Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    پیر, اگست 17, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • خیبرپختونخوا میں 17 سے 21 اگست تک بارشوں کی پیشگوئی، اربن فلڈنگ اور لینڈ سلائیڈنگ کا الرٹ
    • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا سابق فوجیوں کے اعزاز میں استقبالیہ، خدمات کو خراجِ تحسین
    • وزیراعظم کی صدر مملکت سے اہم ملاقات، مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ ، ملک کی معاشی ،سیکیورٹی اور سیاسی صورتحال پر گفتگو
    • نئی دہلی میں بھی پاکستان کا یوم آزادی روایتی جوش و جذبے کیساتھ منایا گیا، صدر مملکت اور وزیراعظم کے پیغامات پڑھ کر سنائے گئے
    • ملک بھر میں 79واں یومِ آزادی ملی جوش و جذبے سے منایا جا رہا ہے
    • یوم آزادی کی قدر
    • سوات قومی جرگے نے حکومت کو امن کے قیام کیلئے ایک ماہ کی مہلت دیدی
    • پاکستانی کوچز ایرانی کرکٹرز کی تربیت کریں گے، دونوں ممالک نے اتفاق کرلیا
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » افغانستان میں طاقت کا بدلتا توازن: پاکستان کی نئی سفارتی چال یا خطرناک جغرافیائی جوکھم؟
    بلاگ اگست 18, 2025

    افغانستان میں طاقت کا بدلتا توازن: پاکستان کی نئی سفارتی چال یا خطرناک جغرافیائی جوکھم؟

    Facebook Twitter Email
    Pakistan Redraws the Afghan Chessboard
    Between Strategy and Isolation Lies Islamabad’s Gamble
    Share
    Facebook Twitter Email

    خالد خان

    سیاسی فیصلے بعض اوقات بند کمروں میں ہوتے ہیں، مگر ان کی بازگشت صدیوں تک تاریخ کے گوشوں میں گونجتی رہتی ہے۔ پاکستان نے اگست کی گرمی کی شدت لیے ان دنوں میں جب افغان طالبان مخالف جلاوطن رہنماؤں کا اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا، تو یہ محض ایک تقریب کا اعلان نہ تھا بلکہ خطے کی پیچیدہ شطرنج پر ایک نئی چال کا آغاز تھا۔ 25 اور 26 اگست کو منعقد ہونے والا یہ اجلاس اب ایک سادہ اجلاس نہیں رہا، بلکہ وہ آئینہ ہے جس میں پاکستان کی نئی حکمت عملی، علاقائی الجھنیں اور عالمی صف بندیوں کی پرچھائیاں دیکھی جا سکتی ہیں۔

    افغانستان کے تناظر میں پاکستان ہمیشہ ایک بنیادی فریق رہا ہے—کبھی دوستی کے نام پر، کبھی سٹریٹجک مفادات کی آڑ میں۔ طالبان کی سابقہ اور موجودہ حکومتوں کے ساتھ پاکستان کے تعلقات پیچیدگی اور توقعات کا امتزاج رہے ہیں۔ لیکن تحریک طالبان پاکستان کی تازہ سرگرمیاں اور کابل حکومت کی خاموشی، پاکستان کے لیے ایک خفیف شکایت نہیں، بلکہ ایک بڑھتی ہوئی فکری الجھن بن چکی ہے۔ اب اسلام آباد محض مشاہدہ نہیں کرنا چاہتا، بلکہ خود کو ایک فعال اور مؤثر قوت کے طور پر متعارف کروانے کے لیے کوشاں ہے۔

    زلمے خلیل زاد نے اس اجلاس پر جو کڑی تنقید کی، وہ سفارتی اخلاقیات سے زیادہ ایک پرانی روش کی عکاسی کرتی ہے۔ اُن کے بقول یہ اقدام غیرسیاسی، غیر اخلاقی اور غیر سفارتی ہے، اور اگر افغانستان ایسا قدم اٹھاتا تو پاکستان کیسا ردعمل دیتا؟ یہ سوال اہم ہے، مگر یک طرفہ۔ خلیل زاد جیسے سفارت کار جو کبھی طالبان کے ساتھ مذاکرات کے روحِ رواں تھے، اب جب پاکستان ایک نئی سمت میں سوچتا دکھائی دے رہا ہے تو اعتراض کی زبان بولنے لگے ہیں۔ درحقیقت یہ تنقید خود اس امر کا ثبوت ہے کہ پاکستان کی اس چال نے بین الاقوامی حلقوں میں ارتعاش پیدا کیا ہے۔

