Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    منگل, اگست 25, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • بنوں اور لکی مروت پولیس کمیٹیوں کا 7 اہلکاروں کے تبادلوں پر احتجاج
    • صوابی چھوٹا لاہور میں کم عمر گونگی اور بہری لڑکی سے نکاح کی کوشش، 70 سالہ شخص گرفتار
    • خیبر پختونخوا اسمبلی نے بانی پی ٹی آئی کو شفاء ہسپتال منتقل کرکے علاج کی سہولت دینے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی
    • آئندہ 24 گھنٹوں میں گرم اور مرطوب موسم کی پیش گوئی، بالائی علاقوں میں بارش کی پیشگوئی
    • جمرود تخته بیگ چیک پوسٹ پر حملہ ، زخمی پولیس اہلکار شہید ، نمازِ جنازہ سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا
    • عوام نے فیصلہ دے دیا، بانی کو رہا کرکے دکھائیں گے ، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی
    • پاکستان نے جاپان جونیئر اوپن سکواش چیمپئن شپ میں 2 گولڈ میڈلز اپنے نام کرلئے
    • اے سی سی انتخابات، پاکستان کے حمایت یافتہ پینل نے بھارتی حمایت یافتہ پینل کو شکست دیدی
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » پی ٹی آئی دھرنا،زمینی حقائق اور پولیس؟
    بلاگ نومبر 22, 2024

    پی ٹی آئی دھرنا،زمینی حقائق اور پولیس؟

    Facebook Twitter Email
    PTI dharna, ground facts and police?
    تمام مسائل کا حل اڈیالہ جیل تک ہی محدود کردیا گیاہے، یہ ہوکیارہاہے؟کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔
    Share
    Facebook Twitter Email

    یہ 2009 کی بات ہے پشاور یونیورسٹی کےشعبہ صحافت  نے ایک بین الاقوامی ادارے کےتعان سے ایک ٹریننگ کا اہتمام کیا تھا،جس میں چیدہ چیدہ قبائلی صحافیوں کو مدعو کیا گیا تھا،ٹریننگ کے اختتامی سیشن میں طالبان  بارے پوچھے گئے ایک سوال پر(تب طالبان حالیہ دور سے بھی زیادہ پاورفل تھے)ایک قبائلی صحافی نے ٹرینر سے کہا کہ بھئی ہمیں بتایا گیا تھا کہ طالبان کے بارے  میں کوئی بات نہیں ہوگی اس لئے میں اپنی تقریر میں طالبان کا ذکر کرنے سے رہا،جب میری باری آئی تو میں نے اس صحافی کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ میرے بھائی نے بالکل ایسا ہی کیا جیسا جب جاپان میں ناگاساکی یا ہیروشیما پر ایٹم بم گرائے گئے  تب ایک رپورٹر کیمرے کے سامنے آیا ہوگا اور اس نے کہنا شروع کردیا ہوگا کہ جب ایٹم بم گرایا گیا تو یہاں موسم بہت خوشگوار تھا،ہلکی ہلکی بارش بھی ہوئی تھی،موسم بہار میں بہت سارے پھول بہت خوبصورت دکھائی دے رہے تھے،بچے اپنے معصومانہ انداز میں کھیل رہے تھے، جانوروں کو اپنے حقوق حاصل تھےاور لوگ یہ سننا چاہتے کہ بھئی ایٹم بم کی وجہ سے کتنے لوگ لقمہ اجل بنے ہیں؟لیکن موصوف اس ٹاپک پر بات ہی نہیں کرنا چارہے تھے۔

    کل ضلع کرم میں پچاس سے زیادہ لوگ زبردستی  شہادت کے مرتبے پر پہنچائے گئے،پرسوں بنوں میں ایک خاتون سمیت چار آدمی مارے گئے،تین دن پہلے بنوں میں سیکورٹی ادارے کے اہلکاروں سمیت گیارہ پولیس والے شہید کردئیے گئے،اسی دن سات پولیس اہلکاروں کو اغواء کیا گیا  جنہیں بعد میں بازیاب کرایا گیا،روز اس بدقسمت صوبے کے کسی حصے میں پولیس اہلکاروں کو شہید کردیاجاتاہے،ایک قیامت ہے کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہاہے،پولیس جوان سڑکوں پر اپنی جانیں،اپنے بچوں کا مستقبل ہاتھوں میں لیکر روز قربانیوں کی نئی تاریخیں رقم کررہے ہیں،ایک ایسی جنگ کا ایندھن پولیس کو بنایا جارہاہے جو پولیس نے شروع ہی نہیں کی ہے،ہر طرف خانہ جنگی کا سماں بندھا گیاہے،روحیں روز کانپ رہی ہیں نئی نئی داستانوں سے،بچے بابا ،بابا کہہ کر کبھی قبروں اور کبھی  اپنے سینوں کو مار رہے ہیں،جوان خواتین  ہزاروں خواب آنکھوں میں لئے بیوگی کی تاریکیوں میں ڈوب رہی ہیں،مائیں ہاتھ اٹھا اٹھا کر خدا سے مدد مانگتی ہوئی تھک چکی ہیں،آسمان نے بھی جیسے چپ سادھ لی ہے،ایسا لگتاہے کہ موت کے فرشتے  نے اس صوبے کے ہر گھر کے ساتھ ایک ایک مکان کرائے پر لیاہے،روز روحوں کی قطاریں بناکر آسمان کو ارسال کرنے میں لگا ہے،سکول اجڑ گئے،مدرسے دہشت کی علامتیں بن گئے،مساجد ویران ہوتی جارہی ہیں،کاروبار تباہی کے دہانے پر پہنچ چکاہے،بے روزگاری نے چاروں طرف پنجے گاڑھ لئے ہیں،سکون نام کی چیز یہاں سے پرواز کرچکی ہے۔

