Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    اتوار, اگست 16, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا سابق فوجیوں کے اعزاز میں استقبالیہ، خدمات کو خراجِ تحسین
    • وزیراعظم کی صدر مملکت سے اہم ملاقات، مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ ، ملک کی معاشی ،سیکیورٹی اور سیاسی صورتحال پر گفتگو
    • نئی دہلی میں بھی پاکستان کا یوم آزادی روایتی جوش و جذبے کیساتھ منایا گیا، صدر مملکت اور وزیراعظم کے پیغامات پڑھ کر سنائے گئے
    • ملک بھر میں 79واں یومِ آزادی ملی جوش و جذبے سے منایا جا رہا ہے
    • یوم آزادی کی قدر
    • سوات قومی جرگے نے حکومت کو امن کے قیام کیلئے ایک ماہ کی مہلت دیدی
    • پاکستانی کوچز ایرانی کرکٹرز کی تربیت کریں گے، دونوں ممالک نے اتفاق کرلیا
    • باجوڑ، سرحدی علاقہ چارمنگ میں بم دھماکہ، 2 خواتین شدید زخمی
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے انسان اور بھینس!
    بلاگ مئی 31, 2025

    ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے انسان اور بھینس!

    Facebook Twitter Email
    Humans and buffaloes stood in the same row!
    ایک لاکھ روپے کی قربانی اُس شخص سے مانگی جا رہی ہے جو مہینے کی راشن، کرایہ، بچوں کے سکول اور والدین کی دوا کے بیچ جکڑا ہوا ہے۔
    Share
    Facebook Twitter Email

    پشاور سے خالد خان کی خصوصی تحریر: ۔

    اسلام، جو بنیادی طور پر سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف اور احترامِ آدمیت کے لیے اترا تھا، بالآخر سرمایہ دارانہ نظام کے ہتھے چڑھ گیا۔ سامراجی سازشوں نے اسے بے روح کر کے رسومات تک محدود کر دیا۔ خدا کے نام پر ہر مسلمان دوسرے مسلمان کو قتل کرنے کے لیے تیار بیٹھا ہے، مگر یہ تکلیف کبھی بھی گوارا نہیں کرے گا کہ خدا کے احکامات کو سمجھنے کی کوشش کرے۔
    ویسے تو کہتے ہیں کہ مسلمان ایک امت ہے اور نسلی تقسیم صرف شناخت کے لیے ہے۔ ویسے تو یہ بھی کہا جاتا ہے کہ امت ایک جسم کی مانند ہے اور کسی ایک عضو کا درد پورے وجود کی تکلیف ہوتی ہے۔ باوجود اس کے، مسلم امہ مختلف ممالک، نسلی تفاخر اور عرب و عجم میں منقسم ہے۔

    نہ غزہ پر کوئی چیخ اٹھا اور نہ ہی کشمیر پر کسی کو درد محسوس ہوا۔ ہمیں عرب کے تیل پر حق تو دور کی بات، مذہبی سیاحت کے لیے بھی ادائیگی کرنی پڑتی ہے۔ اب شیطان کو مارنے والے کنکر بھی ڈالرز میں خریدنے پڑتے ہیں — سعودی حکومت نے حجاج کو پابند کیا ہے کہ وہ سرکار سے تین تا پانچ ڈالر میں کنکر خریدیں۔ ارے بھائی، ٹریلین ڈالرز اور سونے سے مزین جہاز ڈوبتی ہوئی امریکی معیشت میں اس لیے ڈالے گئے تھے کہ اب وصولی ہمارے کنکروں سے ہو گی۔

    چونکہ ہم حج اور عمرہ کی روح سے ناواقف ہوتے ہوئے بھی جوق در جوق ان کی ادائیگی کے لیے جاتے ہیں، اس لیے میں نے اس عمل کو "مذہبی سیاحت” کہا جو سعودی عرب کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔
    اسلام آج دنیا کا واحد مذہب ہے جس کے پیروکار باقاعدہ جنت خرید سکتے ہیں۔
    سرمایہ مخالف مذہب کو دشمنانِ خدا نے سرمائے کا اسیر بنا دیا ہے۔
    مجھ میں استطاعت نہیں ہے کہ میں سنگِ مرمر کی مسجد بنا سکوں، لہٰذا جنت میں محل سے محروم رہوں گا۔
    خیرات، زکوٰۃ اور صدقات ادا نہیں کر سکتا تو میرا مومنین میں کہاں اور کیونکر جگہ ہوگی؟
    حج اور عمرہ کی ادائیگی نہیں کر سکتا، لہٰذا کبھی بھی "اللہ کا مہمان” نہیں بن سکوں گا۔
    ہر نیکی اور ہر ثواب خریدی جا سکتی ہے، اگر آپ کے پاس حرام کا پیسہ ہو ،معاشرے میں معزز بھی ہوں گے اور جنت کے ٹھیکیدار بھی۔

