Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    جمعہ, جون 5, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • پاکستان نے ون ڈے سیریز میں آسٹریلیا کو شکست دیدی
    • کامٹیک اقدام کے تحت تعاون کے فروغ کے لیے نمل یونیورسٹی کے وفد کا خیبر نیٹ ورک اسلام آباد کا دورہ
    • پی ٹی آئی دور میں مالی بے ضابطگی کی تحقیقات کیلیے نیب سے مدد طلب
    • گرین پاکستان انیشی ایٹو کے تحت قدرتی حسن کو معاشی ترقی کا مؤثر ذریعہ بنانے کیلیے اہم اقدامات
    • آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ 10 جون کو پیش کیے جانے کا امکان
    • بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدہ، برطانوی پارلیمان میں بحث، انسانی حقوق سے متعلق تشویش کا اظہار
    • فوزیہ کوفی نے افغان طالبان رجیم کا بھیانک چہرہ بے نقاب کردیا
    • برآمدات پر مبنی ترقیاتی اہداف کا حصول ہماری اولین ترجیح ہے ، وزیراعظم شہباز شریف
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » عمران خان کا سب سے بڑا المیہ سیاست میں غیر سیاسی ہونا ہے!
    بلاگ

    عمران خان کا سب سے بڑا المیہ سیاست میں غیر سیاسی ہونا ہے!

    اپریل 15, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Imran Khan's biggest tragedy is being non political in politics
    سیاسی اخلاقیات کا جنازہ نکالا گیا, پاکستان کے نوجوانوں کو بجائے نظام کے انہیں ریاست کے خلاف کھڑا کردیا گیا۔
    Share
    Facebook Twitter Email

    پشاور سے خالد خان کی خصوصی تحریر:۔

    سیاست وہ واحد مضمون ہے جو بیک وقت آرٹ اور سائنس ہے۔ بدقسمتی سے عمران خان نے اسے بھی کھیل سمجھ لیا تھا اور اپنے زورِ بازو پر آخری بال تک لڑنے کا تہیہ کیے ہوئے تھا۔ اگر سیاست کھیل ہے تو خان صاحب سے بھی اس کھیل کے بڑے مہا کھلاڑی موجود ہیں۔ خان صاحب بال رگڑتے رہے اور اگلے وکٹیں اُکھاڑ کر نکل گئے۔ بلاشبہ خان صاحب بقول ان کے ایک گیند پر دو وکٹیں لیں گے اور وہ مسلسل ویسے ہی گیندیں بھی پھینک رہے ہیں مگر میدان خالی ہے۔ کیچ کرنے کے لیئے کوئی رہا نہیں ہے۔ گیارہ کے گیارہ کھلاڑی بلکہ بارہواں کھلاڑی بھی غائب ہے۔

    بیچاری علیمہ خان بارہویں کھلاڑی کی جگہ پانی دیتے دیتے اور پسینہ پونچھتے پونچھتے تھک گئی ہے۔ آج بے سروسامانی کے عالم میں انہیں تن تنہا ایک فٹ پاتھ پر فقیرنی کی طرح بیٹھا ہوا دیکھا، تو بخدا بہت دکھ ہوا۔ اس دکھ سے بھی زیادہ جب عمران خان نے تمام سیاسی جماعتوں اور قائدین پر حملے کیے تھے۔ جب انہوں نے سب کو چور، ڈاکو اور لٹیرے ثابت کیا تھا۔ اس دکھ سے بھی زیادہ دُکھی ہوا تھا جب عمران خان نے مولانا فضل الرحمن کی داڑھی اور محمود خان اچکزئی کی چادر کا مذاق اُڑایا تھا۔ سچ کہوں تو پختونخوا کے گیارہ سالہ تباہی اور بربادی کا اتنا دکھ نہیں ہوا تھا جتنا علیمہ خان کا ہوا۔ پشتون سماج کی روایات، اخلاق اور سماجی ڈھانچے کا مذاق اُڑایا گیا۔ سیاسی نظام کو منہدم کیا گیا۔ اکابرین کو تضحیک کا نشانہ بنایا گیا۔ ادارے ختم کر دیے گئے۔ حجرہ و مسجد سے لوگوں کو منحرف کروایا گیا۔ سیاسی اخلاقیات کا جنازہ نکالا گیا۔ پاکستان کے نوجوانوں کو بجائے نظام کے ریاست کے خلاف کر دیا گیا۔

    آرمی چیف کو عوام کا باپ بنا دیا گیا اور پھر اسی باپ کو بچوں سے گالیاں دلوا کر اولادوں کو حرامی قرار دے دیا گیا۔ سیاسی نظام کے انہدام کے بعد جو خلا پیدا ہوا، اس خلا کو بھرنے کے لیے ایک مادر پدر آزاد نئے سیاسی ایلیٹ کلاس کو تخلیق کرتے ہوئے اس خلا کو گوبر اور بھوسے سے بھر دیا گیا۔ ان لوگوں نے عمران خان کی بھرپور مدد کی جو لوگ آج اس کا ہر نقش مٹانے کی ہر کوشش کر رہے ہیں۔ عمران خان یوں ہی راتوں رات مہاتما نہیں بنا تھا۔ ریاست کے اعلیٰ دماغوں نے بےشمار قومی دولت خرچ کرکے عمران خان میں ہوا بھری تھی۔

    اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ عمران خان کے پیچھے پورا پاکستان، خصوصاً نوجوان طبقہ کھڑا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان ایلیٹ کلاس اور پنجاب کو سیاست میں متحرک کر چکا ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ عمران خان اسٹیبلشمنٹ کے گھروں میں ہاؤس ہولڈ نام ہے۔ بلاشبہ عمران خان نے اپنے ساتھ ساتھ ریاست، سیاست اور ریاستی اداروں کو بھی ننگا کیا۔ اس میں بھی کوئی دو رائے نہیں کہ عمران خان نے نوجوانوں کو طاقتوروں کے سامنے سوال اُٹھانا، گالی بکنا اور گریبان پر ہاتھ ڈالنے کا حوصلہ دیا مگر اس سب کچھ کے باوجود بھی آج وہ تنہا ہے۔

    خان صاحب کی تنہائی کی وجہ اُس کا غیر سیاسی، غیر سائنسی، غیر نظریاتی اور غیر تنظیمی ہونا ہے۔ اُس کی تنہائی اُس کا غرور و تکبر، نرگسیت، نامردم شناسی اور خود کو عقلِ کُل سمجھنا اور اپنے عشق میں مبتلا ہونا ہے۔ عمران خان نے کبھی بھی پارٹی تنظیموں پر توجہ نہیں دی، اُس نے طاقت کے مرکز کو صرف اپنی ذات میں مرتکز کیے رکھا۔ تنظیم سازی نہ جمہوری تھی اور نہ خود انتخابی، موزوں لوگوں کی ہوئی تھی۔ نظریاتی، سیاسی اور تنظیمی تربیت کارکنان و لیڈران کے سرے سے ہوئی ہی نہیں تھی۔ سٹیٹس کو کے خلاف انقلاب کے طوفانی نعروں میں سٹیٹس کو کے نمائندوں کو انتخابی ٹکٹ، وزارتیں اور پارلیمانی عہدے حوالے کیے۔ پارٹی اور ملک کو انقلابی بنائے بغیر، اسٹیبلشمنٹ کے خلاف بغاوت کی۔ بغاوت ناکام ہو گئی اور خان صاحب بجائے انقلابی کے باغی قرار دیے گئے۔ انقلابی واپس مڑ کر آ سکتے ہیں مگر باغی۔۔۔ کبھی بھی نہیں۔

    دنیا بھر کے انسان "ہیرو ورشپ” کے نفسیاتی عارضے میں مبتلا رہتے ہیں۔ پاکستانی کوئی الگ مخلوق نہیں ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو، باچا خان اور دیگر کئی راہنماؤں کو آج کی نسل کے نوجوانوں نے نہیں دیکھا تھا مگر آج بھی ان کے نام پر دار پر چڑھنے کے لیے تیار ہیں۔ عمران خان کی تو کہانی ہی الگ ہے۔ وہ تو لیونگ لیجنڈ ہے۔ وہ تو کم از کم ایک صدی پاکستانیوں کے دل و دماغ میں رہے گا۔ تو کیا اُس کے نام پر وہ لوگ اقتدار کے مزے لوٹتے رہیں گے جو اُسے تنہا چھوڑ چکے ہیں؟ نہ تو امریکہ خان صاحب کو چھڑانے آئے گا اور نہ ہی اسٹیبلشمنٹ کوئی سمجھوتہ کرے گی۔ رہ گئے سیاسی خانوادے تو وہ تو خان صاحب کے قل کے انتظار میں دبلے ہوتے جا رہے ہیں۔ اب بھی بچت کی صورت نکل سکتی ہے مگر خان صاحب کا المیہ یہ ہے کہ وہ غلطیوں سے سیکھنے کی بجائے غلطیوں کے گردان پر یقین رکھتے ہیں۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleپی ایس ایل 10، لاہور قلندرز نے کراچی کنگز 65 رنز سے شکست دیدی
    Next Article خیبرپختونخوا میں گلیشیئر پھٹنے سے سیلاب آنے کا خدشہ ہے، پی ڈی ایم اے کا انتباہ
    Arshad Iqbal

    Related Posts

    خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی نئی لہر، تحریر: قریش خٹک

    مئی 13, 2026

    ہم نے ایک آفتاب کھو دیا!

    مئی 6, 2026

    آٹے کے صندوق میں بند دو کلیاں

    مئی 5, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    پاکستان نے ون ڈے سیریز میں آسٹریلیا کو شکست دیدی

    جون 4, 2026

    کامٹیک اقدام کے تحت تعاون کے فروغ کے لیے نمل یونیورسٹی کے وفد کا خیبر نیٹ ورک اسلام آباد کا دورہ

    جون 4, 2026

    پی ٹی آئی دور میں مالی بے ضابطگی کی تحقیقات کیلیے نیب سے مدد طلب

    جون 4, 2026

    گرین پاکستان انیشی ایٹو کے تحت قدرتی حسن کو معاشی ترقی کا مؤثر ذریعہ بنانے کیلیے اہم اقدامات

    جون 4, 2026

    آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ 10 جون کو پیش کیے جانے کا امکان

    جون 4, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.