Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بدھ, اکتوبر 14, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • قومی اسمبلی نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی منظوری دیدی،قرارداد کثرت رائے سے منظور
    • سہیل آفریدی مذاکرات کے آخر میں مراد سعید سے فیصلے کیوں لے رہے تھے؟ محسن نقوی کا انکشاف
    • یورپ کی جانب غیر قانونی مائیگریشن میں 64 فیصد کمی، یورپی کمشنر کی پاکستان کے اقدامات کی تعریف
    • پاکستان کڈنی اینڈ لیور ٹرانسپلانٹ انسٹی ٹیوٹ میں مزید دو لیور ٹرانسپلانٹ کامیاب
    • وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی آئی ایف سی کے نائب صدر سے ملاقات، ریکوڈک منصوبے پر تعاون کا جائزہ
    • حکومت غربت کے خاتمے اور پائیدار ترقی کے لیے پُرعزم ہے، وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال
    • خیبرپختونخوا میں آئی ٹی سمیت تمام شعبوں میں ترقی یقینی بنائیں گے، وفاقی وزیر شزہ فاطمہ
    • خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ، ایمرجنسی کا فیصلہ ناگزیر تھا، وفاقی وزراء
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » پی ٹی آئی کا احتجاج،زمینی حقائق اور چشم دید گواہ؟
    بلاگ نومبر 29, 2024

    پی ٹی آئی کا احتجاج،زمینی حقائق اور چشم دید گواہ؟

    Facebook Twitter Email
    PTI's protest, ground facts and eyewitnesses?
    اگربڑھکیں مارنے اور دھمکیاں دینے سے مسئلے حل ہوتے تو آج دنیا میں کوئی مسئلہ نہ ہوتا۔
    Share
    Facebook Twitter Email

    ایک نوکر نے مالک کے سامنے آکر دھمکی آمیز لہجے میں بولا کہ میری تنخواہ بڑھادو ورنہ؟

    مالک نے غصے سے کہا کہ ورنہ کیا؟تو بے چارے نے نہایت معصومیت کے ساتھ کہا کہ ورنہ اسی تنخواہ پر گزارہ کرونگا۔

    یہی حال پی ٹی آئی کے ساتھ حالیہ اسلام آباد دھرنے اور احتجاج کے دوران ہوا،ان کو بار بار بتایا گیا کہ احتجاج ملتوی کرو،حکومت بانی پی ٹی آئی کو  رعایت دیگی،لیکن پی ٹی آئی قیادت بضد تھی کہ نہیں ان کو ابھی رہا کرنا ہوگا،ورنہ دھرنا ہوگا،مرنا ہوگا اور یہ نہیں بتایا تھا کہ واپس مڑنا بھی بھاگ کر ہوگا،حکومت نے کہا کہ چلو احتجاج کرو،دیکھتے ہیں کہ آگے کیا ہوتاہے،ابھی احتجاج ختم ہوا،ڈی چوک صاف ہوگیا،جلی ہوئی گاڑیاں،پرانے جوتے،پھاڑے ہوئے کپڑے ہی ڈی چوک میں نظر آتے ہیں اور مونچوں والی سرکار کارکنوں کو جلتی آگ میں چھوڑ کر پیرنی کے ہمراہ آبدوز کی طرح اسلام آباد میں غوطہ زن ہوکر مانسہرہ میں نکل آئی،اور پھر مانسہرہ میں پریس کانفرنس کرکے اعلان کیا کہ احتجاج ابھی ختم نہیں ہوا،بابا احتجاج تو آپ ڈی چوک سے آخری قدم اٹھاکر خود ختم کراچکے ہو،البتہ وہاں کارکنوں پر کیا قیامت گزری؟وہ کارکنوں کا مسئلہ تھا،وہ درد اِن غریب کارکنوں کا تھا جو پیرنی،اسد قیصر،عمرایوب اور مونچھوں والی سرکار کبھی بھی محسوس نہیں کرسکتے،وفاقی حکومت نے احتجاج کو  بہت بری طرح ڈیل کیا اس میں شک نہیں،اگر پی ٹی آئی نے احتجاج کرنا تھا تو کرنے دیتے،کونسا آسمان سر پر اٹھانا تھا،لیکن احتجاج کرنے نہیں دیا،جو پی ٹی آئی کا آئینی اور قانونی حق تھا،یہ بات بھی اہم ہے کہ اگر احتجاج پرامن ہوتا تو،

    بہرحال پھر دوسری غلطی پی ٹی آئی کی قیادت نے کی جب ان کو اسلام آباد ہائیکورٹ  نے احتجاج سے منع کیا،حکومت نے منع کیا،وزیرداخلہ نے دوسری جگہ احتجاج کرنے کی  پیشکش کی،لیکن پی ٹی آئی والوں کو ایک نادیدہ انقلاب نظر آرہاتھا جو کبھی آنے والا ہے ہی نہیں اس ملک میں،اور پھر کیا ہوا؟وہ سب نے دیکھ لیا،اور پھر کئی کارکنوں کی موت اور لاپتہ ہونے کی الگ الگ دستانیں سنانے کا وقت ہوا،اس بارے بھی عجیب و غریب منطق پیش کی جارہی ہے،کبھی کہا جارہاہے کہ سینکڑوں لوگ لاپتہ ہیں کبھی کیا کیا ارشادات فرماتے ہیں؟اور جو پولیس والے،رینجرز والے شہید ہوئے ان کے بارے مکمل خاموشی ہے جیسے ان کو قتل کرنے والے کوئی اور تھے۔

