رحیم شامزئی کی خصوصی تحریر: ۔
یہ محض ایک قتل کی واردات نہیں، یہ ایک پورے عہد کا خاتمہ ہے، چارسدہ کی شاہراہوں پر آج بھی شاید خون کے وہ دھبے موجود ہوں گے، لیکن جو خلا اس ایک گولی نے اس قوم کے ضمیر میں چھوڑا ہے، وہ شاید صدیوں میں بھی پُر نہ ہو سکے، حضرت مولانا شیخ محمد ادریسؒ المعروف ’’شیخ الحدیث‘‘ اور ’’زینت المحدثین‘‘ کو دن دہاڑے ان بزدل قاتلوں نے شہید کر کے ثابت کر دیا کہ یہ سرزمین اب صرف عام شہریوں کے لیے ہی نہیں، اپنے علماء اور مشائخ کے لیے بھی محفوظ نہیں رہی ۔
یہ وہ ہستی تھے جن کی ذات پر کسی ایک مکتب یا جماعت کا ٹھیکہ نہیں تھا، وہ عقیدت کے اس مقام پر فائز تھے جہاں لاکھوں شاگردوں کی روحیں ان کے علم سے منسلک تھیں، وہ خود ایک چلتا پھرتا مدرسہ تھے، جب قاتل کی گولی نے انہیں نشانہ بنایا، تو اس نے ایک فرد کو نہیں، پختونخوا میں علم و حکمت کے ایک پورے باب کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے ۔
آئیے ایک لمحے کے لیے ان ہلاکت خیز اعداد و شمار پر نظر ڈالتے ہیں جو محض خبروں کی زینت بن کر رہ گئے، مولانا محمد ادریس شہید 2026، اس سے پہلے مولانا حمید الحق حقانی شہید 2025، مفتی منیر شاکر شہید 2025، یہ وہ المیے ہیں جو بتاتے ہیں کہ گزشتہ ایک سال کے دوران پختونخوا میں دیوبندی علماء کی ٹارگٹ کلنگ کا ایک منظم سلسلہ جاری ہے، یہ کوئی اتفاقیہ وارداتیں نہیں، یہ اس قوم کی علمی قیادت کو نیست و نابود کرنے کی ایک بھیانک سازش ہے، جنونی انتہا پسندی کی تلوار جب علم اور فکر کی گردنوں پر مسلط ہو جائے تو پھر فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی توقع عبث ہے۔
1961ء میں چارسدہ کے علاقے ترنگزئی میں پیدا ہونے والے شیخ محمد ادریس نے اپنی پوری زندگی علمِ حدیث کی ترویج کے لیے وقف کر رکھی تھی، ان کی شخصیت پر رعب اور محبت کا ایسا امتزاج تھا کہ دوست اور مخالف سبھی ان کی علمی بصیرت کے معترف تھے، جامعہ احسن المدارس جھگڑا پشاور سے لے کر دارالعلوم نعمانیہ اتمانزئی اور دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک تک، ان کا وجود علم کا ایک روشن مینار تھا، جب وہ اپنی گاڑی میں درس و تدریس کے لیے جا رہے تھے تو شاید انہیں بھی گمان نہ تھا کہ علم کے مسافر پر موت اس طرح جھپٹے گی، پشتو زبان میں ان کے خطبات کی ثقافت اور دینی حمیت نے انہیں ’’علاقے کا بااثر ترین مذہبی رہنما‘‘ بنا دیا تھا، وہ محض ایک مدرس نہیں تھے، وہ ایک ایسے سیاستدان تھے جنہوں نے رکنِ صوبائی اسمبلی رہتے ہوئے معاشرتی و اخلاقی نظام کے فروغ میں لازوال کردار ادا کیا، وہ مفاہمت کی سیاست پر یقین رکھتے تھے اور جرگہ سسٹم کے ذریعے پیچیدہ تنازعات حل کراتے تھے، مگر افسوس، مفاہمت کے اس سفیر کو انتہا پسندی نے گوارا نہ کیا، حکومت اور ریاست کی نام نہاد خاموشی کے بیچ یہ گروہ کھلے عام یہ پیغام دے رہا ہے کہ ریاست کی رٹ ختم ہو چکی ہے اور علماء کا تحفظ اب ممکن نہیں رہا ۔
سوال یہ ہے کہ پختونخوا میں ریاست، پولیس اور حکومت کی ذمہ داری کیا ہے؟ کیا یہ ادارے صرف پوسٹ مارٹم رپورٹس درج کرنے اور مذمتی قراردادیں پاس کرنے کے لیے ہیں؟ حملے کے فوری بعد پولیس کی بھاری نفری پہنچ گئی، مقدمہ درج کر لیا گیا، لیکن یہ سب کاغذی کارروائیاں اس وقت تک بے معنی ہیں جب تک قاتلوں کو کیفرِ کردار تک نہ پہنچایا جائے، یہ خاموشی نہیں، یہ ریاستی ڈھانچے کی ٹوٹ پھوٹ کا اعلان ہے، بار بار کی تحقیقاتی کمیٹیاں اور آئی جی صاحب کے سخت نوٹس بے اثر ہو چکے ہیں، عوام کا صبر لبریز ہو رہا ہے اور یہ آوازیں بلند ہو رہی ہیں کہ اگر حکومتیں تحفظ دینے میں ناکام رہیں تو عوام اپنے تحفظ کے لیے خود کھڑے ہونے پر مجبور ہو جائیں گے ۔
ہم نے دیکھا کہ ہزاروں افراد نے ان کے جنازے میں شرکت کی، غم و غصے کی یہ لہر اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام بیدار ہے، لیکن کیا ہم صرف جنازے پڑھنے اور ماتم کرنے کے لیے زندہ ہیں؟ کیا یہ پختون قوم صرف کندھا دینے اور بعد میں خاموش ہو جانے کے لیے مشہور ہو جائے گی؟ ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم آنسوؤں کے ساتھ بہہ جائیں گے یا فکر و عمل کی ایک نئی تاریخ رقم کریں گے ۔
الوداع اے شہیدِ علم! تجھے کیسے بھلائیں کہ تو زندہ قوموں کی پہچان ہوا کرتا ہے، ہم عہد کرتے ہیں تیری شہادت کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے، دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ شہید کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور زخمیوں کو جلد صحت یابی نصیب کرے، آمین ۔

