Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    پیر, اگست 17, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا سابق فوجیوں کے اعزاز میں استقبالیہ، خدمات کو خراجِ تحسین
    • وزیراعظم کی صدر مملکت سے اہم ملاقات، مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ ، ملک کی معاشی ،سیکیورٹی اور سیاسی صورتحال پر گفتگو
    • نئی دہلی میں بھی پاکستان کا یوم آزادی روایتی جوش و جذبے کیساتھ منایا گیا، صدر مملکت اور وزیراعظم کے پیغامات پڑھ کر سنائے گئے
    • ملک بھر میں 79واں یومِ آزادی ملی جوش و جذبے سے منایا جا رہا ہے
    • یوم آزادی کی قدر
    • سوات قومی جرگے نے حکومت کو امن کے قیام کیلئے ایک ماہ کی مہلت دیدی
    • پاکستانی کوچز ایرانی کرکٹرز کی تربیت کریں گے، دونوں ممالک نے اتفاق کرلیا
    • باجوڑ، سرحدی علاقہ چارمنگ میں بم دھماکہ، 2 خواتین شدید زخمی
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » افغان کمشنریٹ یا منظم جرائم کا گڑھ ؟
    بلاگ جولائی 2, 2025

    افغان کمشنریٹ یا منظم جرائم کا گڑھ ؟

    Facebook Twitter Email
    Afghan Commissionerate or a hotbed of organized crime
    اگر واقعی اس بدعنوانی کو روکا جانا ہے، اگر اس ناسور کو جسمِ ریاست سے کاٹنا ہے، تو محض فائلوں میں دبے نوٹسز یا رسمی بیانات کافی نہیں ۔
    Share
    Facebook Twitter Email

    یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ کچھ ادارے وقت کے ساتھ ساتھ اپنے بنیادی مقصد سے اتنے دور نکل جاتے ہیں کہ وہ پہچان میں نہیں آتے۔ کمشنریٹ برائے افغان مہاجرین، جو کبھی مہاجرین کے دکھوں کا مداوا تھا، آج خود ایک بدنما داستان بن چکا ہے — ایک ایسی داستان جس میں انصاف گم ہے، قانون بے بس ہے، اور احتساب کا لفظ ایک کھوکھلی صدا میں ڈھل چکا ہے۔

    خیبرپختونخوا کے اس وفاقی ادارے میں وہ سب کچھ ہوتا دکھائی دیتا ہے، جو کسی قانون پسند ریاست میں ناقابلِ تصور ہونا چاہیے۔ بدعنوانی، اقربا پروری، غیرقانونی تعیناتیاں، اور وہ بھی ایسے افراد کی جو نہ صرف اخلاقی سوالات کی زد میں ہیں، بلکہ قانونی طور پر بھی مشتبہ پس منظر رکھتے ہیں۔ ان میں سب سے نمایاں نام بدر منیر کا ہے، جنہیں 2023 کی نگران حکومت کے دوران، تمام ضوابط اور قانونی تقاضوں کو روندتے ہوئے، ایک اہم عہدے پر تعینات کر دیا گیا۔

    ایسا افسر جس پر ماضی میں ریپ کا مقدمہ درج ہو چکا ہو، بغیر کسی سکیورٹی کلیئرنس، بغیر اشتہار اور انٹرویو، کس اخلاقی یا قانونی جواز پر تعینات کیا گیا؟ یہ سوال صرف کسی ایک شخص پر نہیں، بلکہ پورے نظام پر اٹھتا ہے۔ جب ایف آئی اے کی جانب سے بار بار نوٹسز بھیجے گئے، تو جواب میں خاموشی ملی، فائلیں بند رہیں، دروازے نہیں کھلے۔ اور جب سوال یہ ہو کہ "کس نے تعینات کیا؟” تو آوازیں دب جاتی ہیں، اور ذمہ داران کی جگہ سائے بولنے لگتے ہیں۔

    بدنصیبی یہ ہے کہ یہ صرف ایک فرد کا معاملہ نہیں۔ کمشنریٹ کی فائلیں ایسی خاموش گواہ بن چکی ہیں جن میں سینئر افسرہ حاجرہ سرور کی فراری کی داستان بھی رقم ہے۔ جنہیں ادارے کے ہی اندر سے، الزام کے اندھیروں سے نکال کر، ملک سے باہر لے جانے میں سہولت دی گئی — اور جب وہ جا چکیں تو ایف آئی اے کو ہوش آیا کہ مقدمہ بھی درج ہونا تھا۔

    ان تمام واقعات میں جو چیز سب سے زیادہ اذیت ناک ہے، وہ انصاف کا مسلسل تعطل ہے۔ ادارے نہ صرف اپنی بدعنوانیوں کو چھپا رہے ہیں بلکہ تحقیقات کی راہ میں بھی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ ایف آئی اے، جو ملک کا ایک اہم تفتیشی ادارہ ہے، خود حیرانی و بے بسی کی تصویر بنی کھڑی ہے۔ کیا یہ واقعی ادارے کی ناکامی ہے یا بااثر قوتوں کا تسلط؟ کیا یہ قانون کی نرمی ہے یا کچھ حلقوں کی جیت؟

    جب ریاستی ادارے خود قانون سے آنکھیں چرا لیں، جب احتساب صرف کمزوروں کے لیے رہ جائے، اور جب طاقتور ہر ضابطے سے بلند تر دکھائی دیں — تب ایسے سوالات جنم لیتے ہیں جن کا جواب کبھی کسی پریس ریلیز میں نہیں ملتا۔

    کمشنریٹ برائے افغان مہاجرین کی موجودہ حالت، وفاقی سرپرستی میں پنپنے والے اس بحران کی غمازی کرتی ہے جس میں نہ قانون کا پاس ہے، نہ عوامی اعتماد کا لحاظ۔ ایک ایسا ادارہ جو کبھی درد کے درماں کی علامت تھا، اب خود انصاف کے زخم پر نمک بن چکا ہے۔

    اگر واقعی اس بدعنوانی کو روکا جانا ہے، اگر اس ناسور کو جسمِ ریاست سے کاٹنا ہے، تو محض فائلوں میں دبے نوٹسز یا رسمی بیانات کافی نہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ عدلیہ خود حرکت میں آئے، پارلیمنٹ آنکھیں کھولے، اور ایف آئی اے کو اپنے فرائض کی ادائیگی کے لیے وہ قوت دی جائے جسے آج کسی نے زنجیروں میں جکڑ رکھا ہے۔

    ورنہ ہم وہی سوال دہراتے رہیں گے —
    کیا یہ ادارہ قانون سے بالاتر ہو چکا ہے؟
    کیا عوام کو صرف وعدوں کے سہارے جینے کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے؟
    کیا انصاف صرف چند مخصوص فائلوں کی حد تک زندہ ہے؟
    اور آخر کب تک…؟ کب تک…؟

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleالیکشن کمیشن نے مخصوص نشستوں کی بحالی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا
    Next Article وزیراعظم شہبازشریف سے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی اہم ملاقات، سانحہ سوات پر بریفنگ
    Khalid Khan
    • Website

    Related Posts

    یوم آزادی کی قدر

    اگست 13, 2026

    شاہینوں کا وہ سپہ سالار جس نے فضاؤں کا نصاب بدل دیا

    اگست 7, 2026

    آخر کب تک؟ معصوم بچوں کے خلاف جنسی جرائم، معاشرتی زوال اور ہماری اجتماعی ذمہ داری. تحریر: نازپروین

    جولائی 1, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    فیلڈ مارشل عاصم منیر کا سابق فوجیوں کے اعزاز میں استقبالیہ، خدمات کو خراجِ تحسین

    اگست 15, 2026

    وزیراعظم کی صدر مملکت سے اہم ملاقات، مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ ، ملک کی معاشی ،سیکیورٹی اور سیاسی صورتحال پر گفتگو

    اگست 14, 2026

    نئی دہلی میں بھی پاکستان کا یوم آزادی روایتی جوش و جذبے کیساتھ منایا گیا، صدر مملکت اور وزیراعظم کے پیغامات پڑھ کر سنائے گئے

    اگست 14, 2026

    ملک بھر میں 79واں یومِ آزادی ملی جوش و جذبے سے منایا جا رہا ہے

    اگست 14, 2026

    یوم آزادی کی قدر

    اگست 13, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.