Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    جمعہ, اپریل 3, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • پشاور میں پٹرولیم مصنوعات کی مہنگائی کے خلاف 4 اپریل کو احتجاجی ریلی کا اعلان
    • خیبر نیوز پشاور کا منفرد پروگرام "نوے کل” نوجوانوں کا پسندیدہ شو بن گیا
    • خیبرٹیلی ویژن اور فلاحی تنظیم خودمختار ساوی نے میرے والد کی فنی خدمات کو سراہا
    • بنوں: تھانہ ڈومیل پر دہشت گردوں کا خودکش حملہ ناکام، 5 شہری شہید،پولیس اہلکاروں سمیت 19 افراد زخمی
    • دہشت گردی کی ناکامی اور بدلتی ہوئی حکمت عملی
    • پٹرول 458 اور ڈیزل 520 روپے فی لیٹر کرنے کا اعلان
    • آپریشن غضب للحق کے کے ثمرات، پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات میں بڑی کمی ہوئی، رپورٹ
    • پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان چین کے شہر ارومچی میں اہم مذاکرات جاری ہیں، ترجمان دفتر خارجہ کی تصدیق
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » سردار میر محراب خان کی شہادت: بلوچ مزاحمت کی ایک لازوال داستان!
    بلاگ

    سردار میر محراب خان کی شہادت: بلوچ مزاحمت کی ایک لازوال داستان!

    اپریل 15, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    The martyrdom of Sardar Mir Mehrab Khan: A timeless story of Baloch resistance
    وہ صرف ایک سردار نہیں تھے، وہ بلوچ غیرت اور مزاحمت کا جیتا جاگتا ثبوت تھے۔ انگریزوں کے ہاتھوں شکست کھانے کے باوجود، وہ تاریخ میں امر ہوگئے ۔
    Share
    Facebook Twitter Email

    پشاور سے خالد خان کی تحریر:۔ 

    بلوچ تاریخ میں سردار میر محراب خان کا نام ہمیشہ عزت و احترام سے لیا جاتا ہے۔ 5 نومبر 1839 کو جب انگریز کی طاقتور فوج نے قلات پر یلغار کی تو سردار محراب خان اپنی قوم کے وقار کے لیے میدان میں اُترے۔ انگریز جنرل ولشائر کی قیادت میں جارح فوج کو دیگر بلوچ سرداروں کی حمایت حاصل تھی۔ سردار میر محراب خان نے مسلح انگریز فوج کا مردانہ وار مقابلہ کرکے جرأت اور بہادری کی ایک نئی تاریخ رقم کر دی۔

    وہ صرف ایک سردار نہیں تھے، وہ بلوچ غیرت اور مزاحمت کا جیتا جاگتا ثبوت تھے۔ انگریزوں کے ہاتھوں شکست کھانے کے باوجود، وہ تاریخ میں امر ہوگئے کہ انہوں نے سر جھکانے کی بجائے سر کٹوانا منتخب کیا۔ ان کی شجاعت اور شہادت نہ صرف ایک قوم کی غیرت کی داستان ہے بلکہ استعمار کے خلاف بغاوت کی علامت بھی ہے۔

    انگریزوں نے پورے علاقے کو اپنی گرفت میں لے لیا، لیکن سردار میر محراب خان کی قربانی نے بلوچ عوام کو یہ سبق دیا کہ غلامی کے خلاف اُٹھنا ہمیشہ ضروری ہوتا ہے۔ ان کی شہادت کے بعد انگریزوں نے اپنے مقامی گماشتہ سرداروں کے ذریعے بلوچستان کو اپنے زیرِ تسلط کر لیا، لیکن سردار میر محراب خان کی قربانی نے حریت کی ایک لازوال داستان تخلیق کی۔

    آج جب ہم تاریخ کے اوراق پلٹتے ہیں تو ہمارے سامنے ان سرداروں کے نام آتے ہیں جنہوں نے اپنے مفادات کے لیے قوم کو بیچ دیا تھا، مگر سردار میر محراب خان کا کردار ہمیشہ بلوچوں کے دلوں میں زندہ رہے گا۔ وہ سردار جس نے اپنی قوم کی خاطر جان دی، اس کا نام کبھی فراموش نہیں ہو سکتا۔

    ان کی شہادت کی یہ داستان ہمیں یاد دلاتی ہے کہ غلامی کے خلاف مزاحمت اور قوم کی عزت کے لیے جان دینا سب سے بڑی قربانی ہے۔

