اسلام آباد (نمائندہ خصوصی): وفاقی دارالحکومت میں سابق فاٹا پارلیمنٹرینز کا ایک اہم مشاورتی اجلاس منعقد ہوا، جس میں سابقہ قبائلی اضلاع سے تعلق رکھنے والے سابق اراکینِ قومی اسمبلی اور سینیٹرز نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اجلاس میں خطے کی موجودہ سیاسی صورتحال، سیکیورٹی کے چیلنجز اور بین الاقوامی حالات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اجلاس کے اعلامیہ کے مطابق، شرکاء نے ایران پر اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے مسلط کردہ جنگ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا۔ ارکان کا کہنا تھا کہ اس طرح کی یکطرفہ جارحیت بین الاقوامی قوانین اور عالمی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے، جس سے پورے خطے کا استحکام داؤ پر لگ گیا ہے۔
شرکاء نے پاک-افغان سرحدی صورتحال اور خطے میں جاری مسلسل کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ بدامنی کی یہ لہر نہ صرف پختون علاقوں بلکہ پورے ملک اور خطے کی معاشی و سماجی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔
اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان پائیدار امن ہی خطے کی خوشحالی کی ضمانت ہے، جس کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو سنجیدہ اور مشترکہ کوششیں کرنی ہوں گی۔ سابق پارلیمنٹرینز نے پختون سرزمین پر امن و امان کی بحالی کے لیے اپنے پختہ عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس مقصد کے حصول کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ اجلاس کے اختتام پر اتفاق کیا گیا کہ خطے کے عوام کی فلاح اور مستقل امن کے قیام کے لیے سیاسی و عوامی سطح پر جدوجہد کو مزید تیز کیا جائے گا۔