    روس، چین اور ایران کی خاموش حرکات اب بےصدائی کی حدیں پار کر چکی ہیں۔ روس نے طالبان حکومت کو باقاعدہ تسلیم کر کے اس بات کا عملی اظہار کیا کہ وہ اب صرف شام یا یوکرین تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ جنوبی ایشیا میں بھی اپنی موجودگی ثابت کرنا چاہتا ہے۔ چین، جو خاموشی سے افغانستان کی معدنی دولت پر نگاہ رکھے ہوئے ہے، اپنی معاشی طاقت کے بل بوتے پر وہاں قدم جما رہا ہے۔ ایران، جو طالبان سے نظریاتی اختلافات رکھتا ہے، اب ایک محتاط قربت اختیار کر چکا ہے، تاکہ اس کے مشرقی سرحدی مفادات محفوظ رہ سکیں۔ ان تینوں ریاستوں کی مشترک دلچسپیاں افغانستان کو ایک نئے محور میں بدل رہی ہیں، اور اس کے بیچ پاکستان کو اپنی جگہ متعین کرنا ایک نازک توازن کا کام ہے۔

    ایسے میں امریکہ اور یورپ کی خاموشی اور بےرخی خود ایک سیاسی تفسیر ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے افغانستان کو ایک مکمل باب کے طور پر بند کر دیا ہے، اور اس خلا میں پاکستان نے قدم رکھ کر وہی کرنے کی کوشش کی ہے جو واشنگٹن پہلے خود کرتا رہا ہے۔ البتہ یہ کوشش آسان نہیں۔ پاکستان کے حالیہ سفارتی رویوں اور امریکہ کے ساتھ بدلتے روابط نے اس نکتے پر ایک بار پھر سوال اٹھا دیے ہیں کہ کیا پاکستان واقعی اب چین کے ساتھ اپنی "ہمیشہ کی دوستی” پر قائم ہے یا اب بھی مغرب کے دروازے پر آدھا قدم رکھا ہوا ہے؟ اس سوال کی بازگشت ہمیں حال ہی میں صدر ٹرمپ اور صدر پیوٹن کی ناکام ملاقات میں بھی سنائی دیتی ہے، جس نے عالمی سفارت کاری کے بدلتے معیار اور کمزور ہوتی روایات کو بےنقاب کر دیا ہے۔

    اس تمام صورتحال میں بھارت کا کردار نہایت باریک مگر انتہائی فیصلہ کن ہے۔ دہلی برسوں سے افغانستان میں سرمایہ کاری کے بہانے موجودگی قائم رکھے ہوئے ہے، مگر اس موجودگی کا اصل ہدف پاکستان کے گرد گھیرا تنگ کرنا ہے۔ چاہے وہ پنجشیر کی خاموش حمایت ہو یا کابل کے بعض عناصر سے خفیہ روابط—بھارت کی کوشش ہے کہ افغانستان کو پاکستان کے خلاف ایک نیا سٹریٹجک محاذ بنا دے۔ اس تناظر میں پاکستان کا موجودہ قدم صرف کابل کے لیے نہیں، دہلی کے لیے بھی ایک غیر اعلانیہ پیغام ہے کہ وہ افغان میدان کو یک طرفہ تصور نہ کرے۔

    پاکستان کو اس وقت اندرونی سطح پر بھی بےپناہ مسائل کا سامنا ہے۔ معیشت بحران کی گرفت میں ہے، سیاسی استحکام خواب سا لگتا ہے، اور دہشت گردی کے پے در پے واقعات نے قومی اعصاب کو چوٹ پہنچائی ہے۔ ڈیورنڈ لائن پر پائی جانے والی کشیدگی، سرحد پار حملے، اور سیکیورٹی فورسز کی قربانیاں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ اب صرف بیانات سے کام نہیں چلے گا۔ کابل کے ساتھ اگر سچّی شراکت داری ممکن نہیں تو پاکستان کو اپنی خودمختار حکمت عملی ترتیب دینی ہی ہوگی، چاہے وہ کتنی ہی غیر روایتی کیوں نہ ہو۔

    پشتون بیلٹ، جو برسوں سے افغانستان اور پاکستان کے بیچ ایک نامرئی لکیر کی زنجیروں میں جکڑا رہا، اب ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے۔ یہاں کے عوام کو محض تزویراتی کھیلوں کا مہرہ نہیں بلکہ امن اور ترقی کے اصل شراکت دار بننے کی ضرورت ہے۔ اگر اس خطے کو ایک بار پھر عسکریت، انتقام اور مداخلت کی سیاست کی نذر کیا گیا، تو اس کا بوجھ نہ صرف دو ریاستیں بلکہ دو نسلیں اٹھائیں گی۔

    طالبان حکومت کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ صرف قوت سے حکمرانی طویل نہیں ہو سکتی۔ پاکستان جیسے ہمسائے کے ساتھ مخاصمت، اور علاقائی توازن کو نظر انداز کرنے کا انجام دوبارہ تنہائی کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ اگر وہ واقعی خود کو ایک باقاعدہ اور تسلیم شدہ ریاستی نظام کے تحت دیکھنا چاہتے ہیں تو انہیں سفارتی رویوں، ہمسائیگی کے آداب، اور بین الاقوامی توقعات کو سنجیدگی سے لینا ہوگا۔

    پاکستان کا یہ اقدام چاہے جتنا بھی متنازعہ کیوں نہ ہو، اس میں ایک سنجیدہ پیغام چھپا ہوا ہے: یہ وہ لمحہ ہے جب پاکستان نے محض ردعمل سے آگے بڑھ کر پیشگی سوچنے کا حوصلہ کیا ہے۔ یہ ایک خاموش اعتراف بھی ہے کہ افغانستان کی سیاست کو صرف خواہشات سے نہیں، حکمت اور تجربے سے قابو میں لایا جا سکتا ہے۔

    اگر یہ حکمت عملی خطے میں توازن، امن اور سیکیورٹی کے نئے باب کھولتی ہے تو پاکستان ایک نئے سیاسی قد کا حامل ہو سکتا ہے۔ اور اگر یہ صرف ایک وقتی دباؤ کی پیداوار ہے، تو پھر یہ فیصلہ مزید الجھنوں کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔ وقت ہی بتائے گا کہ اسلام آباد کی یہ خاموش چال ایک جیت کا آغاز تھی یا ایک نئے دلدل کی شروعات۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleفنکاروں کے فنڈز میں بندر بانٹ، نجیب اللہ انجم کا بڑا انکشاف
    Next Article پاکستان کی معیشت میں بہتری کی نوید
    Khalid Khan
    • Website

    Related Posts

    یوم آزادی کی قدر

    اگست 13, 2026

    شاہینوں کا وہ سپہ سالار جس نے فضاؤں کا نصاب بدل دیا

    اگست 7, 2026

    آخر کب تک؟ معصوم بچوں کے خلاف جنسی جرائم، معاشرتی زوال اور ہماری اجتماعی ذمہ داری. تحریر: نازپروین

    جولائی 1, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    خیبرپختونخوا میں 17 سے 21 اگست تک بارشوں کی پیشگوئی، اربن فلڈنگ اور لینڈ سلائیڈنگ کا الرٹ

    اگست 17, 2026

    فیلڈ مارشل عاصم منیر کا سابق فوجیوں کے اعزاز میں استقبالیہ، خدمات کو خراجِ تحسین

    اگست 15, 2026

    وزیراعظم کی صدر مملکت سے اہم ملاقات، مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ ، ملک کی معاشی ،سیکیورٹی اور سیاسی صورتحال پر گفتگو

    اگست 14, 2026

    نئی دہلی میں بھی پاکستان کا یوم آزادی روایتی جوش و جذبے کیساتھ منایا گیا، صدر مملکت اور وزیراعظم کے پیغامات پڑھ کر سنائے گئے

    اگست 14, 2026

    ملک بھر میں 79واں یومِ آزادی ملی جوش و جذبے سے منایا جا رہا ہے

    اگست 14, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.