Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    جمعرات, اکتوبر 22, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • سہ فریقی ون ڈے سیریز، سری لنکا نے انگلینڈ کا 429 رنز کا ہدف پورا کرکے ناممکن کو ممکن بنادیا
    • کرک میں سی ٹی ڈی کے سرچ آپریشن میں 2 دہشت گرد ہلاک، مقابلے کے دوران ڈی ایس پی سمیت 4 اہلکار شہید
    • خیبر پختونخوا میں تعلیم ،صحت، امن سمیت عوامی فلاح کے تمام امور نظر انداز کئےگئے، وزیر اعظم شہبازشریف
    • پاکستان، قطر، ترکیہ اور انڈونیشیا کے درمیان دوحہ میں” بدر” مفاہمتی یادداشت پر دستخط
    • واشنگٹن ڈی سی: پاک-امریکہ ٹیک کنیکٹ 2026 کے تیسرے ایڈیشن کا انعقاد
    • خیبرپختونخوا میں گونر کی جانب سے ڈپٹی کمشنرز کو ایم پی او کے تحت گرفتاری اور نظر بندی کے اختیارات تفویض
    • بلوچستان کی پہلی ڈیجیٹل سٹیل ملز فعال، یومیہ 500 ٹن سریا تیار کرنے کی صلاحیت
    • پاکستان کا پہلا خلاباز چین سے خلائی سفر کے لیے تیار
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • خاص خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » افغان کمشنریٹ یا منظم جرائم کا گڑھ ؟
    بلاگ جولائی 2, 2025

    افغان کمشنریٹ یا منظم جرائم کا گڑھ ؟

    Facebook Twitter Email
    Afghan Commissionerate or a hotbed of organized crime
    اگر واقعی اس بدعنوانی کو روکا جانا ہے، اگر اس ناسور کو جسمِ ریاست سے کاٹنا ہے، تو محض فائلوں میں دبے نوٹسز یا رسمی بیانات کافی نہیں ۔
    Share
    Facebook Twitter Email

    یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ کچھ ادارے وقت کے ساتھ ساتھ اپنے بنیادی مقصد سے اتنے دور نکل جاتے ہیں کہ وہ پہچان میں نہیں آتے۔ کمشنریٹ برائے افغان مہاجرین، جو کبھی مہاجرین کے دکھوں کا مداوا تھا، آج خود ایک بدنما داستان بن چکا ہے — ایک ایسی داستان جس میں انصاف گم ہے، قانون بے بس ہے، اور احتساب کا لفظ ایک کھوکھلی صدا میں ڈھل چکا ہے۔

    خیبرپختونخوا کے اس وفاقی ادارے میں وہ سب کچھ ہوتا دکھائی دیتا ہے، جو کسی قانون پسند ریاست میں ناقابلِ تصور ہونا چاہیے۔ بدعنوانی، اقربا پروری، غیرقانونی تعیناتیاں، اور وہ بھی ایسے افراد کی جو نہ صرف اخلاقی سوالات کی زد میں ہیں، بلکہ قانونی طور پر بھی مشتبہ پس منظر رکھتے ہیں۔ ان میں سب سے نمایاں نام بدر منیر کا ہے، جنہیں 2023 کی نگران حکومت کے دوران، تمام ضوابط اور قانونی تقاضوں کو روندتے ہوئے، ایک اہم عہدے پر تعینات کر دیا گیا۔

    ایسا افسر جس پر ماضی میں ریپ کا مقدمہ درج ہو چکا ہو، بغیر کسی سکیورٹی کلیئرنس، بغیر اشتہار اور انٹرویو، کس اخلاقی یا قانونی جواز پر تعینات کیا گیا؟ یہ سوال صرف کسی ایک شخص پر نہیں، بلکہ پورے نظام پر اٹھتا ہے۔ جب ایف آئی اے کی جانب سے بار بار نوٹسز بھیجے گئے، تو جواب میں خاموشی ملی، فائلیں بند رہیں، دروازے نہیں کھلے۔ اور جب سوال یہ ہو کہ "کس نے تعینات کیا؟” تو آوازیں دب جاتی ہیں، اور ذمہ داران کی جگہ سائے بولنے لگتے ہیں۔

    بدنصیبی یہ ہے کہ یہ صرف ایک فرد کا معاملہ نہیں۔ کمشنریٹ کی فائلیں ایسی خاموش گواہ بن چکی ہیں جن میں سینئر افسرہ حاجرہ سرور کی فراری کی داستان بھی رقم ہے۔ جنہیں ادارے کے ہی اندر سے، الزام کے اندھیروں سے نکال کر، ملک سے باہر لے جانے میں سہولت دی گئی — اور جب وہ جا چکیں تو ایف آئی اے کو ہوش آیا کہ مقدمہ بھی درج ہونا تھا۔

    ان تمام واقعات میں جو چیز سب سے زیادہ اذیت ناک ہے، وہ انصاف کا مسلسل تعطل ہے۔ ادارے نہ صرف اپنی بدعنوانیوں کو چھپا رہے ہیں بلکہ تحقیقات کی راہ میں بھی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ ایف آئی اے، جو ملک کا ایک اہم تفتیشی ادارہ ہے، خود حیرانی و بے بسی کی تصویر بنی کھڑی ہے۔ کیا یہ واقعی ادارے کی ناکامی ہے یا بااثر قوتوں کا تسلط؟ کیا یہ قانون کی نرمی ہے یا کچھ حلقوں کی جیت؟

    جب ریاستی ادارے خود قانون سے آنکھیں چرا لیں، جب احتساب صرف کمزوروں کے لیے رہ جائے، اور جب طاقتور ہر ضابطے سے بلند تر دکھائی دیں — تب ایسے سوالات جنم لیتے ہیں جن کا جواب کبھی کسی پریس ریلیز میں نہیں ملتا۔

    کمشنریٹ برائے افغان مہاجرین کی موجودہ حالت، وفاقی سرپرستی میں پنپنے والے اس بحران کی غمازی کرتی ہے جس میں نہ قانون کا پاس ہے، نہ عوامی اعتماد کا لحاظ۔ ایک ایسا ادارہ جو کبھی درد کے درماں کی علامت تھا، اب خود انصاف کے زخم پر نمک بن چکا ہے۔

    اگر واقعی اس بدعنوانی کو روکا جانا ہے، اگر اس ناسور کو جسمِ ریاست سے کاٹنا ہے، تو محض فائلوں میں دبے نوٹسز یا رسمی بیانات کافی نہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ عدلیہ خود حرکت میں آئے، پارلیمنٹ آنکھیں کھولے، اور ایف آئی اے کو اپنے فرائض کی ادائیگی کے لیے وہ قوت دی جائے جسے آج کسی نے زنجیروں میں جکڑ رکھا ہے۔

    ورنہ ہم وہی سوال دہراتے رہیں گے —
    کیا یہ ادارہ قانون سے بالاتر ہو چکا ہے؟
    کیا عوام کو صرف وعدوں کے سہارے جینے کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے؟
    کیا انصاف صرف چند مخصوص فائلوں کی حد تک زندہ ہے؟
    اور آخر کب تک…؟ کب تک…؟

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleالیکشن کمیشن نے مخصوص نشستوں کی بحالی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا
    Next Article وزیراعظم شہبازشریف سے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی اہم ملاقات، سانحہ سوات پر بریفنگ
    Khalid Khan
    • Website

    Related Posts

    خیبرپختونخوا میں سیاسی و آئینی کشمکش: گورنر راج اور ایمرجنسی میں فرق اور صدر مملکت کے اختیارات!

    اکتوبر 5, 2026

    جب عوامی آوازیں دبتی ہیں، تو ریاستیں لرزتی ہیں. تحریر: قریش خٹک

    ستمبر 22, 2026

    پمز سانحے کے اصل حقائق

    اگست 26, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    سہ فریقی ون ڈے سیریز، سری لنکا نے انگلینڈ کا 429 رنز کا ہدف پورا کرکے ناممکن کو ممکن بنادیا

    اکتوبر 22, 2026

    کرک میں سی ٹی ڈی کے سرچ آپریشن میں 2 دہشت گرد ہلاک، مقابلے کے دوران ڈی ایس پی سمیت 4 اہلکار شہید

    اکتوبر 22, 2026

    خیبر پختونخوا میں تعلیم ،صحت، امن سمیت عوامی فلاح کے تمام امور نظر انداز کئےگئے، وزیر اعظم شہبازشریف

    اکتوبر 22, 2026

    پاکستان، قطر، ترکیہ اور انڈونیشیا کے درمیان دوحہ میں” بدر” مفاہمتی یادداشت پر دستخط

    اکتوبر 22, 2026

    واشنگٹن ڈی سی: پاک-امریکہ ٹیک کنیکٹ 2026 کے تیسرے ایڈیشن کا انعقاد

    اکتوبر 22, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.