اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے دنیا بھر پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں، اس لیے تمام فریقین کو چاہیے کہ وہ مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے اس تنازع کا حل تلاش کریں۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں آبنائے ہرمز کے بحران پر مباحثے کے دوران خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت کے لیے شدید نقصان دہ ہے اور اس اہم بحری گزرگاہ کی مکمل بحالی ضروری ہے۔
اپنے خطاب میں انہوں نے مزید کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال نے عالمی سطح پر منفی اثرات ڈالے ہیں، جبکہ اس بحران کو پہلے ہی روکا جا سکتا تھا۔ پاکستان نے ابتدا سے ہی امن، مذاکرات اور سفارتی حل کو ترجیح دی ہے، اور اسی سلسلے میں اسلام آباد میں بھی مذاکراتی کوششیں کی جا چکی ہیں۔
پاکستانی مندوب کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل اور تجارتی سرگرمیوں کے لیے نہایت اہم سمندری راستہ ہے۔ اس میں کسی قسم کی بندش نہ صرف تیل اور گیس کی سپلائی کو متاثر کرتی ہے بلکہ عالمی معیشت پر بھی شدید دباؤ ڈالتی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ موجودہ صورتحال کے باعث توانائی، صنعت اور دیگر اہم شعبوں کی سپلائی چین متاثر ہو رہی ہے، جس سے عالمی سطح پر معاشی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔

