پشاور (خصوصی رپورٹر) — صوبائی دارالحکومت اور دیگر اضلاع میں سی این جی کی شدید قلت کے باعث صبح سویرے نماز فجر کے بعد ہی فلنگ اسٹیشنز پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگنا شروع ہو جاتی ہیں، جس کے نتیجے میں شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور معمولات زندگی متاثر ہو رہے ہیں۔
مقررہ اوقات کے دوران جب بڑی تعداد میں گاڑیاں اپنی باری کے انتظار میں فلنگ اسٹیشنز پر پہنچتی ہیں اور انہیں ایندھن نہیں ملتا تو وہ واپس جانے کے بجائے قریبی مقامات پر گاڑیاں کھڑی کرنے پر مجبور ہوتے ہیں، جس سے ٹریفک اور دیگر مسائل بھی جنم لے رہے ہیں۔
دوسری جانب پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں راتوں رات ہونے والا اضافہ عام اور خاص صارفین کے لیے پریشانی کا باعث بن گیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے اس دور میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ان کے بجٹ پر مزید بوجھ ڈال رہا ہے۔
مزید یہ کہ بعض فلنگ اسٹیشنز کے اہلکاروں کی جانب سے یہ تاثر بھی دیا جا رہا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ متوقع ہے، جس کے باعث شہری زیادہ مقدار میں پٹرول خریدنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم اس صورتحال سے فلنگ اسٹیشن مالکان کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔

