خیبر پختونخوا ایک بار پھر دہشت گردی کی شدید لہر کی زد میں ہے، جہاں ایک ہی ہفتے کے دوران 18 دہشت گردانہ واقعات پیش آئے۔ ان حملوں میں 28 سیکیورٹی فورسز اور پولیس اہلکار شہید جبکہ 19 زخمی ہوئے۔
مختلف اضلاع میں ہونے والے ان پے در پے حملوں نے صوبے کی امن و امان کی صورتحال پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ 20 فروری کو ضلع ٹانک میں فرنٹیئر کور (ایف سی) کے دفتر پر کواڈ کاپٹر کے ذریعے حملہ کیا گیا، جس نے سیکیورٹی اداروں کے لیے ایک نئے خطرے کی نشاندہی کی۔
اگلے روز 21 فروری کو جانی خیل، بنوں میں ایک خودکش حملہ آور نے لیفٹیننٹ کرنل شہزادہ گلفراز کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں وہ شہید ہو گئے۔ 23 فروری کو ضلع کرک میں ایف سی قلعہ اور ایمبولینس گاڑیوں پر حملے کیے گئے۔ اسی روز لکی مروت میں انعام اللہ مروت کی حجرے پر ڈرون حملہ بھی رپورٹ ہوا، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ 24 فروری کو وانا، شمالی وزیرستان میں ایک سیکیورٹی اہلکار کو شہید کر دیا گیا۔
اسی طرح کوہاٹ کے علاقے لاچی میں ڈی ایس پی کی گاڑی پر حملہ ہوا، جس میں ڈی ایس پی سمیت سات پولیس اہلکار شہید ہو گئے۔ 25 فروری کو باجوڑ میں ابابیل اسکواڈ پر حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں چار پولیس اہلکار شہید ہوئے۔
لنڈی کوتل کے علاقے سلطان خیل میں ایک پولیس اہلکار کو اس کے بیٹے سمیت قتل کر دیا گیا، جس سے مقامی آبادی شدید صدمے میں ہے۔ 26 فروری کو بنوں میں تین بھائیوں کو اغوا کیا گیا، جن میں سے دو کو بعد ازاں قتل کر دیا گیا۔

