Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    اتوار, جنوری 11, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • شہید سی ٹی ڈی کانسٹیبل ثناء اللہ کی نمازِ جنازہ ملک سعد شہید پولیس لائن پشاور میں ادا
    • خیبر پختونخوا میں وفاق کے زیر اہتمام ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے کمیٹی تشکیل
    • پاکستان بحریہ نے زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل کا کامیاب تجربہ کرلیا
    • پاکستان اور امریکہ کی مشترکہ فوجی مشق انسپائرڈ گیمبٹ 2026 کا آغاز
    • وزیراعظم کی خیبرپختونخوا میں فتنہ الخوارج کے خلاف کامیاب آپریشنز پر سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
    • جنوبی وزیرستان لوئر اور بنوں میں بم دھماکے، امن کمیٹی کے سربراہ زخمی، پولیس کی تفتیش جاری
    • کراچی میں گلشن اقبال کے فلیٹ میں گیس لیکج سے دھماکہ، 6 افراد زخمی
    • پنجاب، بالائی سندھ اور خیبرپختونخوا کے میدانی علاقوں میں شدید دھند، متعدد موٹرویز بند
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخواہ
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » مشرقِ وسطیٰ کے سٹیج پر جنگی نوٹنکی
    بلاگ

    مشرقِ وسطیٰ کے سٹیج پر جنگی نوٹنکی

    جون 25, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    War gimmicks on the Middle East stage
    یہ کشمکش بظاہر عسکری تھی، مگر اس کا اصل میدان بیانیہ تھا۔ ایران کو داخلی طور پر ایک "فتح" کی ضرورت تھی ۔
    Share
    Facebook Twitter Email

    ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں سفارت کاری کا سب سے مؤثر ہتھیار اب صرف مذاکرات نہیں، بلکہ سٹیج پر لڑی جانے والی جنگیں بھی ہیں۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی اسی سٹیج پرفارمنس کا ایک مکمل نمونہ تھی، ایک ایسا تنازعہ جو اپنے انجام سے زیادہ اپنے اختتام کی نوعیت کی وجہ سے یاد رکھا جائے گا۔ یہ کوئی روایتی جنگ نہ تھی، نہ ہی مکمل امن۔ یہ ایک سکرپٹ شدہ تنازعہ تھا، جس میں گولہ باری کی آوازیں سنائی گئیں، مگر فریقین کے ہاتھ کسی واضح فتح یا شکست سے محفوظ رہے ۔

    شام کے دارالحکومت دمشق میں ایران کے قونصل خانے پر اسرائیلی بمباری، جس میں پاسدارانِ انقلاب کے سینیئر کمانڈر مارے گئے، اس کشیدگی کا سنگین آغاز تھی ۔ سفارتی قوانین اور عالمی روایت کی کھلی خلاف ورزی نے ایران کو ردعمل پر مجبور کیا۔ 13 اپریل 2024 کو ایران نے اپنی سرزمین سے براہ راست اسرائیل پر بیلسٹک میزائل، کروز میزائل اور ڈرونز پر مشتمل ایک مشترکہ حملہ کیا ، ایک ایسا اقدام جس کی مثال گزشتہ دہائیوں میں نہیں ملتی ۔ ایران کے دعوے کے مطابق یہ "انقلاب کی تاریخ کا پہلا براہِ راست انتقامی حملہ” تھا ۔ حملے کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اسرائیل کی جانب 300 سے زائد ہتھیار داغے گئے ۔

    لیکن نتیجہ؟ اسرائیل نے امریکی، برطانوی، فرانسیسی، اور اردنی فضائی دفاعی نظاموں کی مدد سے ان میں سے تقریباً تمام حملے ناکام بنا دیے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق 99 فیصد میزائل اور ڈرونز راستے میں ہی مار گرائے گئے۔ صرف ایک 7 سالہ بچہ زخمی ہوا، اور ایک فوجی تنصیب کو معمولی نقصان پہنچا۔ اس کے باوجود ایران نے اعلان کیا کہ اس نے "بدلہ لے لیا” ہے اور "مشن مکمل ہو چکا” ہے۔ تہران میں خوشی منائی گئی، اور اسرائیلی حکومت نے بین السطور اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "دشمن کو پیغام مل چکا ہے”۔

    چند دن بعد اسرائیل نے ایران کے شہر اصفہان میں ایک ہدفی کارروائی کی، جس کا دائرہ ایران کی ایٹمی تنصیبات کے نزدیک تک پہنچا۔ اس حملے کے بعد بھی دونوں ممالک نے تصادم کو بڑھانے سے گریز کیا ۔ ایران نے اسے "معمولی واقعہ” قرار دیا، جب کہ اسرائیل نے اپنی فوجی برتری کا عندیہ دیتے ہوئے خاموشی کو ترجیح دی ۔

