پاکستان تحریک انصاف خیبرپختونخوا میں اختلاف کا معاملہ سنگین ہوگیا جہاں پارلیمانی گروپ کے واٹس ایپ گروپ میں وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی اور سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور میں لفظی تکرار ہوئی، دوسری جانب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی صدارت میں پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا ہے جس میں 30 کے قریب ناراض اراکین نے بائیکاٹ کیا ہے ۔
پشاور: پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کے واٹس ایپ گروپ میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے میسج پر علی امین گنڈاپور نے سخت جواب دیا ۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے پارلیمانی گروپ میں کہا تھا کہ کچھ عناصر پارٹی کے اندر اور باہر حکومت کو کمزور کررہے ہیں، جس پر علی امین گنڈاپور نے جواب دیا کہ تم نام کیوں نہیں لیتے ’’اس کا، اس کی ‘‘ ڈائیلاگ کیوں مارتے ہو ۔
علی امین گنڈاپور نے کہا کہ وزیراعلیٰ صاحب غداری اور وفاداری کے سرٹیفیکیٹ بانٹںے کی اتھارٹی آپ نہیں، بانی چیئرمین کے ساتھ کون ہے اور کون نہیں باتوں سے نہیں عمل سے ثابت کریں ۔
انہوں نے کہا کہ فیصلوں کا اختیار صرف بانی کے پاس ہے، چھپ چھپ کر ملاقاتیں آپ کرتے ہیں اور اس طرح کے خطاب کسی اور کو دے رہے ہیں، جو ذمہ داریاں دی گئی ہیں ان پر فوکس کریں ۔
دوسری جانب پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس وزیراعلی ہاوس میں ہوا ، ذرائع کے مطابق اجلاس میں پی ٹی آئی کے 60 اراکین کے پی اسمبلی شریک ہوئے جبکہ 30 کے قریب ناراض اراکین اسمبلی نے اجلاس سے بائیکاٹ کیا ۔
ذرائع نے بتایا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے ناراض اراکین کی اجلاس میں عدم شرکت پر برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ نہ ہمیں کوئی توڑ سکتا ہے اور نہ ہی بانی کے نظریے سے پیچھے ہٹا سکتا ہے ۔
سہیل آفرید کا کہنا تھا کہ اگلے سال کا بجٹ عوام دوست بجٹ ہوگا، ترقیاتی منصوبوں میں بانی کے وژن کی عکاسی ہوگی ۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ صوبے کے حقوق کے حصول کے لیے دیگر جماعتوں کو بھی ساتھ ملا کر جد وجہد کر رہے ہیں ،یہ خیبرپختونخوا کے عوام کے وسائل و حقوق ہیں ،ہم نے ان کے حصول کے لیے مشترکہ آواز اُٹھانی ہے ۔

