اسلام آباد میں ہونے والا خودکش حملہ صرف ایک دہشت گردانہ کارروائی نہیں، بلکہ ایک ایسی سیاسی سوچ کا نتیجہ بھی ہے جس نے قومی سلامتی کو سنجیدہ ریاستی معاملہ سمجھنے کے بجائے اسے نعرے، جذبات اور ووٹ بینک کی بھینٹ چڑھا دیا، دارالحکومت میں دھماکہ اس بات کا اعلان ہے کہ دہشت گردی واپس نہیں آئی، بلکہ تحریک انصاف کی ناکام پالیسیوں کے باعث اسے واپس لاکر ملک و قوم پر دوبارہ مسلط کیا گیا ۔
تحریکِ انصاف اس حقیقت سے نظریں نہیں چرا سکتی کہ اس کے دورِ حکومت میں دہشت گردی کے خلاف پی ٹی آئی کی حکومت کا بیانیہ شدید ابہام کا شکار رہا۔ ایک طرف دعویٰ کیا جاتا رہا کہ ملک محفوظ ہو چکا ہے، دوسری جانب شدت پسند عناصر کے لیے نرم گوشہ رکھا گیا ۔
دہشت گردوں کو کبھی ’’ناراض پاکستانی‘‘کہا گیا، کبھی انہیں مذاکرات کی میز پر بٹھانے کا جواز پیدا کیا گیا۔ یہ پالیسی نہیں تھی، یہ قومی سلامتی کے ساتھ کھلا مذاق تھا جس کا خمیازہ آج پورا ملک بھگت رہا ہے ۔
تحریکِ انصاف نے اقتدار میں رہتے ہوئے نیشنل ایکشن پلان کو دفن کر دیا۔ نفرت انگیز تقاریر پر پابندی اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کا خاتمہ ،یہ سب صرف تقریروں تک محدود رہا، عملی طور پر نہ صرف ریاست کو کمزور کرنے کی کوششیں کی گئیں بلکہ اپنی انہیں کوششوں کو بیانیے کی شکل دیگر نوجوان نسل کو گمراہ کرنے کی بھی کوشش کی گئی،انہی پالیسیوں اور بیانئے کے باعث شدت پسندوں کو یہ پیغام ملا کہ فیصلہ سازی میں کمزوری اور انتشار موجود ہے ۔
اس سے بھی زیادہ خطرناک رویہ تحریکِ انصاف کی وہ سیاست رہی جس میں ریاستی اداروں کو مسلسل متنازع بنایا گیا۔ جب اداروں پر عدم اعتماد کو سیاسی ہتھیار بنایا جاتا ہے تو اس کا فائدہ اپوزیشن کو نہیں، دہشت گردوں کو ہوتا ہے۔ اداروں کی ساکھ پر حملے، فیصلوں کو مشکوک بنانا، اور ہر سانحے کو سازش قرار دینا،یہ سب مل کر ایک ایسا ماحول بناتے ہیں جہاں دہشت گرد آسانی سے وار کرتے ہیں ۔
اسلام آباد کا خودکش حملہ دراصل اس بیانیے کی لاش پر ہونے والا دھماکہ ہے جو یہ دعویٰ کرتا رہا کہ صرف نیت صاف ہو تو سب ٹھیک ہو جاتا ہے۔ قومی سلامتی نیت سے نہیں، واضح پالیسی، مستقل عمل اور غیر مبہم مؤقف سے محفوظ ہوتی ہےاور تحریکِ انصاف ان تینوں محاذوں پر ناکام نظر آتی ہے ۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ اقتدار سے نکلنے کے بعد تحریکِ انصاف نے قومی یکجہتی کے بجائے مسلسل انتشار کو فروغ دیا۔ لانگ مارچ، اداروں سے تصادم اور ریاستی نظام کو یرغمال بنانے کی سیاست نے سکیورٹی فوکس کو بری طرح متاثر کیا۔ جب ریاست اندرونی محاذ پر لڑ رہی ہو تو بیرونی اور اندرونی دشمن دونوں مضبوط ہو جاتے ہیں ۔
اسلام آباد میں ہونے والا دھماکہ اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ کیا تحریکِ انصاف کبھی اس حقیقت کو تسلیم کرے گی کہ جذباتی سیاست، مبہم بیانیہ اور سکیورٹی معاملات پر غیر سنجیدہ رویہ قومی جرم کے مترادف ہے؟ یا پھر ہر لاش پر بھی وہی سیاسی بیانیہ دہرایا جائے گا؟
یہ سانحہ ہمیں بتاتا ہے کہ دہشت گردی کا مقابلہ ٹوئٹس، جلسوں اور الزامات سے نہیں ہوتا۔ جو جماعت اقتدار میں رہ چکی ہو، اس پر لازم ہوتا ہے کہ وہ اپنی ناکامیوں کا اعتراف کرے۔ مگر تحریکِ انصاف آج بھی خود احتسابی کے بجائے خود کو مظلوم ثابت کرنے میں مصروف ہےاور یہی رویہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو کمزور کرتا ہے ۔
کیا تحریکِ انصاف قومی سلامتی کو واقعی سنجیدہ مسئلہ سمجھتی ہے؟ یا یہ بھی اس کے لیے محض ایک سیاسی ہتھیار ہے؟
جب تک اس سوال کا ایماندارانہ جواب نہیں دیا جاتا، اسلام آباد جیسے سانحات ہمیں یاد دلاتے رہیں گے کہ اصل خطرہ صرف خودکش بمبار نہیں، بلکہ وہ سیاست ہے جو ریاست کو کمزور کر دے ۔