    انگریز کے ریکارڈ میں سب کچھ درج ہے۔ سردار میر محراب خان کی حریت اور بکاؤ سرداروں کی قیمتیں بھی۔ تاریخ کے غلام گردشوں میں خائن بلوچ سردار برہنہ کھڑے ہیں جو ایک تماشے سے کم نہیں، جبکہ حریت پسند انہی غلام گردشوں سے اوپر کھلی فضاؤں میں امر ہو چکے ہیں۔ آئیے اس اختتامی پیراگراف میں انگریز کے ہاتھوں مال مویشیوں کی طرح بکے ہوئے ان بلوچ سرداروں کی قیمتوں سے آپ کو آگاہ کرتے ہیں:

    سردار رئیسانی 400 روپے ماہانہ، سردار شاہوانی 300 روپے ماہانہ، سردار بنگلزئی 300 روپے ماہانہ، سردار محمد شہی 300 روپے ماہانہ، سردار لہری 300 روپے ماہانہ، سردار شاہوانی 300 روپے ماہانہ، نواب مری 818 روپے، نواب بگٹی 800 روپے، نواب جوگیزئی 400 روپے، سردار سنجرانی 350 روپے، ارباب کاسی 350 روپے، سردار زگر مینگل 300 روپے، سردار پانیزئی 240 روپے، سردار ناصر 218 روپے، سردار کھیتران 200 روپے، سردار باروزئی 168 روپے، سردار لونی 125 روپے اور سردار موسیٰ 60 روپے۔

    ان غداروں کی قومی اور منصبی تشخص کچھ یوں تھی: والیانِ ریاست 4، نواب اور سردار 74، ملک اور معتبر 101، جرگہ کے اراکین 87، ذاتی خدمات ادا کرنے والے 2995 تھے۔ ان والیان، نوابین، سرداروں اور ملکان میں 117 بلوچ اور 61 پشتون تھے، جبکہ ذاتی خدمات والے 914 بلوچ اور 2168 پشتون تھے۔

    انہی لوگوں کی اولادیں آج بھی بلوچستان پر باری باری حکمرانی کرتی رہتی ہیں اور آج بھی یہی لوگ قیام پاکستان سے لے کر تا دمِ تحریر بیرونی آقاؤں کے زر خرید غلام ہیں۔ قیام پاکستان سے پہلے انگریز ان کی خرید و فروخت کرتے تھے، جبکہ آزادی کے بعد یہ کھلے عام عالمی منڈی میں ہر کسی کو دستیاب ہیں۔ انگریز سرکار نے ان کو ذمہ داری دی ہوئی تھی کہ بلوچستان کبھی ترقی نہ کر پائے، قومی عدم اتفاق اور قبائلی جھگڑے تسلسل کے ساتھ جاری رہیں اور امن کبھی بھی قائم نہ ہو۔ انگریز کے حکمِ اوّل پر روزِ اوّل سے ان سرداروں نے جو عمل شروع کیا ہوا ہے، وہ ہنوز جاری ہے۔ اور تب تک جاری رہے گا جب تک بلوچ قوم کسی نئے سردار میر محراب خان کی ولولہ انگیز قیادت میں ان خائنوں کے خلاف اُٹھتی نہیں۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleپیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑی کمی کا امکان
    Next Article غزہ میں اسپتال پر اسرائیلی بمباری، پاکستان کی شدید مذمت، عالمی ضمیر جھنجھوڑنے کی اپیل
    Arshad Iqbal

    Related Posts

    دہشت گردی کی ناکامی اور بدلتی ہوئی حکمت عملی

    اپریل 3, 2026

    آپریشن غضب الحق کے بعد اسلام آباد اور کابل کا پہلا اعلیٰ سطح رابطہ: خطے میں سفارت کاری کا نیا موڑ

    اپریل 1, 2026

    ووٹرز کا سیاسی وژن: گلگت بلتستان کے مستقبل کی تشکیل

    مارچ 26, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    پشاور میں پٹرولیم مصنوعات کی مہنگائی کے خلاف 4 اپریل کو احتجاجی ریلی کا اعلان

    اپریل 3, 2026

    خیبر نیوز پشاور کا منفرد پروگرام "نوے کل” نوجوانوں کا پسندیدہ شو بن گیا

    اپریل 3, 2026

    خیبرٹیلی ویژن اور فلاحی تنظیم خودمختار ساوی نے میرے والد کی فنی خدمات کو سراہا

    اپریل 3, 2026

    بنوں: تھانہ ڈومیل پر دہشت گردوں کا خودکش حملہ ناکام، 5 شہری شہید،پولیس اہلکاروں سمیت 19 افراد زخمی

    اپریل 3, 2026

    دہشت گردی کی ناکامی اور بدلتی ہوئی حکمت عملی

    اپریل 3, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.