Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    جمعرات, اپریل 30, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • وفاقی وزراء کی معرکۂ حق کے کمسن مجاہد ارتضیٰ عباس شہید کے گھر آمد
    • قدرتی وسائل یا معاشرتی وبال؟ خیبر پختونخوا کی تلخ حقیقت، تحریر: قریش خٹک
    • عوام کے لیے خوشخبری، نارمل پاسپورٹ کا اجرا اب صرف 14 دن میں
    • ملک کے بیشتر علاقوں میں گرمی برقرار، بالائی علاقوں میں بارش کی پیشگوئی
    • سرحد پار گولہ باری: انگور اڈہ میں افغان طالبان کا مبینہ حملہ، ایک ہی خاندان کے 5 افراد زخمی
    • اسلام آباد: اپنا گھر اسکیم کا اجراء، وزیرِ اعظم شہباز شریف کی شرکت
    • پاکستان اسٹاک مارکیٹ مندی کا شکار، ہنڈرڈ انڈیکس 3304 پوائنٹس گر گیا
    • کابل میں پاکستانی ناظم الامور کی طلبی، پاکستان نے ڈی مارش کو پراپیگنڈا قرار دے دیا
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » روس، طالبان اور پاکستان, علاقائی سیاست کا نیا مثلث
    بلاگ

    روس، طالبان اور پاکستان, علاقائی سیاست کا نیا مثلث

    جولائی 7, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Share
    Facebook Twitter Email

    روس کی جانب سے افغان طالبان حکومت کو باضابطہ تسلیم کیا جانا ایک اہم جیو-پولیٹیکل قدم ہے، خاص طور پر پاکستان جیسے پڑوسی ملک کے لیے جس کی سکیورٹی اور خارجہ پالیسیوں پر اس کا براہِ راست اثر پڑتا ہے۔

    سیاست کے اپنے اصول ہوتے ہیں اور یہ وقت کے ساتھ دشمنوں کو اتحادی بنانے کی گنجائش بھی رکھتی ہے۔ یہی اصول روس اور طالبان کے موجودہ تعلقات میں بھی کارفرما ہیں۔ طالبان وہی گروہ ہیں جو انہی مجاہدین کی نظریاتی توسیع ہیں، جنہوں نے کبھی سوویت یونین کو افغانستان میں شکست دی تھی—اور اسی جدوجہد میں پاکستان نے بھی کلیدی کردار ادا کیا تھا۔

    تاہم وقت نے یہ دکھایا ہے کہ انہی گروپوں کی بعد کی نسلیں، آج پاکستان کی سلامتی کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج بن چکی ہیں۔ یہ عسکریت پسند گروہ، طالبان حکومت کی پالیسیوں کی روشنی میں، افغانستان کے تاریخی تناظر سے پاکستان کو پرکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    دوسری طرف امریکہ جیسی عالمی طاقت طالبان سے بات چیت کا آغاز افغانستان سے انخلا سے بہت پہلے کر چکی تھی۔ ان کے لیے سفارتی تعلقات اخلاقی بنیادوں پر نہیں بلکہ حکمتِ عملی پر مبنی ہوتے ہیں۔ روس بھی اسی عملی سوچ کے تحت قدم اٹھا رہا ہے، جو حالیہ برسوں میں اس کی پالیسی میں واضح تبدیلیوں سے ظاہر ہوتا ہے۔

    روس کا یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں ایران-اسرائیل کشیدگی نے عالمی سیاست میں توجہ بٹا رکھی ہے، اور روس جنوبی وسطی ایشیا میں اپنے اثر و رسوخ کے تحفظ کی کوشش میں مصروف ہے۔

    اصل سوال یہ ہے روس طالبان حکومت کو تسلیم کر کے کیا حاصل کرنا چاہتا ہے؟ اس فیصلے کے پیچھے کئی مقاصد ہو سکتے ہیں، جن میں مغربی اثر کا مقابلہ، علاقائی مفادات کا تحفظ، اقتصادی مواقع کی تلاش، اور توانائی و انفرااسٹرکچر میں تعاون شامل ہیں۔

