Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    ہفتہ, اگست 29, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • فیلڈ مارشل عاصم منیر سے سعودی وزیر ماحولیات کی اہم ملاقات، باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال
    • جنوبی وزیرستان کے بازار میں دھماکہ، امن کمیٹی کا رکن جاں بحق، 8 افراد زخمی
    • بیرسٹر افتخار گیلانی نے آزاد کشمیر کے نئے وزیراعظم کے عہدے کا حلف اٹھا لیا
    • ہاکی ورلڈ کپ میں جنوبی افریقہ کو ہرا کر پاکستان نے 11ویں پوزیشن حاصل کرلی
    • لیگی رہنما بیرسٹر افتخار گیلانی آزاد کشمیر کے وزیراعظم منتخب ہوگئے
    • سی ٹی ڈی پشاور ریجن کی قبرستان مہر گل کلے، میراکچوڑی میں کامیاب کارروائی، 4 دہشت گرد ہلاک
    • کویت کے وزیرِ دفاع کی راولپنڈی میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے اہم ملاقات
    • پاکستان کی مسلح افواج کویتی فوج کی تربیت و سرحدی دفاع میں معاونت کیلئے معاہدے پر دستخط
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » مشرقِ وسطیٰ کے سٹیج پر جنگی نوٹنکی
    بلاگ جون 25, 2025

    مشرقِ وسطیٰ کے سٹیج پر جنگی نوٹنکی

    Facebook Twitter Email
    War gimmicks on the Middle East stage
    یہ کشمکش بظاہر عسکری تھی، مگر اس کا اصل میدان بیانیہ تھا۔ ایران کو داخلی طور پر ایک "فتح" کی ضرورت تھی ۔
    Share
    Facebook Twitter Email

    ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں سفارت کاری کا سب سے مؤثر ہتھیار اب صرف مذاکرات نہیں، بلکہ سٹیج پر لڑی جانے والی جنگیں بھی ہیں۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی اسی سٹیج پرفارمنس کا ایک مکمل نمونہ تھی، ایک ایسا تنازعہ جو اپنے انجام سے زیادہ اپنے اختتام کی نوعیت کی وجہ سے یاد رکھا جائے گا۔ یہ کوئی روایتی جنگ نہ تھی، نہ ہی مکمل امن۔ یہ ایک سکرپٹ شدہ تنازعہ تھا، جس میں گولہ باری کی آوازیں سنائی گئیں، مگر فریقین کے ہاتھ کسی واضح فتح یا شکست سے محفوظ رہے ۔

    شام کے دارالحکومت دمشق میں ایران کے قونصل خانے پر اسرائیلی بمباری، جس میں پاسدارانِ انقلاب کے سینیئر کمانڈر مارے گئے، اس کشیدگی کا سنگین آغاز تھی ۔ سفارتی قوانین اور عالمی روایت کی کھلی خلاف ورزی نے ایران کو ردعمل پر مجبور کیا۔ 13 اپریل 2024 کو ایران نے اپنی سرزمین سے براہ راست اسرائیل پر بیلسٹک میزائل، کروز میزائل اور ڈرونز پر مشتمل ایک مشترکہ حملہ کیا ، ایک ایسا اقدام جس کی مثال گزشتہ دہائیوں میں نہیں ملتی ۔ ایران کے دعوے کے مطابق یہ "انقلاب کی تاریخ کا پہلا براہِ راست انتقامی حملہ” تھا ۔ حملے کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اسرائیل کی جانب 300 سے زائد ہتھیار داغے گئے ۔

    لیکن نتیجہ؟ اسرائیل نے امریکی، برطانوی، فرانسیسی، اور اردنی فضائی دفاعی نظاموں کی مدد سے ان میں سے تقریباً تمام حملے ناکام بنا دیے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق 99 فیصد میزائل اور ڈرونز راستے میں ہی مار گرائے گئے۔ صرف ایک 7 سالہ بچہ زخمی ہوا، اور ایک فوجی تنصیب کو معمولی نقصان پہنچا۔ اس کے باوجود ایران نے اعلان کیا کہ اس نے "بدلہ لے لیا” ہے اور "مشن مکمل ہو چکا” ہے۔ تہران میں خوشی منائی گئی، اور اسرائیلی حکومت نے بین السطور اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "دشمن کو پیغام مل چکا ہے”۔

    چند دن بعد اسرائیل نے ایران کے شہر اصفہان میں ایک ہدفی کارروائی کی، جس کا دائرہ ایران کی ایٹمی تنصیبات کے نزدیک تک پہنچا۔ اس حملے کے بعد بھی دونوں ممالک نے تصادم کو بڑھانے سے گریز کیا ۔ ایران نے اسے "معمولی واقعہ” قرار دیا، جب کہ اسرائیل نے اپنی فوجی برتری کا عندیہ دیتے ہوئے خاموشی کو ترجیح دی ۔

    اس تمام عرصے میں امریکہ کی حکمت عملی سب سے اہم رہی ۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں واشنگٹن نے ایک طرف اپنے مشرقِ وسطیٰ میں موجود اڈوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے عراق و شام میں ایران نواز گروہوں پر حملے کیے، تو دوسری طرف اسرائیل پر سفارتی دباؤ ڈالا کہ وہ اس ردعمل کو طول نہ دے ۔ امریکی پالیسی ساز جانتے تھے کہ ایک بڑی جنگ مشرقِ وسطیٰ کو دوبارہ آگ کی لپیٹ میں لے سکتی ہے، اور امریکہ کے لیے یہ بوجھ سیاسی، سفارتی اور اقتصادی طور پر ناقابلِ برداشت ہو گا ۔
    یہ کشمکش بظاہر عسکری تھی، مگر اس کا اصل میدان بیانیہ تھا ۔ ایران کو داخلی طور پر ایک "فتح” کی ضرورت تھی تاکہ وہ اپنی قوم کو یہ باور کروا سکے کہ وہ اسرائیل کے سامنے کمزور نہیں ۔ اسرائیل کو بین الاقوامی سطح پر اپنی قوت اور دفاعی صلاحیت دکھانی تھی، اور امریکہ کو دونوں کو قابو میں رکھ کر خطے کا توازن قائم رکھنا تھا ۔ یوں ہر فریق نے وہی کچھ کیا، جو اسے اپنے داخلی سیاسی و سفارتی مفادات کے تحت کرنا تھا ۔

    میڈیا کا کردار بھی اس سکرپٹ کا حصہ رہا ۔ ایران کے سرکاری میڈیا نے حملے کو تاریخی فتح قرار دیا ۔ اسرائیلی میڈیا نے اسے معمولی خطرہ کہہ کر عوام کو مطمئن کیا ۔ مغربی میڈیا نے اسے ٹھنڈے مزاج کی سفارت کاری کی فتح کے طور پر پیش کیا، جیسے تین ایٹمی دہانے والے ممالک نے خود کو کنٹرول کر کے دنیا کو بچا لیا ہو ۔ حقیقت یہ ہے کہ عوام کو وہی دکھایا گیا، جو ان کے حوصلے بلند رکھے اور اسٹیبلشمنٹ کو تحفظ دے ۔

    یہ کہنا کہ یہ سب کچھ "طے شدہ کھیل” تھا شاید مبالغہ ہو، مگر یہ یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ یہ تصادم غیر ارادی یا بے قابو ہرگز نہیں تھا ۔ تمام بڑے فریق اپنی "ریڈ لائنز” اور "محدود دائرۂ جنگ” پر پہلے ہی متفق ہو چکے تھے ۔ جو کچھ ہوا، وہ اسی دائرے کے اندر ہوا ، ایک ایسا عمل جسے اب "کنٹرولڈ اسکیلیشن” یا "سیاسی جنگی تھیٹر” کہا جاتا ہے ۔

    اس ساری کارروائی سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اب صرف بارود کی دھمک سے نہیں ہلتا، بلکہ "محدود جنگ” اور "بڑے پیغامات” کے امتزاج سے توازن قائم کیا جاتا ہے ۔ نہ مکمل جنگ ہوتی ہے، نہ مکمل امن۔ یہ خطہ اب "امن کے سائے میں معلق جنگ” کی کیفیت میں ہے ۔ ہر فریق جانتا ہے کہ سٹیج پر کب آنا ہے، کیا بولنا ہے، اور کب پردے کے پیچھے لوٹ جانا ہے ۔

    ایران اور اسرائیل کی خاموشی امن کی علامت نہیں، بلکہ حکمت عملی کی نشانی ہے ۔ اور جو چیز سب سے زیادہ خطرناک ہے وہ یہ کہ اب جنگ اور امن کے بیچ جو پردہ گرا ہے، اس کے پیچھے کیا ہو رہا ہے، یہ دنیا کو نظر نہیں آتا ۔ یہ وہ نیا مشرقِ وسطیٰ ہے ، جس میں ہر چیز دیکھی جا سکتی ہے، سوائے سچ کے ۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleپاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان ویزا فری انٹری سمیت مختلف معاہدوں پر دستخط
    Next Article ایران ،اسرائیل جنگ ۔۔۔کچھ تلخ و شیریں حقائق ۔۔۔
    Khalid Khan
    • Website

    Related Posts

    پمز سانحے کے اصل حقائق

    اگست 26, 2026

    یوم آزادی کی قدر

    اگست 13, 2026

    شاہینوں کا وہ سپہ سالار جس نے فضاؤں کا نصاب بدل دیا

    اگست 7, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    فیلڈ مارشل عاصم منیر سے سعودی وزیر ماحولیات کی اہم ملاقات، باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال

    اگست 28, 2026

    جنوبی وزیرستان کے بازار میں دھماکہ، امن کمیٹی کا رکن جاں بحق، 8 افراد زخمی

    اگست 28, 2026

    بیرسٹر افتخار گیلانی نے آزاد کشمیر کے نئے وزیراعظم کے عہدے کا حلف اٹھا لیا

    اگست 28, 2026

    ہاکی ورلڈ کپ میں جنوبی افریقہ کو ہرا کر پاکستان نے 11ویں پوزیشن حاصل کرلی

    اگست 28, 2026

    لیگی رہنما بیرسٹر افتخار گیلانی آزاد کشمیر کے وزیراعظم منتخب ہوگئے

    اگست 28, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.