    اس میں ایک اور اہم بات یہ کہ احتجاج کی کوریج کے لئے ہم پشاور سے اسلام آباد جارہے تھے تو راستے میں ہم نوجوانوں کو دیکھ رہے تھے جو بڑے پرجوش نعرے لگاکر جارہے تھے ۔میں نے اپنے کیمرہ مین کو بتایا کہ بعد میں دیکھنا کہ یہ لوگ کس قدر اپنی جسموں کو تاب دیتے ہوئے واپس آئینگے اور پھر ایساہی  ہوا،

    غیرسنجیدگی کی یہ حالت تھی کہ چھچھ نامی جگہ پر چالیس چالیس فٹ کے دو دو کنٹینرز کو آپس میں جوڑنے کے لئے ویلڈ کرکے ان کو ریت سے بھردیاگیا تھا پر ان کے اوپر ریت کی بوریوں کی دیواریں بناکر وہاں پولیس کو سٹینڈبائی بٹھایاگیا تھا اور ان لوگوں کے پاس کوئی بھاری بھرکم مشینری نہیں تھی،ایک پریس کانفرنس کے دوران میں نے شاندانہ گلزار سے پوچھا کہ اتنے بھاری کنٹینرز کو کیسے ہٹائینگے آپ لوگ؟

    تو موصوفہ نے کہا کہ ہم ہاتھوں سے ہٹائینگے،اس طرح ہاتھوں سے اگر سٹیل اور لوہے کی دیواریں کاٹی جاتی تو آج کوئی جیل محفوظ اور کوئی قیدی جیل میں نہ ہوتا،پتہ نہیں پی ٹی آئی کے ان ایکٹرنما لیڈرز  سلطان راہی کی کونسی فلمیں دیکھ کر ان سے متاثر ہوتے ہیں۔

    ظالموں اگر فلمیں دیکھنا ہی ہیں تو ٹام کروز،وین ڈیزل اور مشن ایمپاسبل فور فائیو ٹائپ کی فلمیں دیکھا کریں تاکہ کچھ تکنیک تو ان سے لے سکیں؟

    بہرحال ایسا معلوم ہورہاتھا جیسے ان کارکنوں کو مروانے کے لئے ہی تیار کرکے لے جایا جارہاہو،

    اور وہ کارکن حضرات بھی اب ٹھنڈے دماغ سے جیلوں اور حوالاتوں میں سڑنے کے بعد ہی سوچیں گے کہ اڈیالہ سے کسی کو نکالنا اور خود جیل جانے میں کتنا فرق ہوتاہے؟

    ویسے اب زخموں کی مرہم پٹی کی ضرورت بھی ہوگی جس کے لئے گنڈاپوری شہد کافی نہیں بلکہ پراپر علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔

    ویسے ایک بات اور اگربڑھکیں مارنے اور  دھمکیاں دینے  سے مسئلے حل ہوتے تو آج دنیا میں کوئی مسئلہ نہ ہوتا۔

    اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleپاکستان تحریک انصاف سیاسی جماعت نہیں بلکہ تخریب کاری کا ایک جتھہ ہے، وزیراعظم شہباز شریف
    Next Article اسلام آباد کو شرپسندوں سے محفوظ رکھنے کیلئے ردالفساد فورس بنانے کا فیصلہ
    Arshad Iqbal

    Related Posts

    خیبرپختونخوا میں سیاسی و آئینی کشمکش: گورنر راج اور ایمرجنسی میں فرق اور صدر مملکت کے اختیارات!

    اکتوبر 5, 2026

    جب عوامی آوازیں دبتی ہیں، تو ریاستیں لرزتی ہیں. تحریر: قریش خٹک

    ستمبر 22, 2026

    پمز سانحے کے اصل حقائق

    اگست 26, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    قومی اسمبلی نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی منظوری دیدی،قرارداد کثرت رائے سے منظور

    اکتوبر 14, 2026

    سہیل آفریدی مذاکرات کے آخر میں مراد سعید سے فیصلے کیوں لے رہے تھے؟ محسن نقوی کا انکشاف

    اکتوبر 13, 2026

    یورپ کی جانب غیر قانونی مائیگریشن میں 64 فیصد کمی، یورپی کمشنر کی پاکستان کے اقدامات کی تعریف

    اکتوبر 13, 2026

    پاکستان کڈنی اینڈ لیور ٹرانسپلانٹ انسٹی ٹیوٹ میں مزید دو لیور ٹرانسپلانٹ کامیاب

    اکتوبر 13, 2026

    وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی آئی ایف سی کے نائب صدر سے ملاقات، ریکوڈک منصوبے پر تعاون کا جائزہ

    اکتوبر 13, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.