Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    اتوار, اگست 23, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • ہاکی ورلڈ کپ میں 16 سال بعد پاکستان کی کامیابی، قومی ٹیم نے جاپان کو شکست دیدی
    • عمران خان کی پمز ہسپتال منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی نے توہین عدالت کی درخواست دائر کردی
    • وزیر اعظم شہبازشریف کا حالیہ بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کی مالی معاونت کا حکم
    • وزیر اعظم شہبازشریف نے بلوچستان کے مسائل کے حل کیلئےگرینڈ ڈائیلاگ کی تجویز دیدی
    • ایس سی او سربراہ اجلاس 2027 کی تیاری، پاکستانی کوآرڈینیٹر کی رکن ممالک کے سفیروں سے ملاقات
    • لیڈز ٹیسٹ میں انگلینڈ نے پاکستان کو ایک اننگز اور 103 رنز سے شکست دے دی
    • بانی پی ٹی آئی کے پمز ہسپتال میں معائنے کے بعد واپس اڈیالہ جیل منتقل کیا گیا، صحت مند قرار
    • خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی مشترکہ کارروائیاں، 49 دہشت گرد ہلاک
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » پولیس کے بہادر آفیسرز،چمچہ کلچر اور ہماری صحافت؟
    بلاگ ستمبر 6, 2024

    پولیس کے بہادر آفیسرز،چمچہ کلچر اور ہماری صحافت؟

    Facebook Twitter Email
    Brave police officers of Peshawar
    پولیس کے بہادر آفیسرز،چمچہ کلچر اور ہماری صحافت
    Share
    Facebook Twitter Email

    اسلام آباد(رشيد آفاق) جس طرح ہماری مظلوم اور یتیم صحافت میں وہ صحافی ہمیشہ زیرعتاب،زیر عذاب رہتے ہیں جو عوام کے حقوق کی خاطر لڑتے ہیں،جھگڑتے ہیں،لپٹ کر،جپٹ کر گرتے ہیں اور پھر اُٹھ کر جپٹتے ہیں اور وہ صحافی ہمیشہ عرش پر بیٹھ کر ان صحافیوں پر ہنستے ہیں جو ان کی مہربانیوں اور کاوشوں سے زمین پر رینگتے ہیں،وہ صحافی جو اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے زمینی خداوں کی ایک ایک مزاح پر دس دس بار اس انداز میں ہنستے ہیں کہ سامنے والے کو ان کی حلق تک نظر آتی ہے،ہر چڑھتے سورج کی پوجا اس انداز میں کرتے ہیں کہ کبھی کبھی تو خود زمینی سورج کا بھی نکلنے کو دل نہیں کرتا،ان آقاوں کی ہر غلط بات کو سچ ثابت کرنے کے لئے ساری ساری رات نہیں سوتے ہیں اور اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے حضرات ان کی حصوں کی نیند بھی اپنے نام کرکے سوتے ہیں،یہ حضرات ہر محکمے کے فری لانسر پی آر اوز بنے ہیں۔
    اسی طرح پولیس ڈیپارٹمنٹ میں بھی وہ پولیس آفیسرز جو اپنے باس کو مائی باپ کہہ کر نہ شرماتے ہیں نہ ان کی جھوٹی تعریفیں کرکے تھکتے ہیں ہر اہم پوسٹ پر براجمان نظر آتے ہیں، ترقی کی پانے کے لئے ایسے بے قرار ہوتے ہیں جیسے نئی نویلی دلہن سہاگ رات کی بیڈ کے لئے بے چین رہتی ہے۔
    یہ حضرات نہ صرف نبض شناس ہوتے ہیں بلکہ مردم شناسی کے ساتھ ساتھ نفس شناسی کے بھی ماہر ہوتے ہیں ان کو یہ تک پتہ ہوتا ہے کہ نمک منڈی کی روسٹ گوشت کونسے تاجر کے لئے کونسا دکاندار ریشمی انداز میں بناتاہے اور پھر وہ گوشت صاحب کو لانے اور کھلانے کے بعد یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ صاحب سنت کی بجا آوری کے لئے بطور سویٹ پہلے رس گلہ کھائیگا یا رس ملائی؟
    ان صاحبان کو صاحب کا ہر ناجائز کام جائز بنانے کا کام بھی خوب آتا ہے،صاحب کے کپڑے کہاں سے لینے،کہاں سے سلوانے ہیں اور کونسے موسم میں کونسا کپڑا صاحب کے جسم کو سوٹ کرتا ہے،صاحب کے من پسند آموں کے اتنے نام یاد رہتے ہیں کہ آم کے باغات میں کام کرنے والے بھی ان کے سامنے کچھ نہیں،یہ صاحبان ہر جگہ پائے جاتے ہیں اور ہر اہم پوسٹ پر اپنا تبادلہ ایسے کراتے ہیں جیسے مکھی ایک جگہ سے دوسری جگہ اپنی مرضی سے اڑ جاتی ہے۔
    جبکہ دوسری طرف وہ پولیس آفیسرز جو پولیس کی آن،بان اور شان ہیں وہ بے چارے ہمیشہ سے ایسے زیرعتاب رہتے ہیں کہ ایک عذاب کو سہہ کر دوسرا تیار سامنے کھڑا رہتاہے،وہ کیا کہتے ہیں کہ
    شائد ان کا آخری ہو یہ ستم
    ہر ستم یہ سوچ کر ہم سہہ گئے
    ان میں اگر میں شروعات عبادوزیر سے کروں تو برا نہیں ہوگا،عباد وزیر خیبرپختونخوا پولیس کی شان ہے،آج پشاور کو اگر ضرورت ہے تو عباد وزیر جیسے پولیس آفیسر کی ہے لیکن ان کو جان بوجھ کر لکی مروت بھیجا گیا ہے تاکہ خدانخواستہ کسی دن اقبال مومند ڈی ایس پی کی طرح اسے بھی قومی جھنڈے میں لپیٹ کر مگر مچھ کے آنسووں پر سلوٹ مار کر روئے۔
    اسی طرح قاضی عارف،عمران الدین،اعجاز چمکنی،کامران مروت،قاضی نثار،مبارک زیب اور عمران اللہ جیسے قابل اور نڈر پولیس آفیسرز ہمیشہ اذیتوں سے دوچار رہتے ہیں،ایک ایک دن میں دو دو بار بار تبادلے اور منسوخیاں کی جاتی ہیں۔
    میں گزشتہ چھ سات سالوں سے ڈی ایس پی مختیار علی کو جانتا ہوں وہ سی سی پی او کے پی ایس او سے لیکر آج تک ڈی ایس پی ہی ہے،ابھی تک ایس پی نہیں بنائے گئے نہ ہی کسی کماو ایریا والے علاقے میں تعنیات ہوئے کیونکہ موصوف بھی مندرجہ بالا صفات کریمی سے مبرا ہے اور اس کے ساتھ کام کرنے والے اے ایس آئی اور ایس آئی حضرات بھی خصوصی رعایتیں لیکر بڑے بڑے اضلاع کے ڈی پی اوز تعنیات ہیں،جن کے آگے پیچھے سائرن بجتے رہتے ہیں۔
    بس یہی حال دیگر محکموں میں بھی ہے لیکن پولیس اور صحافت میں کچھ زیادہ ہی ہے۔
    اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleالیکشن ایکٹ ترمیمی بلز سینیٹ کے بعد قومی اسمبلی سے بھی منظور
    Next Article چیئرمین نادرا لیفٹیننٹ جنرل منیر افسر کو عہدے سے ہٹانے کا حکم
    Rashid Afaq
    • Website

    Related Posts

    یوم آزادی کی قدر

    اگست 13, 2026

    شاہینوں کا وہ سپہ سالار جس نے فضاؤں کا نصاب بدل دیا

    اگست 7, 2026

    آخر کب تک؟ معصوم بچوں کے خلاف جنسی جرائم، معاشرتی زوال اور ہماری اجتماعی ذمہ داری. تحریر: نازپروین

    جولائی 1, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    ہاکی ورلڈ کپ میں 16 سال بعد پاکستان کی کامیابی، قومی ٹیم نے جاپان کو شکست دیدی

    اگست 22, 2026

    عمران خان کی پمز ہسپتال منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی نے توہین عدالت کی درخواست دائر کردی

    اگست 22, 2026

    وزیر اعظم شہبازشریف کا حالیہ بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کی مالی معاونت کا حکم

    اگست 22, 2026

    وزیر اعظم شہبازشریف نے بلوچستان کے مسائل کے حل کیلئےگرینڈ ڈائیلاگ کی تجویز دیدی

    اگست 21, 2026

    ایس سی او سربراہ اجلاس 2027 کی تیاری، پاکستانی کوآرڈینیٹر کی رکن ممالک کے سفیروں سے ملاقات

    اگست 21, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.