Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    ہفتہ, فروری 28, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • ایران میں اسرائیل کا لڑکیوں کے سکول پر حملہ، 40 شہید ،ايران کا بھی سخت ردعمل، کئی امریکی اڈوں پر حملے
    • امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کر دیا، تہران اور شمالی علاقوں میں دھماکے
    • امریکا کا پاکستان کے حقِ دفاع کی حمایت کا اعلان، طالبان حملوں پر مؤقف واضح
    • آپریشن غضب للحق جاری، 331 طالبان ہلاک، 104 چیک پوسٹیں تباہ, پاک فوج کی سرحدی کارروائیاں تیز
    • وزیراعظم کا جی ایچ کیو کا دورہ، عسکری حکام کی جانب سے افغانستان کی صورت حال پر بریفنگ
    • نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کا مصری وزیر خارجہ سے رابطہ، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال
    • آپریشن غضب للحق:طالبان رجیم کے 274 اہلکار ہلاک، 400 زخمی ہوئے: ڈی جی آئی ایس پی آر
    • خیبر میں پاک فوج کے حق میں اظہار یکجہتی ریلی، عوام نے دکھایا جوش و جذبہ
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » اسلام آباد میں نمازیوں پر حملہ: مسئلہ کہاں ہے؟
    بلاگ

    اسلام آباد میں نمازیوں پر حملہ: مسئلہ کہاں ہے؟

    فروری 7, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Attack on worshippers in Islamabad: Where is the problem
    پاکستان میں دہشت گردی کے بنیادی عوامل میں سب سے حساس مگر اہم عنصر مذہب کا غلط استعمال ہے ۔
    Share
    Facebook Twitter Email

    اسلام آباد جیسے نسبتاً محفوظ سمجھے جانے والے شہر میں نمازیوں پر حملہ محض ایک سیکیورٹی ناکامی نہیں، بلکہ ایک گہرے اور مسلسل نظرانداز کیے گئے مسئلے کی یاد دہانی ہے، ہر ایسے واقعے کے بعد ایک مانوس سا منظر سامنے آتا ہے: چند ہی گھنٹوں میں دہشت گردوں کے نیٹ ورک، سہولت کاروں، تربیتی مراکز اور روابط سے متعلق تفصیلات میڈیا اور حکام کے پاس موجود ہوتی ہیں، سوال یہ نہیں کہ معلومات کیوں مل جاتی ہیں، اصل سوال یہ ہے کہ یہ معلومات حملے سے پہلے مؤثر کارروائی میں کیوں نہیں ڈھل پاتیں؟

    یہ کہنا ناانصافی ہوگی کہ پاکستانی قانون نافذ کرنے والے ادارے کام نہیں کر رہے، حقیقت یہ ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر انٹیلیجنس معلومات پر آپریشن ہوتے ہیں، متعدد حملے ناکام بنائے جاتے ہیں اور کئی دہشت گرد نیٹ ورک خاموشی سے توڑ دیے جاتے ہیں، اگر ایسا نہ ہوتا تو شاید نقصانات کہیں زیادہ ہوتے، مگر یہ تمام تر کامیابیاں آپریشنل سطح تک محدود ہیں، یعنی علامات کا علاج، مرض کا نہیں ۔

    یہاں ایک بنیادی فرق کو سمجھنا ضروری ہے:
    آپریشنل کامیابی اور اسٹرکچرل ناکامی بیک وقت موجود ہو سکتی ہیں ۔
    دہشت گرد کو مار دینا، گرفتار کر لینا یا اس کے نیٹ ورک کو وقتی طور پر مفلوج کرنا اہم ضرور ہے، مگر اس سوچ، اس سہولت کاری اور اس ماحول کو ختم کیے بغیر جہاں سے وہ دوبارہ جنم لیتا ہے، مکمل روک تھام ممکن نہیں ۔

