Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بدھ, فروری 25, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • حاضر سروس بھارتی فوجی اہلکار منشیات سمگلنگ کیس میں گرفتار
    • ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ سپر 8: انگلینڈ نے پاکستان کو شکست دے کر سیمی فائنل میں جگہ بنا لی
    • شاہراہِ امن| قومی امن و سلامتی پر مبنی خصوصی پروگرام
    • پاکستان اسٹاک مارکیٹ مسلسل تیسرے روز مندی کا شکار، ہنڈرڈ انڈیکس 1632 پوائنٹس گر گیا
    • پاک افغان سرحد پر فائرنگ کا تبادلہ، پاکستان اور افغان طالبان حکومت کے درمیان کشیدگی میں اضافہ
    • پشاور ہائی کورٹ نے وادی تیراہ آپریشن پر وفاقی اور صوبائی حکومت سے رپورٹ طلب کر لی
    • علی امین گنڈاپور کی سیکیورٹی واپسی کا دعویٰ، خیبر پختونخوا حکومت کی تردید۔ تحریر: مبارک علی
    • وزیراعظم کی قطرکے نائب وزیراعظم اور وزیردفاع سے ملاقات، ایران اور افغانستان کی صورتِ حال پرتبادلہ خیال
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » دہشت گردوں کی ڈرون حملوں میں اضافہ کیوں۔۔؟
    بلاگ

    دہشت گردوں کی ڈرون حملوں میں اضافہ کیوں۔۔؟

    جولائی 22, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Militants Deploy Drones in Pakistan’s Northwest, Sparking Security Concerns
    Pakistan’s Police Outgunned as Militants Use Commercial Drones for Attacks
    Share
    Facebook Twitter Email

    پاکستان کے شمال مغربی علاقے میں شدت پسندوں نے اب جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے کمرشل کواڈ کاپٹر ڈرونز کے ذریعے سیکیورٹی فورسز پر حملے شروع کررہے ہیں، جو ملک کے پہلے ہی سے شورش زدہ اور حساس خطے میں ایک خطرناک پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔

    پولیس افسران کے مطابق یہ ڈرونز، جو چار پنکھوں کی مدد سے عمودی طور پر اڑان بھرنے اور زمین پر اترنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، شدت پسندوں کے ہاتھوں میں ایک نیا مہلک ہتھیار بن چکے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ان کے محدود وسائل اور جدید ٹیکنالوجی کی کمی کے باعث وہ اس نئے خطرے سے نمٹنے میں مشکلات کا شکار ہیں۔

    پولیس کے مطابق رواں ماہ کے آغاز میں شدت پسندوں نے دو کواڈ کاپٹر ڈرونز کے ذریعے بنوں کے ایک پولیس اسٹیشن کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ایک خاتون جاں بحق جبکہ قریبی گھر میں موجود تین بچے زخمی ہو گئے۔

    پولیس کا کنہا ہے کہ ہفتے کے روز ایک اور ڈرون، جو ایک اور پولیس اسٹیشن کے اوپر پرواز کر رہا تھا، کو خودکار رائفلوں سے نشانہ بنا کر مار گرایا گیا۔ اس ڈرون میں مارٹر شیل نصب تھا۔

    صرف پچھلے دو ماہ میں بنوں اور ملحقہ علاقوں میں کم از کم آٹھ ڈرون حملے پولیس اور سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنا چکے ہیں۔

    پولیس افسر سجاد خان کا کہنا تھا کہ شدت پسند ابھی اس ٹیکنالوجی کے استعمال میں ماہر نہیں ہوئے اور اسی لیے ان کے حملے ابھی تک مکمل طور پر مؤثر ثابت نہیں ہو رہے۔ انہوں نے کہا، یہ شدت پسند جدید ہتھیار حاصل کر چکے ہیں، لیکن وہ ابھی تجربات کے مراحل میں ہیں اور اسی لیے درست نشانے لگانے میں ناکام ہیں۔”

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق شدت پسند کواڈ کاپٹرز کے ذریعے آئی ای ڈیز  یا مارٹر شیلز پھینک رہے ہیں، جنہیں لوہے کے ٹکڑوں اور بال بیرنگز سے بھرا گیا ہوتا ہے تاکہ زیادہ نقصان ہو سکے۔

    خیبرپختونخوا کے انسپکٹر جنرل پولیس ذوالفقار حمید کے مطابق پولیس کے پاس ان ڈرونز سے نمٹنے کا کوئی مؤثر نظام موجود نہیں۔ ہماری فورس ان شدت پسندوں کے مقابلے میں وسائل کی شدید کمی کا شکار ہے۔

    ابھی تک کسی شدت پسند گروپ نے ان ڈرون حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ تاہم اس علاقے میں سرگرم مرکزی شدت پسند گروہ تحریک طالبان پاکستان ہے، جس نے ڈرون استعمال کرنے سے انکار کیا ہے۔

    پاکستان انسٹیٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کی رپورٹ کے مطابق 2024 کے دوران ملک بھر میں شدت پسندوں کی جانب سے 335 حملے کیے گئے، جن میں 520 افراد جان سے گئے۔

    دوسری جانب حالیہ ہفتوں میں سرحدی علاقوں کے ہزاروں مکینوں نے مظاہرے کیے ہیں، جن میں انہوں نے نہ صرف شدت پسندوں کے حملوں پر احتجاج کیا بلکہ اس خدشے کا اظہار بھی کیا کہ فوج کی جانب سے ممکنہ کارروائی ان کے گھروں سے جبری انخلا کا سبب بن سکتی ہے۔

    مظاہرین کا کہنا تھا کہ انہیں خدشہ ہے کہ اگر فوج دوبارہ بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کرتی ہے تو وہ دوبارہ اپنے گھروں سے بےدخل ہو جائیں گے، جیسا کہ 2014 کے آپریشن کے دوران ہوا تھا، جب لاکھوں افراد کو کئی مہینوں یا برسوں تک اپنے علاقوں سے دور رہنا پڑا تھا۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleبنوں میں پولیس چوکیوں پر دہشتگردوں کے حملے بروقت جوابی کارروائی سے ناکام بنا دیئے گئے
    Next Article بنگلادیش نے دوسرے ٹی 20 میچ میں پاکستانی ٹیم کو 8 رنز سے ہرا کر دیا
    Tahseen Ullah Tasir
    • Facebook

    Related Posts

    امن کی کنجی کابل کے ہاتھ میں !

    فروری 22, 2026

    غربت کی نئی لہر اور معیشت کا کڑا امتحان

    فروری 21, 2026

    رہائی فورس کا اعلان،سیاسی وفاداری یا تصادم کا حتمی فیصلہ ؟

    فروری 20, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    حاضر سروس بھارتی فوجی اہلکار منشیات سمگلنگ کیس میں گرفتار

    فروری 25, 2026

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ سپر 8: انگلینڈ نے پاکستان کو شکست دے کر سیمی فائنل میں جگہ بنا لی

    فروری 25, 2026

    شاہراہِ امن| قومی امن و سلامتی پر مبنی خصوصی پروگرام

    فروری 25, 2026

    پاکستان اسٹاک مارکیٹ مسلسل تیسرے روز مندی کا شکار، ہنڈرڈ انڈیکس 1632 پوائنٹس گر گیا

    فروری 25, 2026

    پاک افغان سرحد پر فائرنگ کا تبادلہ، پاکستان اور افغان طالبان حکومت کے درمیان کشیدگی میں اضافہ

    فروری 25, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.