    دوسری جانب چین نے بھی اسلام آباد اور کابل کے درمیان اعتماد پیدا کرنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ مقصد واضح ہے: دہشتگردی پر قابو پانا اور علاقائی استحکام کو فروغ دینا۔ مگر بدقسمتی سے، اب تک دہشتگردی پر مکمل قابو نہیں پایا جا سکا ہے۔ افغان سرزمین اب بھی پاکستان پر ہونے والے حملوں کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔

    یہی گروہ جنہیں کبھی "اچھے طالبان” یا پاکستانی اتحادی کہا جاتا تھا، اب پاکستان کے خلاف صف آرا ہیں۔ اس تضاد کو دیکھتے ہوئے واضح ہوتا ہے کہ پراکسی طاقتوں پر انحصار ایک خطرناک کھیل ہے، جس کے نتائج اکثر قابو سے باہر ہو جاتے ہیں۔

    افغان قیادت کی طرف سے بھی بظاہر پراکسی عناصر کی اہمیت کو تسلیم کیا جاتا ہے، جو مخالفین پر دباؤ ڈالنے کے لیے کارآمد ہو سکتے ہیں، مگر ساتھ ہی وہ براہِ راست مداخلت سے بچنے کی حکمتِ عملی بھی اپنائے ہوئے ہیں۔

    پاکستان اور ایران، دونوں بخوبی سمجھتے ہیں کہ ایسی قوتوں پر انحصار کرنا کیسے اپنے ہی مفادات کے خلاف جا سکتا ہے۔ یہ گروہ ابتدا میں کام آتے ہیں، مگر بعد میں اپنے ایجنڈے کے تحت سرگرم ہو جاتے ہیں۔

    کچھ تجزیہ کاروں کے مطابق، پاکستان کا وسطی ایشیائی خطے میں بڑھتا ہوا کردار اور جارحانہ سفارتی انداز طالبان کے لیے پریشانی کا سبب بنے ہیں۔ طالبان اپنے تشخص کو کسی کی پراکسی کے طور پر محدود نہیں کرنا چاہتے، حالانکہ وہ خود بھی مخصوص مفادات کے حصول کے لیے پراکسی حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہیں۔

    روس کا یہ فیصلہ ایک حقیقت پسندانہ سیاسی اقدام ہے، جس میں موجودہ صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی کوشش نمایاں ہے۔ مگر سوال اپنی جگہ باقی ہے: کیا روس طالبان کو اس حد تک قابو میں رکھ سکے گا کہ وہ دہشتگردی یا دیگر ممالک کے خلاف پراکسی استعمال نہ کریں؟
    یہی وہ چیلنج ہے جو چین اور پاکستان بھی حل نہیں کر سکے، اور جس کا جواب آنے والے وقت میں ہی ملے گا۔ طالبان کی قیادت فی الحال محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہے، تاکہ بین الاقوامی توقعات اور اپنے اندرونی اہداف کے درمیان توازن قائم رکھ سکے۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleتجاوزات کیخلاف آپریشن کے دوران ملاکنڈ اور سوات میں 700 کنال زمین پر تجاوزات کا انکشاف
    Next Article کراچی میں قبر کی قیمت 14300 روپے مقرر، شہر کے تمام قبرستانوں کو رجسٹرڈ کرنیکا فیصلہ
    Tahseen Ullah Tasir
    • Facebook

    Related Posts

    چراغِ امن

    اپریل 29, 2026

    خون کا دامن اور زندگی کی امانت

    اپریل 28, 2026

    مہنگائی کا طوفان: عوامی زندگی پر بڑھتا دباؤ اور ممکنہ حل، تحریر: ثمن سرفراز

    اپریل 28, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    وفاقی وزراء کی معرکۂ حق کے کمسن مجاہد ارتضیٰ عباس شہید کے گھر آمد

    اپریل 30, 2026

    قدرتی وسائل یا معاشرتی وبال؟ خیبر پختونخوا کی تلخ حقیقت، تحریر: قریش خٹک

    اپریل 30, 2026

    عوام کے لیے خوشخبری، نارمل پاسپورٹ کا اجرا اب صرف 14 دن میں

    اپریل 30, 2026

    ملک کے بیشتر علاقوں میں گرمی برقرار، بالائی علاقوں میں بارش کی پیشگوئی

    اپریل 30, 2026

    سرحد پار گولہ باری: انگور اڈہ میں افغان طالبان کا مبینہ حملہ، ایک ہی خاندان کے 5 افراد زخمی

    اپریل 30, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.