اسلام آباد سے مبارک علی کی خصوصی تحریر: ۔
اس سال عیدالفطر کے موقع پر خیبر پختونخوا کے متعدد اضلاع میں مساجد کے لاؤڈ اسپیکرز پر عجیب اعلانات گونجے، پہلے عید کا اعلان ہوا، پھر فوری واپس لے کر چاند کی شہادتیں باطل قرار دی گئیں ۔
پشاور، مردان، چارسدہ اور دیگر علاقوں میں ایک ہی شہر کے مختلف محلوں، ایک ہی ٹاؤن اور ایک ہی گاؤں کے لوگ دو حصوں میں تقسیم ہو گئے۔ کچھ نے 29 روزے مکمل کر کے عید منا لی جبکہ دوسرے ابھی 30ویں روزے پر تھے ۔
پڑوسی ایک دوسرے کو "عید مبارک” کہنے سے گریز کر رہے تھے، اعتکاف سے اٹھنے والوں کو واپس بلایا گیا، کئی سیاسی رہنماؤں نے اس خالص مذہبی معاملے کو اپنے ایجنڈے کا حصہ بنانے کی کوشش کی ۔
یہ کوئی نئی بات نہیں، تاریخی ریکارڈ بتاتے ہیں کہ 1958 میں شمال مغربی علاقوں نے عید ایک دن پہلے منائی جبکہ باقی ملک بعد میں، اس کے بعد سے ہر دہائی میں ایسے واقعات دہراتے رہے۔، 2012 میں صوبے میں تین مختلف دنوں پر عید منائی گئی، ایک حصے نے ہفتے، دوسرے نے اتوار اور تیسرے نے پیر کو ۔
ایک صدی پرانی روایت کے تحت مقامی علماء نے بار بار الگ شہادتیں پیش کر کے تقسیم پیدا کی، ماہرین فلکیات کے مطابق چاند کی عمر اکثر 12 سے 18 گھنٹے ہوتی ہے جو نظر آنا مشکل ہوتا ہے، مگر علاقائی اختلافات اسے تنازع بنا دیتے ہیں ۔
ماہرین کہتے ہیں کہ 29 یا 30 روزے دونوں شرعی طور پر جائز ہیں، ہر رمضان 29 دن کا نہیں ہوتا، اگر ایک ماہ گزر سکتا ہے تو دوسرا بھی، مگر حساس مذہبی معاملات پر لوگوں کو تقسیم کرنے والوں کا احتساب ضروری ہے، اس تقسیم کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ایک گاؤں کے لوگ ایک دوسرے سے دور ہو گئے، بچے الجھن میں، بزرگ مایوس، ایک ہی خاندان کے افراد نے مختلف دن عید کی ۔
افغانستان، بھارت اور بنگلہ دیش نے مرکزی نظام کے تحت ایک ہی دن عید کا اعلان کیا، پاکستان میں یہ کیوں ممکن نہیں؟ سیاسی رہنماؤں کے لیے تو ہزاروں موضوعات ہیں، مگر مذہب کو سیاست کا آلہ نہ بنایا جائے، عید کا پیغام اتحاد ہے، اگر ہم چاند کو ایک ہی نظر سے دیکھ سکیں تو لوگوں کو بھی ایک ہی دل سے گلے لگا سکتے ہیں، تاریخی سبق یہ ہے کہ علاقائی فیصلوں کو قومی وحدت کے تابع کیا جائے تاکہ اگلا رمضان تقسیم کی بجائے اتحاد کا مظہر بنے ۔