    میں نے مذہب کے علَم برداروں کو ہمیشہ حرام خوروں کے گرد منڈلاتے ہوئے دیکھا ہے۔ کبھی کسی عالم کو منشیات فروش، ظالم، قاتل، کرپٹ اور حرام خور کا سوشل بائیکاٹ کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔
    عیدالاضحیٰ کے موقع پر قربانی کن لوگوں پر واجب ہے، مجھے نہیں معلوم۔ کیا صرف حجاج قربانی کریں گے یا دنیا میں ہر صاحبِ استطاعت کرے گا؟
    مجھے نہیں پتہ، اور جن کو پتہ ہے وہ بتاتے نہیں۔ آج کا مسلمان معاشرتی دباؤ کا شکار ہے، رسوم و رواج کا غلام ہے۔

    ابا و اجداد سے لے کر گزشتہ عید تک جتنی قربانیاں ہم نے کی ہیں، وہ ساری رائیگاں چلی گئی ہیں۔
    امسال علما شد و مد سے کہہ رہے ہیں کہ بھینس پر قربانی نہیں ہو سکتی۔
    یہی بھینس ہی تو تھی جسے ہم نے شادیوں میں دیگوں کی زینت و ذائقہ بنایا، قل پر اس کے ذریعے مردے کو بخشوایا اور اس کی قربانی دے کر اس پر سوار جنت جانے کے خواب دیکھے۔
    مگر امسال بتایا گیا کہ سارا ثواب، تمام حساب کتاب صفر۔

    حضرت ابراہیم علیہ السلام جب اللہ تبارک و تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے اپنے لختِ جگر حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی دے رہے تھے تو اللہ نے مینڈھا بھیجا۔
    ہم سنتِ ابراہیمی کی پیروی میں ہر عید قرباں پر اپنی قربانی دیتے ہیں ۔
    احساس کی قربانی، ضرورتوں کی قربانی، سفید پوشی کی قربانی اور بچوں کی خواہشات کی قربانی۔
    کئی احساسات اور ضروریات پر چھری پھیر کر کہیں کسی مریل بھینس میں حصہ لے لیتے ہیں،
    لیکن کہا گیا کہ امسال سے بھینس قبول نہیں۔

    کیا کریں اے خدا! ایک اپنا آپ ہی بچا ہے، اور وہ بھی تُو قبول نہیں کرتا۔
    امسال ہماری لاج رکھ لے، اگلا برس کس نے دیکھا ہے۔

    مگر سچ یہ ہے کہ میرے جیسے عام آدمی کے لیے قربانی اب عبادت نہیں رہی ۔
    یہ سالانہ معاشی جھٹکا بن چکی ہے، جو صرف دکھاوے، سماجی دباؤ اور فتووں کے خوف سے برداشت کرنا پڑتی ہے۔
    ایک لاکھ روپے کی قربانی اُس شخص سے مانگی جا رہی ہے جو مہینے کے راشن، کرایہ، بچوں کے سکول اور والدین کی دوا کے بیچ جکڑا ہوا ہے۔

    قرآن نے صاف کہا ہے کہ اللہ کو نہ گوشت چاہیے نہ خون، صرف تقویٰ:
    "لَن يَنَالَ ٱللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَـٰكِن يَنَالُهُ ٱلتَّقْوَىٰ مِنكُمْ”

    مگر ہم وہ امت ہیں جس نے قربانی کو گوشت، خون، تصویروں، ویڈیوز اور ذاتی ڈیپ فریزرز تک محدود کر دیا ہے۔
    ارے بھینس بہن تو ہم سے خوش قسمت نکلی ، بچ گئی قتال سے،
    مگر ہم جب تک زندہ ہیں، سال بہ سال ذبح ہوتے رہیں گے۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleوفاقی حکومت نے پٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا،نوٹیفکیشن جاری
    Next Article وزیراعظم کی بلوچ عمائدین کو خرابیوں کی نشاندہی کرنے اور حکومت سے مذاکرات کی دعوت
    Arshad Iqbal

    Related Posts

    یوم آزادی کی قدر

    اگست 13, 2026

    شاہینوں کا وہ سپہ سالار جس نے فضاؤں کا نصاب بدل دیا

    اگست 7, 2026

    آخر کب تک؟ معصوم بچوں کے خلاف جنسی جرائم، معاشرتی زوال اور ہماری اجتماعی ذمہ داری. تحریر: نازپروین

    جولائی 1, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    فیلڈ مارشل عاصم منیر کا سابق فوجیوں کے اعزاز میں استقبالیہ، خدمات کو خراجِ تحسین

    اگست 15, 2026

    وزیراعظم کی صدر مملکت سے اہم ملاقات، مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ ، ملک کی معاشی ،سیکیورٹی اور سیاسی صورتحال پر گفتگو

    اگست 14, 2026

    نئی دہلی میں بھی پاکستان کا یوم آزادی روایتی جوش و جذبے کیساتھ منایا گیا، صدر مملکت اور وزیراعظم کے پیغامات پڑھ کر سنائے گئے

    اگست 14, 2026

    ملک بھر میں 79واں یومِ آزادی ملی جوش و جذبے سے منایا جا رہا ہے

    اگست 14, 2026

    یوم آزادی کی قدر

    اگست 13, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.