    پاکستان میں دہشت گردی کے بنیادی عوامل میں سب سے حساس مگر اہم عنصر مذہب کا غلط استعمال ہے، یہ الزام مذہب پر نہیں بلکہ اس بیانیے پر ہے جسے برسوں سے یا تو نظرانداز کیا گیا یا سیاسی و سماجی مصلحتوں کے تحت برداشت کیا جاتا رہا، نفرت انگیز تقاریر، مبہم فتوے، اور “ہم بمقابلہ وہ” کا بیانیہ وہ فکری ایندھن فراہم کرتا ہے جس پر تشدد پروان چڑھتا ہے ۔

    دوسرا اہم پہلو سہولت کاری ہے، دہشت گرد خلا میں کام نہیں کرتے، انہیں ٹھکانے، معلومات، مالی مدد، اور خاموش ہمدردی درکار ہوتی ہے۔ یہ سہولت کار ہمیشہ ہتھیار اٹھائے نظر نہیں آتے؛ بعض اوقات وہ عام شہری، بااثر افراد، یا ادارہ جاتی کمزوریاں ہوتی ہیں۔ جب تک سہولت کاری کو ایک سنجیدہ قومی مسئلہ سمجھ کر مستقل بنیادوں پر ایڈریس نہیں کیا جاتا، ہر آپریشن عارضی ثابت ہوگا ۔

    ایک اور مسئلہ ریاستی ابہام ہے۔ کبھی سختی، کبھی نرمی؛ کبھی ایک گروہ “برا”، دوسرا “قابلِ برداشت” یہ دوہرا معیار نہ صرف پالیسی کو کمزور کرتا ہے بلکہ شدت پسند بیانیے کو جواز بھی فراہم کرتا ہے،دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ابہام کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے ۔

    حل کیا ہے؟
    حل کسی ایک ادارے یا ایک آپریشن میں نہیں، بلکہ طویل المدتی فکری، سماجی اور پالیسی اصلاحات میں ہے، مذہبی بیانیے کی واضح نگرانی، نفرت انگیز مواد کے خلاف بلا امتیاز کارروائی، سہولت کاروں کے لیے زیرو ٹالرنس، اور ایک مستقل قومی پالیسی، یہی وہ اقدامات ہیں جو وقتی سکون نہیں بلکہ دیرپا امن دے سکتے ہیں ۔

    اسلام آباد میں ہونے والا حملہ ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ اگر ہم صرف ہر واقعے کے بعد متحرک ہوں گے، تو تاریخ خود کو دہراتی رہے گی، اصل کامیابی وہ دن ہوگا جب ایسے حملے خبر ہی نہ بن سکیں ۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleاسلام آباد دھماکے پر عالمی رہنماوں کا اظہار یکجہتی، وزیراعظم شہبازشریف کا اظہار تشکر
    Next Article ٹی 20 ورلڈ کپ میں پاکستان کی پہلی کامیابی، نیدرلینڈز کو 3 وکٹوں سے شکست دیدی
    Fayaz
    • Website

    Related Posts

    امن کی کنجی کابل کے ہاتھ میں !

    فروری 22, 2026

    غربت کی نئی لہر اور معیشت کا کڑا امتحان

    فروری 21, 2026

    رہائی فورس کا اعلان،سیاسی وفاداری یا تصادم کا حتمی فیصلہ ؟

    فروری 20, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    ایران میں اسرائیل کا لڑکیوں کے سکول پر حملہ، 40 شہید ،ايران کا بھی سخت ردعمل، کئی امریکی اڈوں پر حملے

    فروری 28, 2026

    امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کر دیا، تہران اور شمالی علاقوں میں دھماکے

    فروری 28, 2026

    امریکا کا پاکستان کے حقِ دفاع کی حمایت کا اعلان، طالبان حملوں پر مؤقف واضح

    فروری 28, 2026

    آپریشن غضب للحق جاری، 331 طالبان ہلاک، 104 چیک پوسٹیں تباہ, پاک فوج کی سرحدی کارروائیاں تیز

    فروری 28, 2026

    وزیراعظم کا جی ایچ کیو کا دورہ، عسکری حکام کی جانب سے افغانستان کی صورت حال پر بریفنگ

    فروری 27, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.