واشنگٹن: برطانوی اخبار دی گارجین کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ممکنہ امن معاہدے کا مسودہ اسرائیل سمیت اپنے اتحادی ممالک کے ساتھ شیئر کر دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس مجوزہ معاہدے میں آبنائے ہرمز کو تجارتی جہازوں کے لیے دوبارہ کھولنے، ایرانی بندرگاہوں پر امریکی پابندیاں ختم کرنے اور ایران کو 12 ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں تک رسائی دینے کی تجاویز شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق امریکا اور ایران جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کو بڑے تصادم میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں، کیونکہ معمولی جھڑپیں بھی مذاکراتی عمل کو متاثر کر سکتی ہیں۔
مسودے میں 30 دن کے اندر بحری تجارتی سرگرمیوں کو جنگ سے پہلے کی سطح پر لانے اور 60 دن کے اندر ایران کے جوہری پروگرام پر باضابطہ مذاکرات شروع کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ ان مذاکرات میں یورینیم افزودگی، ذخائر کی نگرانی اور جوہری سرگرمیوں کی عارضی معطلی جیسے امور شامل ہوں گے، جبکہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے دستبردار ہونا ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان اور قطر کی ثالثی میں امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ رابطے جاری ہیں۔
اسی سلسلے میں پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار واشنگٹن پہنچ گئے ہیں، جہاں وہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے اہم ملاقات کریں گے۔
ذرائع کے مطابق مجوزہ معاہدہ اسرائیل کے لیے قابلِ قبول نہیں سمجھا جا رہا، جبکہ چین نے اس معاہدے کی اقوام متحدہ سے توثیق پر زور دیا ہے۔ روس میں موجود ایرانی نائب وزیر خارجہ نے منجمد اثاثوں کی بلاشرط واپسی کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسری جانب امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کی ایک نئی اتھارٹی پر پابندیاں عائد کر دی ہیں، جبکہ امریکا نے عمان کو بھی خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے آبنائے ہرمز میں ایران کی معاونت کی تو اس پر پابندیاں لگائی جا سکتی ہیں۔
امریکی نائب صدر کے مطابق دونوں ممالک معاہدے کے قریب ہیں، تاہم یورینیم افزودگی اور ذخائر کے معاملے پر اختلافات برقرار ہیں۔

