وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں منعقدہ امن مذاکرات میں شرکت کیلئے غیرملکی وفود کی آمد جاری ہے، جڑواں شہروں میں سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کئے گئے ہیں، امن مذاکرات کے پیش نظر ہر قسم کی پرائیویٹ اور پبلک ٹرانسپورٹ تاحکم ثانی معطل رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔
اسلام آباد میں رواں ہفتے منعقدہ ایران، امریکہ مذاکرات کے پیش نظر سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے اور غیر معمولی حفاظتی انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں ۔
بین الااقوامی میڈیا نمائندوں کی پاکستان آمد شروع ہوگئی، پاکستان نے بین الاقوامی میڈیا کو ویزوں کا اجرا شروع کر دیا، اس حوالے سے بیرون ملک پاکستانی سفارتخانوں اور ہائی کمیشنز کو ہدایات جاری کر دی گئیں ۔
ذرائع کے مطابق معزز غیر ملکی مہمانوں کو نجی ہوٹل میں ٹھہرایا جائے گا، جبکہ سکیورٹی کے لیے مجموعی طور پر 18 ہزار نفری تعینات کی جائے گی، جن میں پنجاب سے آنے والی 7 ہزار نفری بھی شامل ہے ۔
سکیورٹی انتظامات میں اسلام آباد پولیس کے ساتھ پاکستان رینجرز اور فرنٹیئر کور بھی تعینات ہوں گے، جبکہ دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مشترکہ ناکے بھی قائم کیے جائیں گے ۔
ائیرپورٹ سے ہوٹل تک روٹ پر اہم عمارتوں پر رینجرز کے سنائپرز تعینات کیے جائیں گے، جبکہ گرین بیلٹس اور سروس روڈز کو مکمل طور پر کلیئر رکھا جائے گا ۔
ڈیوٹی پر موجود پولیس افسران کو موبائل فون کے استعمال کی اجازت نہیں ہوگی اور تمام اہلکاروں کو اینٹی رائٹ کٹس لازمی استعمال کرنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔

