Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    ہفتہ, مارچ 28, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • پاکستانی بندرگاہیں ٹرانس شپمنٹ مرکز کے طور پر اپنی پوزیشن مضبوط کر رہی ہیں، وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انوار چوہدری
    • نائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار کا قطر کے وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ سے ٹیلیفونک رابطہ، خطے کی صورتحال پر گفتگو
    • استاد احمد گل کی 60 سالہ فنی خدمات کے اعتراف میں خیبر ٹی وی کا خصوصی شو گل زما دخاورے
    • نیشنل گرڈ کمپنی میں نئی تنظیمی تبدیلیوں کا عمل جاری، وفاقی وزیر توانائی سردار اویس لغاری کا اصلاحاتی عمل کی مکمل حمایت کا اعادہ
    • زمین کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ اور کلیدی ذمہ داری ہے، وزیراعظم محمد شہباز شریف
    • پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے پاگیا، 1.2 ارب ڈالر ملیں گے
    • مری میں تجاوزات کیخلاف آپریشن، دکانوں کے باہر قائم غیر قانونی شیڈز، تھڑے، ریڑھیاں اور دیگر رکاوٹیں ہٹا دی گئیں
    • لوئر چترال میں برفبانی چیتے کا حملہ، 35 بکریاں اور بھیڑیں ہلاک
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » خیبرپختونخوا کا صحت انصاف کارڈ یا "صحت کرپشن کارڈ”؟
    بلاگ

    خیبرپختونخوا کا صحت انصاف کارڈ یا "صحت کرپشن کارڈ”؟

    اگست 10, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Health Card Scandal Exposes Massive Corruption in Khyber Pakhtunkhwa
    Fake Hospitals and Ghost Patients Haunt KP Health Card Scheme
    Share
    Facebook Twitter Email

    پاکستان میں صحت کے شعبے کو بہتری کی جانب لے جانے کا خواب ایک بار پھر خاک میں ملتا نظر آ رہا ہے۔ خیبرپختونخوا کی محکمہ صحت کی تازہ آڈٹ رپورٹ نے جو حقائق سامنے رکھے ہیں، وہ نہ صرف چونکا دینے والے ہیں بلکہ ایک بڑے پیمانے پر منظم کرپشن کی نشاندہی بھی کرتے ہیں۔

    2018 سے 2021 کے دوران چلنے والے "صحت انصاف کارڈ” پروگرام میں 28 ارب 61 کروڑ روپے کی مالی بے ضابطگیاں رپورٹ ہوئی ہیں۔ جی ہاں! 28 ارب سے زائد کی وہ رقم، جو اس قوم کے غریب عوام کے علاج معالجے پر خرچ ہونی تھی، وہ یا تو بے مقصد منصوبوں میں بہا دی گئی یا نجی اسپتالوں کے ذریعے کسی اور کی جیب میں چلی گئی۔

    آڈٹ رپورٹ کے مطابق  صحت کارڈ پینل میں وہ نجی اسپتال شامل کیے گئے جو یا تو معیار پر پورے نہیں اترتے تھے یا جنہیں شامل ہی نہیں ہونا چاہیے تھا۔ حیران کن بات یہ ہے کہ 17 اسپتالوں کو صحت سہولت کارڈ پینل میں رجسٹرڈ نہ ہونے کے باوجود اربوں روپے کی ادائیگیاں کر دی گئیں۔ صرف سوات کے دو اسپتالوں کو ہی دیکھ لیں، جنہیں 1،1 ارب روپے سے زائد کی رقم ادا کی گئی، وہ بھی بغیر کسی رجسٹریشن کے۔

    کیا یہ عوام کے ساتھ ایک سنگین دھوکہ نہیں؟ یا پھر یہ محض "نظام کی کمزوری” کے پردے میں چھپی ایک منظم کرپشن نہیں؟

    رپورٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ 32 ڈی ایچ کیو اسپتالوں میں ضرورت سے زیادہ بھرتیاں کی گئیں، جس سے خزانے کو 82 کروڑ 40 لاکھ روپے کا نقصان ہوا۔ کیا خیبرپختونخوا حکومت یہ بتائے گی کہ کس بنیاد پر یہ بھرتیاں کی گئیں؟ کس کے کہنے پر؟ اور کیا ان افراد نے واقعی کام کیا؟

    یہ سوالات ہر اس شہری کے ہیں جو اس ملک کا ٹیکس دہندہ ہے یا جس نے اپنی ماں، بہن، بیٹے کا علاج اس "انصاف کارڈ” سے کرانے کی امید لگائی تھی۔

    آڈٹ رپورٹ کے مطابق صحت کارڈ سے فائدہ اٹھانے والے مریضوں کا مکمل ڈیٹا دستیاب ہی نہیں۔ یہ تو سیدھا سیدھا حساب کتاب چھپانے کا معاملہ ہے۔ 2022 میں جو "سینٹرل منیجمنٹ انفارمیشن سسٹم” متعارف ہونا تھا، وہ بھی کاغذوں تک محدود رہا۔ اگر نادرا اور محکمہ صحت اپنا سسٹم بروقت لاگو نہیں کر سکے تو پھر اتنے بڑے منصوبے کو چلانے کا کیا جواز تھا؟

    سوال یہ ہے:کیا ان تمام اسکینڈلز کا کوئی احتساب ہوگا؟کیا ان غیر رجسٹرڈ اسپتالوں سے رقم واپس لی جائے گی؟کیا وہ افسران اور وزراء جنہوں نے یہ فیصلے کیے، ان سے جواب طلبی ہوگی؟یا پھر ہمیشہ کی طرح، ایک نئی حکومت، نئی کمیٹی، نیا وعدہ، اور پھر خاموشی؟

    خیبرپختونخوا کے عوام اب مزید خاموش نہیں رہ سکتے۔ صحت، تعلیم اور روزگار کے شعبے قوم کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ اگر ان پر بھی کرپشن کی چھری چلائی جائے گی تو عام آدمی کے لیے جینے کا حق کیا رہ جائے گا؟

    یہ محض مالی بے ضابطگی نہیں، بلکہ عوامی اعتماد کا قتل ہے۔ یہ وقت ہے کہ عوام، سول سوسائٹی، اور میڈیا ان اسکینڈلز پر مسلسل سوال اٹھاتے رہیں، تاکہ ذمہ داروں کو بے نقاب کیا جا سکے۔ ورنہ کل کو کوئی اور حکومت، کسی اور نام سے، ایک نیا "انصاف کارڈ” لے آئے گی – اور ہم پھر اسی دائرے میں گھومتے رہیں گے۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleاسلام آباد ائیرپورٹ کے 8 دن تک بند رہنےکی خبریں درست نہیں، ترجمان ائیرپورٹ اتھارٹی
    Next Article جنرل باجوہ کی توسیع پی ٹی آئی کی سب سے بڑی غلطی تھی، پوری قوم سے معافی مانگتے ہیں، اسد قیصر
    Tahseen Ullah Tasir
    • Facebook

    Related Posts

    ووٹرز کا سیاسی وژن: گلگت بلتستان کے مستقبل کی تشکیل

    مارچ 26, 2026

    خلیج میں اصل کشمکش. تحریر: ڈاکٹر حمیرا عنبرین

    مارچ 25, 2026

    رومانیہ نے پاکستان کے قومی ترانے کا پہلا پیشہ ورانہ کورل انتظام پیش کر دیا،تاریخی ثقافتی سنگ میل، دونوں ممالک کی دوستی کا مظہر

    مارچ 24, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    پاکستانی بندرگاہیں ٹرانس شپمنٹ مرکز کے طور پر اپنی پوزیشن مضبوط کر رہی ہیں، وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انوار چوہدری

    مارچ 28, 2026

    نائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار کا قطر کے وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ سے ٹیلیفونک رابطہ، خطے کی صورتحال پر گفتگو

    مارچ 28, 2026

    استاد احمد گل کی 60 سالہ فنی خدمات کے اعتراف میں خیبر ٹی وی کا خصوصی شو گل زما دخاورے

    مارچ 28, 2026

    نیشنل گرڈ کمپنی میں نئی تنظیمی تبدیلیوں کا عمل جاری، وفاقی وزیر توانائی سردار اویس لغاری کا اصلاحاتی عمل کی مکمل حمایت کا اعادہ

    مارچ 28, 2026

    زمین کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ اور کلیدی ذمہ داری ہے، وزیراعظم محمد شہباز شریف

    مارچ 28, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.