    اور ایسے حالات میں یہاں کی منتخب حکومت دھرنے اور احتجاج کرنے پر تلی ہوئی ہے ۔وہ بھی ایک شخص کی رہائی کی خاطر جیسے خود معلوم نہیں کہ کرنا اور کہنا کیا ہے؟آخر اس شخص کی پارٹی نے اس صوبے،اس ملک کو کیا دیاہے؟یہ سوال کرنا بھی کفر کے زمرے میں شمار ہونے لگاہے۔

    لوگ بھوک و افلاس سے مررہے ہیں،اور مونچھوں والی سرکار روز مونچھوں کو شہد لگاکر احتجاج کی کال دینے کی نویدیں سناتے ہیں۔

    پولیس اہلکار مر رہے ہیں،سیکورٹی ادارے قربانیاں دے رہے ہیں،معیشت گر رہی ہے،تعلیمی ادارے فروخت اور بند کئے جارہے ہیں،لیکن ان تمام مسائل کا حل اڈیالہ جیل تک ہی محدود کردیا گیاہے،

    یہ ہوکیارہاہے؟کسی کے پاس کوئی جواب نہیں،وفاقی حکومت محسن نقوی کی ذات تک محو طواف ہے، پنجاب کی رانی کو میک اپ اور پلاسٹک سرجری کروانےسے فرصت نہیں،نوازشریف باہر جاکر پھر سے سری پائے کھانے میں مصروف ہوگئے ہیں،مولانا فضل الرحمن بابرکت ٹپس دیکر 26ویں ترمیم پاس کرانے کے بعد مصلے پر بیٹھ کر اللہ اللہ کرنے میں مصروف ہوگئے،زرداری چاروں انگلیاں گھی میں ڈال کر مربے کھانے میں مصروف ہیں،سندھ کی حکومت اپنی شہنشاہیت چلانے کی فکر میں ہے،یہاں کا گورنر روز کسی ماڈل کی طرح سج دھج کر اسلام آباد اور لاہور میں چٹ پٹے کھانے یا بچوں کے ساتھ کرکٹ کھیلتے نظر آتے ہیں،جماعت اسلامی والے اپنی خلافت قائم کرنے کی فکر میں مر رہے ہیں،

    چاروں طرف خون،انسانی چھیتڑے نظر آتے ہیں اور ان لوگوں کو فکر ہی نہیں،پولیس سمیت سرکاری اداروں کو مجبور کیا جارہاہے کہ ہمارے ساتھ دھرنے میں شامل ہوجاو ورنہ تمہاری خیر نہیں،ایس ایچ اوز لیول کے پولیس آفیسرز کو نہیں بخشا جارہاہے اور ڈی آئی جیز،ڈی پی اوز کی ٹرانسفرنگ پوسٹنگ کو اپنے ہاتھوں میں لینا چاہتے ہیں۔

    اور اس سب کے لئے عوام کو ڈرایا دھمکایا جارہا ہے کہ نکلو ورنہ حالات اور بھی برے ہوجائینگے،

    خدا  کا خوف کریں،یہاں روز اتنی قیامتیں نازل کرائی جارہی ہیں کہ روزمحشر کو بھی شائد ہماری ان حالات پر ترس آئیگی۔ قیامت کے دن مزید اس قوم،اس مٹی پر رحم کرو،اگر قیامت پر یقین رکھتے ہو تو؟ورنہ تم اور تمہاری کارکردگی کی برکت سے زندگی یہاں سے ناراض ہوتی جارہی ہے،خوشی نام کی چیز کب کی چلی گئی ہے،ناچ گانوں،سڑکوں پر ڈانس کرنے سے اگر مسئلے حل ہوتے تو آج خواجہ سراوں اور طوائفوں کے حجرے خوشحالی کی علامت ہوتے۔

    خدا ہم سب کا حامی و ناصر ہو

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleبشریٰ بی بی کے سعودی عرب پر الزامات شرمناک ہیں، وزير دفاع خواجہ آصف
    Next Article آرمی چیف کا عزم: دہشتگردوں اور قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے والے عناصر کو جڑ سے اکھاڑیں گے
    Rashid Afaq
    • Website

    Related Posts

    یوم آزادی کی قدر

    اگست 13, 2026

    شاہینوں کا وہ سپہ سالار جس نے فضاؤں کا نصاب بدل دیا

    اگست 7, 2026

    آخر کب تک؟ معصوم بچوں کے خلاف جنسی جرائم، معاشرتی زوال اور ہماری اجتماعی ذمہ داری. تحریر: نازپروین

    جولائی 1, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    بنوں اور لکی مروت پولیس کمیٹیوں کا 7 اہلکاروں کے تبادلوں پر احتجاج

    اگست 25, 2026

    صوابی چھوٹا لاہور میں کم عمر گونگی اور بہری لڑکی سے نکاح کی کوشش، 70 سالہ شخص گرفتار

    اگست 25, 2026

    خیبر پختونخوا اسمبلی نے بانی پی ٹی آئی کو شفاء ہسپتال منتقل کرکے علاج کی سہولت دینے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی

    اگست 24, 2026

    آئندہ 24 گھنٹوں میں گرم اور مرطوب موسم کی پیش گوئی، بالائی علاقوں میں بارش کی پیشگوئی

    اگست 24, 2026

    جمرود تخته بیگ چیک پوسٹ پر حملہ ، زخمی پولیس اہلکار شہید ، نمازِ جنازہ سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا

    اگست 24, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.