Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    منگل, فروری 3, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • قانون کی تعلیم کی بہتری کیلئے قومی کانفرنس کا انعقاد، جدید اصلاحات اور ٹیکنالوجی کے استعمال پر اتفاق
    • قازقستان کے صدر قاسم جومارت دو روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے
    • پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، ہنڈرڈ انڈیکس میں 1835 پوائنٹس کا اضافہ
    • خیبر کے علاقے باڑہ شنکو میں چار افراد کی لاشیں برآمد
    • ڈیرہ اسماعیل خان میں نیشنل بینک پر مسلح افراد کا حملہ، 4 پولیس اہلکار زخمی
    • کیا ایک شخص کی رہائی دہشتگردی کیخلاف جنگ جیتنے سے زیادہ اہم ہو سکتی ہے ؟
    • شہید پولیس اہلکار توصیف خان کی نماز جنازہ پولیس لائن خیبر شاکس میں ادا، سرکاری اعزاز کیساتھ سپردِ خاک
    • خودمختار ساوی کیساتھ ملکر کام کرنا چاہتے ہیں، وزیر ون نمبر پلیٹ کے مالک ہلال وزیر کا خیبر نیٹ ورک پشاور سینٹر کا دورہ
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخواہ
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » آو سچ بولیں،پولیس،سیکیورٹی ادارے اور واپڈا؟
    بلاگ

    آو سچ بولیں،پولیس،سیکیورٹی ادارے اور واپڈا؟

    جون 26, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Come on, tell the truth, police, security agencies and WAPDA.
    یہی صوبہ جس نے دہشتگردی کے خلاف سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں، آج بھی اندھیرے میں ڈوبا ہے۔ اور پھر بتایا جاتا ہے کہ ’’شاٹ فال ہے ۔
    Share
    Facebook Twitter Email
    پشاور سے رشیدآفاق کی خصوصی تحریر: ۔

    شیر، گیدڑ اور لومڑی کی دوستی تھی تینوں نے شکار کیا،ہرن، خرگوش اور کبوتر۔ شیر نے گیدڑ کو شکار کی تقسیم کا حکم دیا۔ گیدڑ نے یوں تقسیم کی کہ ہرن شیر کو، خرگوش گیدڑ کو، اور کبوتر لومڑی کو دیا جائے۔ شیر نے غصے میں آ کر ایک تھپڑ گیدڑ کو مارا جس سے اس کے تین چار دانت گر گئے۔ پھر شیر نے لومڑی کو حکم دیا کہ شکار تقسیم کرے۔

    لومڑی نے عقل مندی سے کہا: ہرن شیر کے ناشتے کے لیے، خرگوش دوپہر کے کھانے (لنچ) کے لیے، اور کبوتر رات کے کھانے (ڈنر) کے لیے پیش کیا جائے۔ شیر خوش ہوا، اور کہا: “آفرین، یہ تقسیم کہاں سے سیکھی؟”
    لومڑی نے جواب دیا: “گیدڑ کے گرتے ہوئے دانتوں سے!”

    شیر نے کہا: ہرن میرا حق ہے کیونکہ میں بادشاہ ہوں، خرگوش پر میرا حق ہے کیونکہ شکار میں نے کیا ہے، اور اگر کسی کے باپ میں طاقت ہے تو وہ کبوتر کو ہاتھ لگا کر دکھائے!

    کچھ اسی طرح کا ماحول وطنِ عزیز میں بھی کب سے قائم ہے یا شاید قائم کیا گیا ہے۔

    ہم ایٹم بم بنا سکتے ہیں، دشمن کے جہاز گرا سکتے ہیں، بھارت میں گھس کر ٹارگٹڈ حملے کر سکتے ہیں، لیکن…
    ہم بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم نہیں کر سکتے!
    ہم لاہور اور پنجاب کو تو لوڈشیڈنگ فری بنا سکتے ہیں، لیکن وہ صوبہ جو سب سے زیادہ بجلی پیدا کرتا ہے — یعنی خیبرپختونخوا — وہاں کے عوام کو بدترین لوڈشیڈنگ اور ٹریپنگ کا سامنا ہے۔

    یہی صوبہ جس نے دہشتگردی کے خلاف سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں، آج بھی اندھیرے میں ڈوبا ہے۔ اور پھر بتایا جاتا ہے کہ ’’شاٹ فال ہے‘‘۔
    یہ شاٹ فال صرف عوام کے لیے ہے؟
    باقی تو ہم نے تمام کینٹ ایریاز کو امریکہ کی طرز پر لوڈشیڈنگ فری بنا دیا ہے۔ اہم شخصیات اور اداروں کو ایکسپریس لائن کے ذریعے 24 گھنٹے بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔

    کرک، جو سوئی گیس پیدا کرتا ہے، وہاں کی مقامی آبادی کو گیس دستیاب نہیں— لیکن سیالکوٹ اور ڈسکہ کو کرک کی گیس با آسانی ملتی ہے۔

    ہم دشمن کو چند لمحوں میں ناکوں چنے چبوا سکتے ہیں، لیکن لیاقت علی خان اور بے نظیر بھٹو کے قاتل آج تک “نامعلوم” ہیں۔
    ہمارے اپنے ملک کی سڑکوں پر روز پولیس اہلکار ذبح کیے جا رہے ہیں، خون پانی کی طرح بہایا جا رہا ہے، لیکن قاتلوں کا کچھ معلوم نہیں ہو پاتا۔
    مساجد، مزارات، بازار — کوئی جگہ محفوظ نہیں — اور حملہ آور ہمیشہ ’’نامعلوم‘‘ رہتے ہیں۔

    اور پھر دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی ’’نامعلوم‘‘ سڑکوں پر ناکے لگاتے ہیں، لوگوں کو اغواء کرتے ہیں، ان سے پیسے لیتے ہیں، یا ان کے سر قلم کرکے سڑکوں پر پھینک دیتے ہیں— لیکن پھر بھی یہ ’’نامعلوم‘‘ ہی رہتے ہیں!

    دشمن ملک کو شکست دینا قابلِ فخر ہے، اور قوم نے افواجِ پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا—
    لیکن اب قوم اس حقیقت کا ادراک بھی کر چکی ہے کہ اگر ہم چند لمحوں میں دشمن کو زمین بوس کر سکتے ہیں، تو پھر اپنے ملک کے اندر چھپے ان ’’نامعلوم‘‘ عناصر کو کیوں بے نقاب نہیں کر سکتے؟

    میرے خیال میں یہ شعور اب عوام میں مزید مضبوط ہو رہا ہے۔
    لہٰذا ذمہ داروں کو اس طرف توجہ دینی ہوگی۔
    اس صوبے کی عوام نے اپنی بساط سے بڑھ کر قربانیاں دی ہیں— اب یا تو دیگر صوبوں کو قربانیاں دینے کا وقت آ گیا ہے، یا پھر ان لوگوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہییں جو قربانی دینے والوں کو اندھیرے میں رکھ کر اپنا اقتدار بچا رہے ہیں۔

    کیسے ممکن ہے کہ ایک ملک ایٹم بم بنا سکتا ہے، لیکن بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم نہیں کر سکتا؟
    کیسے ممکن ہے کہ بھارت میں جا کر ٹارگٹس ہِٹ کر سکتا ہے، لیکن اپنے ملک میں “نامعلوم” کو معلوم نہیں کر سکتا؟

    اگر یہ سب مذاق ہے تو پھر یہ انتہائی خوفناک مذاق ہے—
    اور اگر یہ حقیقت ہے تو پھر اس مذاق کو بند کرنا ہوگا، ورنہ یہ مذاق ایک دن بھیانک شکل اختیار کر سکتا ہے۔

    اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleوفاقی کابینہ نے آئندہ مالی سال 26۔2025 کے فنانس بل کی منظوری دیدی
    Next Article اسرائیل کو مکمل تباہی سے بچانے کیلئے امریکہ جنگ میں شامل ہوا، سپریم لیڈر خامنہ ای
    Arshad Iqbal

    Related Posts

    کیا ایک شخص کی رہائی دہشتگردی کیخلاف جنگ جیتنے سے زیادہ اہم ہو سکتی ہے ؟

    فروری 2, 2026

    ملکی بحران اور حکومتی شاہ خرچیاں

    جنوری 27, 2026

    بنوں میں عسکریت پسندوں کے ٹیکنالوجی سے لیس حملے

    جنوری 27, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    قانون کی تعلیم کی بہتری کیلئے قومی کانفرنس کا انعقاد، جدید اصلاحات اور ٹیکنالوجی کے استعمال پر اتفاق

    فروری 3, 2026

    قازقستان کے صدر قاسم جومارت دو روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے

    فروری 3, 2026

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، ہنڈرڈ انڈیکس میں 1835 پوائنٹس کا اضافہ

    فروری 3, 2026

    خیبر کے علاقے باڑہ شنکو میں چار افراد کی لاشیں برآمد

    فروری 3, 2026

    ڈیرہ اسماعیل خان میں نیشنل بینک پر مسلح افراد کا حملہ، 4 پولیس اہلکار زخمی

    فروری 3, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.