    اس تمام عرصے میں امریکہ کی حکمت عملی سب سے اہم رہی ۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں واشنگٹن نے ایک طرف اپنے مشرقِ وسطیٰ میں موجود اڈوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے عراق و شام میں ایران نواز گروہوں پر حملے کیے، تو دوسری طرف اسرائیل پر سفارتی دباؤ ڈالا کہ وہ اس ردعمل کو طول نہ دے ۔ امریکی پالیسی ساز جانتے تھے کہ ایک بڑی جنگ مشرقِ وسطیٰ کو دوبارہ آگ کی لپیٹ میں لے سکتی ہے، اور امریکہ کے لیے یہ بوجھ سیاسی، سفارتی اور اقتصادی طور پر ناقابلِ برداشت ہو گا ۔
    یہ کشمکش بظاہر عسکری تھی، مگر اس کا اصل میدان بیانیہ تھا ۔ ایران کو داخلی طور پر ایک "فتح” کی ضرورت تھی تاکہ وہ اپنی قوم کو یہ باور کروا سکے کہ وہ اسرائیل کے سامنے کمزور نہیں ۔ اسرائیل کو بین الاقوامی سطح پر اپنی قوت اور دفاعی صلاحیت دکھانی تھی، اور امریکہ کو دونوں کو قابو میں رکھ کر خطے کا توازن قائم رکھنا تھا ۔ یوں ہر فریق نے وہی کچھ کیا، جو اسے اپنے داخلی سیاسی و سفارتی مفادات کے تحت کرنا تھا ۔

    میڈیا کا کردار بھی اس سکرپٹ کا حصہ رہا ۔ ایران کے سرکاری میڈیا نے حملے کو تاریخی فتح قرار دیا ۔ اسرائیلی میڈیا نے اسے معمولی خطرہ کہہ کر عوام کو مطمئن کیا ۔ مغربی میڈیا نے اسے ٹھنڈے مزاج کی سفارت کاری کی فتح کے طور پر پیش کیا، جیسے تین ایٹمی دہانے والے ممالک نے خود کو کنٹرول کر کے دنیا کو بچا لیا ہو ۔ حقیقت یہ ہے کہ عوام کو وہی دکھایا گیا، جو ان کے حوصلے بلند رکھے اور اسٹیبلشمنٹ کو تحفظ دے ۔

    یہ کہنا کہ یہ سب کچھ "طے شدہ کھیل” تھا شاید مبالغہ ہو، مگر یہ یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ یہ تصادم غیر ارادی یا بے قابو ہرگز نہیں تھا ۔ تمام بڑے فریق اپنی "ریڈ لائنز” اور "محدود دائرۂ جنگ” پر پہلے ہی متفق ہو چکے تھے ۔ جو کچھ ہوا، وہ اسی دائرے کے اندر ہوا ، ایک ایسا عمل جسے اب "کنٹرولڈ اسکیلیشن” یا "سیاسی جنگی تھیٹر” کہا جاتا ہے ۔

    اس ساری کارروائی سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اب صرف بارود کی دھمک سے نہیں ہلتا، بلکہ "محدود جنگ” اور "بڑے پیغامات” کے امتزاج سے توازن قائم کیا جاتا ہے ۔ نہ مکمل جنگ ہوتی ہے، نہ مکمل امن۔ یہ خطہ اب "امن کے سائے میں معلق جنگ” کی کیفیت میں ہے ۔ ہر فریق جانتا ہے کہ سٹیج پر کب آنا ہے، کیا بولنا ہے، اور کب پردے کے پیچھے لوٹ جانا ہے ۔

    ایران اور اسرائیل کی خاموشی امن کی علامت نہیں، بلکہ حکمت عملی کی نشانی ہے ۔ اور جو چیز سب سے زیادہ خطرناک ہے وہ یہ کہ اب جنگ اور امن کے بیچ جو پردہ گرا ہے، اس کے پیچھے کیا ہو رہا ہے، یہ دنیا کو نظر نہیں آتا ۔ یہ وہ نیا مشرقِ وسطیٰ ہے ، جس میں ہر چیز دیکھی جا سکتی ہے، سوائے سچ کے ۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleپاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان ویزا فری انٹری سمیت مختلف معاہدوں پر دستخط
    Next Article ایران ،اسرائیل جنگ ۔۔۔کچھ تلخ و شیریں حقائق ۔۔۔
    Khalid Khan
    • Website

    Related Posts

    شکرپڑیاں کا سبز سکوت کیوں ٹوٹ گیا؟

    جنوری 6, 2026

    این ایف سی اور گلگت بلتستان کا سوال

    جنوری 4, 2026

    بانی پی ٹی آئی کے رہا نہ ہونے کے پیچھے وجوہات کیا ہیں ؟

    دسمبر 30, 2025
    Leave A Reply Cancel Reply

    Khyber News YouTube Channel
    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    شہید سی ٹی ڈی کانسٹیبل ثناء اللہ کی نمازِ جنازہ ملک سعد شہید پولیس لائن پشاور میں ادا

    جنوری 10, 2026

    خیبر پختونخوا میں وفاق کے زیر اہتمام ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے کمیٹی تشکیل

    جنوری 10, 2026

    پاکستان بحریہ نے زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل کا کامیاب تجربہ کرلیا

    جنوری 10, 2026

    پاکستان اور امریکہ کی مشترکہ فوجی مشق انسپائرڈ گیمبٹ 2026 کا آغاز

    جنوری 10, 2026

    وزیراعظم کی خیبرپختونخوا میں فتنہ الخوارج کے خلاف کامیاب آپریشنز پر سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین

    جنوری 10, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.