر اور معیشت کا کڑا امتحان

    فروری 21, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    نائب وزیراعظم اور ترکیہ کے وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ، علاقائی کشیدگی پر تبادلہ خیال

    مارچ 5, 2026

    نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا اسلام آباد میں ایرانی سفارتخانے کا دورہ

    مارچ 5, 2026

    ایران پر امریکی و اسرائیلی حملے کے بعد خلیجی ممالک میں اقتصادی و سیاسی بحران، عالمی توجہ پاکستان پر

    مارچ 5, 2026

    آبنائے ہرمز سے تیل کا ایک قطرہ بھی گزرنے نہیں دیں گے، ایران کا انتباہ

    مارچ 5, 2026

    ٹانک میں گومل تھانے پر نامعلوم مسلح افراد کا حملہ، تین ایف سی اہلکار اور متعدد شہری زخمی

    مارچ 5, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.